اسلام آباد(ویب ڈیسک)سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پیشی پر آئے وزیراعلی پنجاب شہباز شریف سے چیف جسٹس میاں محمد ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ بتائیں آپ نے عوام سے کیا گیاکون سا وعدہ پورا کیا؟شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مجھے بولنے کا موقع تو دیا جائے میں نے اربوں روپے کی بچت کی۔160ارب روپے سے ایک ڈھیلہ بھی کم ہوا تو جوچاہیں سزا دیں،چیف جسٹس نے ریماکس دیئے کہ آپ نہ بھی بات کریں تو آپ کو کرنی پڑے گی یہ لوگ آپ سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں۔ میں نے آپ کو مخصوص سوال کے جواب کے لیے بلایاہے ، کمپنیوں میں پچیس پچیس لاکھ پران لوگوں کوکیوں رکھاگیا،میں آپ کے جواب سے غیر مطمئن ہوں،احتساب کے لیے کوئی اورادارہ ہے وہ اپنا کام کرے گا،میں آپ کے احتساب کے لیے نہیں بیٹھا۔وہ پیسا واپس آناچاہیے،آپ کریں یاجن لوگوں نے یہ پیسا لیاہے۔واضح رہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے شہبازشریف کو 56 کمپنیزکیس میں طلب کر رکھا تھا۔





































