ملتان( میاں غفار) بے رحم احتساب اس وقت پوری قوم کا مطالبہ ہے اور قوم اس بات پر متفق ہے کہ پاکستان کا لوٹا ہوا تمام ترپیسہ واپس لایا جائے اور لٹیروں کو سزا دی جائے مگرگزشتہ روز خواجہ آصف کے حق میں آنے والے فیصلے نے امیدوں پرپانی پھیردیا ہے۔ ماضی میں جب سابق صدر فاروق احمدخان لغاری نے کرپشن کے الزام میں بے نظیربھٹو کی حکومت کاخاتمہ کیا تھا توانہوں نے ملک معراج خالدکونگران وزیراعظم بنایا۔ تب بھی سخت احتساب کا فیصلہ ہوا اورملک معراج خالد کو یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ الیکشن کم از کم 2سال نہیں ہوں گے اور سخت ترین احتساب ہوگا مگراس دوران مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے ایک لابنگ فرم کے ذریعے امریکی صدرکلنٹن سے معاملات طے کرلیے اور امریکی حکومت کی طرف سے پاکستان اسٹیبلشمنٹ اورنگران حکومت کوواضح پیغام دیاگیا کہ نوازشریف نے وعدہ کیا ہے وہ اقتدارمیں آکر بھارت سے تجارت کرے گا اور بھارت سے کسی بھی قسم کی محاز آرائی نہیں ہوگی لہٰذا الیکشن کروائے جائیں اور احتساب کاعمل روک دیاجائے۔ امریکی اداروں کی طرف سے ملنے والے واضح پیغام کے بعد فاروق لغاری سمیت تمام حکومتی ادارے احتساب کے عمل کوبھول کر بروقت الیکشن کروانے پرمجبور ہوگئے۔ نوازشریف کے اقتدار میں آنے کے بعدنوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز مبینہ طور پر بھارت جاکر بال ٹھاکرے سے بھی ملے کہ ان پر ہولاہتھ رکھاجائے اورانہیں بھارت میں شوگر وسٹیل ملیں لگانے دی جائیں اس دورمیں نوازشریف کی دوستی بھارتی سٹیل کنگ جندال سے ہوئی۔ انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق نوازشریف گزشتہ 3ماہ سے پھر وہی گھناو¿نا کھیل کھیل رہے ہیں اور ڈان اخبار کو انٹریو بھی اس کھیل کاحصہ ہے کہ امریکہ کوپیغام دیا جاسکے میں اسی تنخواہ پرخدمات کےلئے حاضر ہوں۔ ذرائع کے مطابق اس مرتبہ حالات قدرے مختلف ہیں کہ موجودہ حالات میں پاکستانی فوج، اسٹیبلشمنٹ اوردیگرادارے امریکہ سے تناو¿ میں ہیں۔ اس لیے اس تناو¿ کے ماحول میں امریکہ براہ راست دباو¿ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں ہے مگرنوازشریف مسلسل یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ بھارت کے حوالے سے امریکی پالیس پر من وعن عمل کریں گے۔ نوازشریف 2013ءمیں عالمی قوتوں سے یہ وعدہ بھی کرکے آئے تھے کہ وہ توہین رسالت کاقانون ختم کریں گے مگرسخت عوامی دباو¿ کی وجہ سے وہ ایسا نہ کرسکے۔ اس وجہ سے بھی نوازشریف کے پیغامات مو¿ثرانداز میں عالمی اسٹیبلشمنٹ کونہیں پہنچ رہے اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سخت احتساب پرڈٹی ہوئی ہے ۔ اگلے چنددنوں میں صورتحال واضح ہوجائے گی کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور احتساب کے جاری عمل کاانجام کیا ہوتا ہے۔ کیونکہ نوازشریف اس وقت مکمل طور پر امریکی اورعالمی اسٹیبلشمنٹ کوخوش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔





































