تازہ تر ین

محکمہ تعلیم کا کلرک کروڑ پتی بن گیا کئی فیکٹریوں کا مالک کیسے بن گیا تہلکہ خیز خبر

لاہور (کرائم رپورٹر)اینٹی کرپشن پنجاب سمیت وزیر اعلی شکایت سیل اور دیگر احتسابی اداروں میں انوکھی درخواست دائر، محکمہ تعلیم میں بطور کلرک بھرتی ہونے والے محمد یونس پرمبینہ طور پر کرپشن کی کمائی سے کروڑوں روپے کمانے اورمتعدد فیکٹریوں کے مالک ہونے کا نکشاف ، بجلی چوری کے مقدمات میں بھی نامزد ہے ،Act XLV-1860کی دفعہ 168اور 169کے تحت سرکاری ملازم بغیر این او سی کے دیگر کام نہیں کرسکتا ،محمد یونس نے اپنی بیٹی اور بہنوئی کو بھی محکمہ تعلیم میں بھرتی کروالیا ، متعلقہ اداروں کی جانب سے کاروائی میں نامعلوم تاخیر ملزم کے حوصلے بلند کرنے لگی۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلی شکایت سیل اور پنجاب اینٹی کرپشن سمیت دیگر احتسابی عدالتوں میں فیروز والا کے علاقہ رچنا ٹاﺅن کے رہائشی محمد یونس کے خلاف متعدد درخواستیں دائر ہوچکی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ملزم نے دوران سرکاری ملازمت بہت بڑے پیمانے پر کرپشن کی ہے ۔ ملزم کے خلاف وزیر اعلی شکایت سیل کو موصول ہونے والی درخواست میں لکھا ہے کہ محمد یونس ایف اے پاس کرکے محکمہ تعلیم میں بطور کلرک بھرتی ہوا تو اس وقت اس کے پاس صرف اپنے ذاتی ایک گھرکے سوا اور کچھ بھی نہیں تھا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے وہ تین فیکٹریوں کا ملک بن گیا جو کہ رشوت کی کمائی سے بنائی گئی ہیں ۔محمد یونس کی ایک فیکٹری بھُلہ پھاٹک فیروز والا رچنا ٹاﺅن ، دوسری سگیاں پل لاہور اور تیسری دروغہ والا میں واقع ہیں جبکہ ملزم کے خلاف بجلی چوری کی ایف آئی آر بھی درج ہو چکی ۔ درخواست میں مزید بتایا گیا ہے کہ ملزم نے محکمہ تعلیم میں اپنی بیٹی ،بھائی اور بہنوئی غلام حیدر کو بھی ملازمت پر لگوا لیا ہے جبکہ اپنی بیٹی کو سرکاری ملازمت کے مقررہ قوانین سے قبل ہی ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں تبادلہ بھی کروا لیا ہے ۔ محمد یونس کا ایک بھائی بھی ہے جسے پڑھنا لکھنا تک نہیں آتا لیکن اسے بھی اس نے محکمہ تعلیم کے دیگر کلرکوں سے ملی بھگت کر کے نارنگ منڈی کے ایک سکول میں بھرتی کروا دیا ہے تاہم اگر ان تمام کی انکوائری کی جائے تو بہت کچھ سامنے آئے گا ۔ سرکاری ملازم اگر بغیر اجازت کوئی دیگر کام کرے تو کنڈکٹ رول 1964/1966کی شق 16کے تحت اس کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے جبکہ سرکاری ملازمت کے ساتھ دیگر کام کرنے کیلئے محکمہ سے این او سی لینا پڑتا ہے جو کہ اس کے پاس موجود نہیں ۔ تعزیرات پاکستان (Act XLV-1860)کی دفعہ 168اور 169کے تحت اگر کوئی سرکاری ملازم این او سی کے بغیر نوکری کے علاوہ کاروبار کرے تووہ ایک سال سزا اور جرمانے کا مرتکب ہوتا ہے ۔اس کے علاوہ پیڈا ایکٹ 2006کے تحت محکمہ تعلیم کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے افراد کے خلاف کاروائی کرے لیکن نامعلوم وجوہات کی بناءپر اس کے خلاف کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں کی جارہی ۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain