تازہ تر ین

کیپٹن صفدر جے آئی ٹی کو برداشت نہ کر سکے ”جے آئی ٹی میں لگتا تھا جنگی قیدی بیٹھے ہوں“

اسلام آباد(ویب ڈیسک) ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف بیٹی اور داماد کے ہمراہ احتساب عدالت میں پیش ہوئے، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر روسٹرم پر آئے اور بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا جے آئی ٹی میں سخت ماحول تھا، جیسے جنگی قیدی بیٹھے ہوں۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نیب ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں۔ سابق وزیراعظم کے داماد کیپٹن (ر) صفدر نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا میری عمر 55 سال ہے، گزشتہ 10 برسوں سے رکن قومی اسمبلی ہوں، سپریم کورٹ نے زیرالتوا درخواستوں کو نمٹانے کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دی، مجھے اور میری اہلیہ کو 20 اپریل کے فیصلےمیں شامل تفتیش ہونے کی کوئی ہدایت نہیں تھی۔ پراسیکیوٹر نیب نے کیپٹن (ر) صفدر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا میرے بس میں نہیں 5، 6 لوگ آپکے پیچھے بھی کھڑے کر دیتا، کتنی ذیادتی ہے آپ اکیلے کھڑے ہیں۔
نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے کیپٹن (ر) صفدر کا بیان انکے وکیل کی جانب سے لکھوانے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا آپ سب کے جواب تو ایک ہی سانچے جیسے ہیں، ہم نے ان کو اتنا ریلیکس کر رکھا ہے لیکن یہ جواب دینے کا کوئی طریقہ کار نہیں، سوال ملزم سے کیا جائے اور جواب وکیل دے، تینوں ملزمان کے جوابات ایک جیسے ہیں عدالت کا وقت بچایا جائے۔ جس پر وکیل امجد پرویز نے کہا جب سوال ایک جیسے ہوں گے تو جواب بھی ایک جیسے ہی آئیں گے۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا ہم تو کسی گواہ سے ملیں تو انہیں اعتراض ہوتا ہے، یہ ملزم کا بیان لکھ بھی لائیں تو کوئی مسلئہ نہِیں، گواہ کو ملنا بہت بڑا گناہ ہے، ملزمان کے ایک جیسے بیان پر ہمیں فائدہ ہے، اتنا فئیر ٹرائل کبھی نہیں ہوا۔ وکیل امجد پرویز نے کہا یہ بحث کی باتیں ہیں، آج میرے موکل کا بیان مکمل نہیں ہوگا، تاریخ گواہ ہے کہ یہ کیا ہے۔ نیب پراسیکیوٹر نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا لگتا ہے کیپٹن صفدر صاحب ! آپ سوال پڑھ کر ہی نہیں آئے، جس پر انہوں نے جواب دیا سوال ہی نہیں پوری تراویحیاں بھی پڑھیں ہیں، اب تک 55 سوالات پڑھ چکا ہوں۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain