اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں ٹریفک سگنلز تو موجود ہیں مگر ان ٹریفک قوانین کی پابندی نہیں کی جاتی۔ ٹریفک قوانین پر پابندی کروانا کس کا فرض ہے؟ اس حوالے سے چینل فائیو کے پروگرام ”ہاٹ لنچ“ میں ملک میں ٹریفک قوانین اور اس میں حائل مسائل عوام کے سامنے لائے گئے۔ ٹریفک وارڈنز موجودگی کے باوجود بے ھنگم ٹریفک کو کنٹرول کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ لوڈشیڈنگ و دیگر وجوہات کی بنا پر بڑی شاہراﺅں پر ٹریفک سگنل بند کر دیے جاتے ہیں جسکے باعث اکثر ٹریفک پھنسی دکھائی دیتی ہے اور منٹوں کا سفر گھنٹوں کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔ ٹریفک پولیس کیساتھ عام شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ ٹریفک قوانین پر عمل کریں اور اشاروں کو سائن بورڈز کو فالوں کریں۔ تاکہ ٹریفک پھنسنے کیساتھ حادثات سے بھی بچا جا سکے۔ شہروں میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہونے پر عوامی شکایات منظر عام پر ہیں۔ جس پر مختلف شہروں سے نمائندہ چینل فائیو نے صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس سے قبل میئرلاہور کرنل (ر) مبشر نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے حوالے سے ہر قدم میں ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹریفک کے قواعدوضوابط ہیں اور سڑکوں پر سگنل بھی موجود ہیں۔ ٹریفک پولیس کیساتھ میں گزشتہ دنوں عوامی آگاہی مہم کا حصہ رہا ہوں اور احتیاطی تدابیر سے عوام کو آگاہی دیتا رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اسوقت اورنج ٹرین کیوجہ سے ٹریفک کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مگر یہی اورنج لائن عوام کی سہولت بنے گی۔ ضروری نہیں ہراشارے کے نیچے چار پولیس والے کھڑے ہوں۔ باشعور شہریوں کا کام ہے کہ ٹریفک سگنلز کی پابندی کریں۔ موٹر سائیکل اور رکشہ اپنی سائیڈ پر چلائیں عوامی آگاہی سے مسائل خود حل ہوجائینگے، انہوں نے کہ وی آئی پیز اور وی وی آئی پیز پروٹوکول کے لیے دو سے چار منٹ سے زیادہ ٹریفک کو بلاک نہیں کیا جاتا۔ میچز اور بیرون ملک سے خاص شخصیات کی آمد پر روٹس کو زیروکلیئرنس دینا پڑتی ہے اور ٹریفک کو 20سے 25 منٹ بلاک رکھا جاتا ہے۔ اگر فارن ٹیمز کو سکیورٹی نہ دکھائی جائے تو وہ نہیں آئینگے۔ دہشتگردی پر قابو پانے کے باوجود ایکسٹرا سکیورٹی دی جاتی ہے کہ وہ اعتماد کیساتھ آئیں اور پاکستان میں کرکٹ کھیلیں۔ پر قدام میں قصور سے ٹریفک کی صورتحال بتاتے ہوئے نمائندہ چینل فائیو سجاد انصاری نے کہا کہ قصور میں ٹریفک بلاک رہنا معمول بن چکا ہے۔ ماڈل سٹی بنائے جانے کے باجود ایک ٹریفک سگنل موجود نہیں۔ جسکے باعث بڑی شاہراﺅں پر ٹریفک بلاک رہتی ہے۔ٹریفک وارڈنر رکشوں اور موٹر سائیکلوں کے چالان کرتے ضرور نظر آتے ہیں مگر بلاک ٹریفک کی بحالی کے لیے اہلکاروں کو کام کرتے نہیں دیکھا گیا۔ مین چوک، ریلوے روڈ اور للیانی اڈہ چوک پر ٹریفک ناجائز تجاوزات کے باعث اکثر بند رہتی ہے۔ مگر انتظامیہ کیطرف سے توجہ نہیں دی جا رہی۔ سکھر سے نمائندہ چینل فائیو محمد ندیم نے بتایا کہ سکھر میں جگہ جگہ ٹوٹے ہوئے سگنلز اور بیئریر لگاکر ٹریفک بلاک کی جاتی ہے مگر پولیس یا ٹریفک پولیس کی جانب سے ٹریفک بنج کرنیوالا کوئی اہلکار موجود نہیں۔ ٹریفک جام کے وقت سکول کے بچوں اور رش کے باعث شدید حادثات ہوتے ہیں۔ سکھر کی عوام کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کا نعرہ ہے ”جیے بھٹو اور مرے عوام“۔






































