تازہ تر ین

محکمہ آبپاشی کا سزا یافتہ ایکسین کروڑوں کی لوٹ مار میں ملوث کس کس کی سر پرستی رہی؟ دیکھے خبریں کی خبر

لاہور (ملک مبارک سے) محکمہ آبپاشی کے سزا یافتہ ایکسیئن عارف بھٹی نے مغلپورہ ورکشاپ میں 22 کروڑ کی لوٹ مار کے بعد بھلوال ورکشاپ میں بھی سال 2017-18 کے دوران ساڑھے آٹھ کروڑ روپے لی بھگت سے خوردبرد کر لئے، تقریبا 3 کروڑ روپے ہینڈ رسید کے نام پر سیلف چیک کے ذریعے رقوم نکلوا کر ہڑپ لئے گئے جبکہ تخمینہ جات کی تاحال منظوری بھی نہ ہو سکی ،کرپٹ مافیا نے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ جنرل سیلز ٹیکس اور پنجاب ریونیو اتھارٹی ٹیکس کی مد میں بھی لاکھوں روپے کا نقصان پہنچایا ۔سیکرٹری آبپاشی اور ڈائریکٹر جنرل اکاﺅنٹس ورکس نے بدعنوان ایکسیئن عارف بھٹی کیخلاف درخواستیں ملنے کے بعد کوئی کارروائی نہ کی ، معاملہ دبا کر سب اچھا ہے کی رپورٹ جاری کر تے ہوئے بدعنوان ایکسیئن عارف بھٹی اور دیگر افسران کو قومی خزانے سے لوٹ مار جاری رکھنے کا” خاموش پیغام “دیدیا گیا ۔ذرائع کے مطابق محکمہ آبپاشی میں کرپشن کے حوالے سے بدنام اور قومی خزانے سے کروڑوں روپے کی لوٹ مار پر سزا یافتہ ایکسیئن عارف بھٹی سیکرٹری آبپاشی آفس کے کرپٹ مافیا کا منظور نظر بتایا جاتا ہے جسے من پسند جگہ پر تعینات کر کے قومی خزانے سے بڑے پیمانے پر لوٹ مار کی جاتی ہے ، بدعنوان ایکسیئن عارف بھٹی چند سال قبل قصور ڈویژن میں تعینات تھا جہاں پر تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ نے کروڑوں روپے کی کرپشن کی نشاندہی کی جس پر اس وقت کے سیکرٹری آبپاشی نے انکوائری کروائی اور جرم ثابت ہونے پر بدعنوان ایکسیئن عارف بھٹی ، ایس ڈی او رمضان بھٹہ سمیت سب انجینئروں سے لاکھوں روپے ریکوری کر کے قومی خزانے میں جمع کروانے کا حکم دیا اور بدعنوان ایکسیئن عارف بھٹی کی پرموشن اور دو سال کی انکریمنٹ بھی روک دی اور بدعنوان ایکسیئن عارف بھٹی کو معطل کر دیا حالانکہ جرم ثابت ہونے پر ملازمت سے نکال دیا جانا چاہیے تھا ،لیکن بااثر بدعنوان ایکسیئن عارف بھٹی نے سیکرٹری آبپاشی میں موجود کرپٹ مافیا کو بھاری رشوت دے کر نہ صرف خود کو بحال کرا لیا بلکہ من پسند پرکشش جگہ مغلپورہ ورکشاپس میں تعیناتی کروا لی ۔سیکرٹری آفس کے کرپٹ مافیا کی سرپرستی میں بدعنوان ایکسیئن عارف بھٹی نے مغلپورہ ورکشاپ میںاپنے ایس ڈی اوز ، اوورسیئرز کی ملی بھگت سے ، ڈویژنل اکاﺅنٹس افسران رانازاہد اور خدیجہ جمیل علوی کو ریگولر کمیشن کے علاوہ 5 فیصد کمیشن دے کر 22 کروڑ روپے کی بوگس ادائیگیاں کیں ، اس کرپشن کیخلاف سیکرٹری آبپاشی اور ڈی جی اکاﺅنٹس ورکس محسن عطاءکو درخواستیں دی گئیں لیکن کوئی کارروائی نہ ہو سکی الٹا سب اچھا ہے کی رپورٹ دے کر کرپٹ مافیا کی حوصلہ افزائی کی گئی اور انہیں قومی خزانے سے لوٹ مار کی کھلی اجازت دی گئی ۔یہ امر قابل غور ہے کہ اسی پوسٹ پر تعینات سابق ایکسیئن عابد زیدی پر 18 کروڑ روپے کی کرپشن کا الزام تھا جس پر اس وقت کے سیکرٹری نے ڈی جی انٹی کرپشن کوکیس بھیج دیا اور سابق ایکسیئن عابد زیدی ، سابق سپرنٹنڈنگ انجینئرنگ لطافت قسیم سمیت دیگر افسران کو نہ صرف معطل کیا گیا بلکہ وہ جیل بھی گئے اور تاحال اس کیس میں سزا بھگت رہے ہیں لیکن بدعنوان ایکسیئن عارف بھٹی نے 22 کروڑ روپے کی اسی طرح کرپشن کی جس طرح عابد زیدی نے کی اور وہی ٹھیکیدار تھے لیکن سیکرٹری آبپاشی کے کرپٹ مافیا کی سرپرستی کے باعث بھاری رشوت لے کر نہ صرف معاملہ دبا دیا گیا بلکہ بدعنوان ایکسیئن عارف بھٹی کی خواہش پر بھلوال ورکشاپ میں تعیناتی کرا دی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بھلوال ورکشاپ میں بھی بدعنوان ایکسیئن عارف بھٹی نے سیکرٹری آبپاسی کے کرپٹ مافیا کی سرپرستی میں لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھا اور پیپرا رولز کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے سال 2017-18 میں قومی خزانے کو ساڑھے آٹھ کروڑ روپے کا ٹیکہ لگا دیا ، 3 کروڑ روپے سیلف چیک کے ذریعے نکلوا کر جعلی ہینڈ رسیدوں کے ذریعے بندر بانٹ کئے گئے ، ڈویژنل اکاﺅنٹس افسر شاہد کو دیگر کمیشنوں کے علاوہ 5 فیصد کمیشن دے کر کروڑوں روپے کے فنڈز غیر قانونی طور پر تخمینہ جات کی منظوری کے بغیر ہی جاری کروا لئے گئے ۔پیپرا رولز کی خلاف ورزی کے باعث قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا جبکہ دوسری طرف جنرل سیلز ٹیکس اور پنجاب ریونیو اتھارٹی ٹیکس کی مد میں بھی حکومت کو ہر ماہ لاکھوںروپے کا ٹیکہ لگا یا جا رہا ہے ۔یہ امر حیران کن ہے کہ ایک طرف سابق وزیر اعظم نواز شریف کو کرپشن کے الزامات پرنہ صرف وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونے پڑے بلکہ نیب اور احتساب عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ایک گریڈ 18 کا انتہائی کرپٹ ایکسیئن سیکرٹری آفس کے کرپٹ مافیا کی سرپرستی میں حکومت کی چھاتی پر مونگ دل رہا ہے جو پنجاب حکومت، انٹی کرپشن اور وزیر اعلیٰ معائنہ ٹیم کے منہ پر طمانچہ جبکہ نیب کےلئے ایک کھلا چیلنج ہے جو ”احتساب سب کےلئے“ کے نعرہ پر چل رہی ہے۔ واضع رہے عارف بھٹی کے خلاف محکمہ انٹی کرپشن میں بھی کرپشن کے6کیسز زیر التو ا ہیں۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain