تازہ تر ین

بیورو کریسی اور سیاستدان بے حس ، کالا باغ ڈیم کی تعمیر ضروری ، ہر حال میں بنایا جائے

ملتان(رپورٹ: سجاد بخاری+ مہدی شاہ، تصاویر: عبیداللہ) چند لاشیں گرانے سے اگر کالا باغ ڈیم بنتا ہے تو تاخیر نہ کی جائے۔ سابق واٹر کمشنر جماعت علی شاہ قوم کا غدار ہے، اسے پھانسی دی جائے۔ ضیاشاہد کو چاہےے کہ وہ کالا باغ ڈیم کے لئے سپریم کورٹ میں رٹ کریں۔ سپریم کورٹ فوج کو حکم دے کہ وہ کالا باغ ڈیم فوری بنائیں۔ عوام کو چاہےے کہ وہ ایسی جماعت کو اقتدار میں لائیں جو کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو اپنے منشورمیں شامل کریں۔ ملک کی کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کو اس اہم ایشو کا احساس نہیں ہے۔ بیوروکریسی کرپٹ اور سیاستدان بے حس ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے 20کروڑ عوام اگلے پانچ برسوںمیںپانی کی بوند بوند کو ترسیں گے۔ ان خیالات کااظہار ”خبریں“ واٹر فورم میں آنے والے معزز مہمانوں نے کیا۔ جن میں انجینئر ممتاز احمد خان، میاں اقبال حسن، ہمایوں خان سدوزئی، عبدالصمد، سہیل احمد خواجہ، مرزامحمد شریف، زاہد حسین گردیزی، منیر شاہین اور محمد خان سدوزئی نے کیا۔ انجینئر ممتاز احمد خان نے کہا کہ بہت سے ایسے حقائق ہیں جو عام شہری نہیں جانتے۔ بطور انجینئر پانی کے حوالے سے جو تحقیق کی ہے اس کے پیش نظر اب باتوں کا وقت ختم ہو چکا ہے اور کام کا وقت شروع ہے۔ گزشتہ 20برسوں سے ہم پانی کے مسائل کاشکار ہوتے چلے آرہے ہیں۔ جہاں 4ہزار کیوسک بہتر تھا اب 19سو کیوسک بہہ رہا ہے جس کی وجہ سے خریف کی کاشت آدھی بھی نہ ہوسکی ہے۔ پانی کی حالت یہ ہے کہ جہاں منگلا ، تربیلا میں 36لاکھ ایکڑ کا پانی ذخیرہ ہو جاتا تھا وہاں اب صرف 2لاکھ کا ذخیرہ پڑا ہے۔ 12ہزار کیوسک والی نہروں میں اب 9سو کیوسک پانی بہہ رہا ہے۔ پورے ملک میں نہروں کا یہی حال ہے جبکہ جنوبی پنجاب میں پانی کے اس بحران سے نقصان کا اندیشہ زیادہ ہے۔ تین مشرقی دریا جنوبی پنجاب سے بہتے ہیں اور یہ یہاں کی کاشت اور پیداوار کا ذریعہ ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پانی جو ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اب اس کا ذخیرہ ہمارے پاس نہیں رہا ہے۔ پاکستان کے دریاﺅںپر گزشتہ 45برسوں سے ایک بھی ڈیم نہیں تعمیر ہوسکا ہے۔ حکومتیں خواب غفلت میں سوتی رہی ہیں۔ ڈیموں میں پانی کی کمی کی وجہ سے زراعت تباہی کے دہانے پر ہے، ہم اپنی غفلت اور بے وقوفی سے ہرسال 80سے 90ملین فٹ پانی سمندرمیں گرا رہے ہیں۔ ایک ملین پانی 2ارب کی معیشت کے برابرہے۔ اب اگر مزید ڈیم نہ بنے توہم بہت بڑے حادثے سے دوچار ہوں گے اور اسکے لئے کالا باغ ڈیم کا بننا ضروری ہے۔ انڈیا نے بڑے منظم طریقے سے سفید بغلے کو کالا ثابت کردیا ہے جبکہ ہم سفید کو سفید ثابت کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ کالا باغ ڈیم پر تمام اعتراضات بے بنیاد اورجھوٹے ہیں۔ ہمارے پاس شمس الملک جیسے انجینئر ہیں۔ شمس الملک جو خود نوشہرہ سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ کالا باغ ڈیم سے نوشہرہ بالکل نہیں ڈوبے گا اور اگر ڈوبا تو سب سے پہلے موت مجھے آئے گی۔ انجینئر ممتاز احمد خان نے مزید کہا کہ اب تک کالا باغ ڈیم پر جتنے بھی افراد نے رائے دی وہ سیاسی ہیں جبکہ میری تجویز یہ ہے کہ پورے ملک سے اور خاص طور پر سندھ سے انجینئرز کو بلایا جائے اور ان سے رائے لی جائے اور مجھے یقین ہے کہ کسی بھی ایک انجینئر نے کالا باغ ڈیم کی مخالفت نہیں کرنی اور فوری ڈیم کی تعمیر کی ضرورت پر زوردینا ہے۔ میاں اقبال حسن نے کہا کہ ہمارا ملک بنیادی طور پر زرعی ہے اور پانی کے بغیر زراعت ممکن نہیں ہے۔ ہماری اکانومی کا انجن پانی کی کمی کی وجہ سے فیل ہو چکا ہے اور اب اس مسئلے سے نکلنے کے لئے 4سے 5سال کا عرصہ درکار ہے اور اس کا حل آنے والی حکومت ہی نکال سکتی ہے۔ ہمارے حصے کاپانی انڈیا لے گیا ہے، جب تک ڈیم نہیں ہوں گے اس پانی کا فائدہ ہی نہیں ہے اور اب انڈیا ہمیں آسانی سے پانی نہیں دے گا، اب ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ موجودہ الیکشن میں ایسی جماعت کو سپورٹ کیا جائے جو کالا باغ ڈیم اور نیوکلیئر ٹیکنالوجی پر کام کرے، لوگوں کو شعور دینا ہوگا۔ ڈیمز ہونے سے بجلی کی پیداوار زیادہ ہوتی اور بجلی سستی ہوتی اور چوری نہ ہوتی۔ کالا باغ ڈیم سیاست کی نذر ہوگیا۔ ہماری بدقسمتی تو یہ ہے کہ ایک ایم این اے کی جعلی ڈگری کا کیس چلتا رہا جبکہ اسے سائنس وٹیکنالوجی کا وزیر بنا دیا گیا۔ یہ کسی المیہ سے کم نہیں ہے۔ زاہد حسین گردیزی نے کہا کہ اللہ رب العزت نے پانی کی تقسیم خودکی ہے اور دنیا کے پانی کا صرف تین فیصدانسانی استعمال کے لئے رکھاگیا ہے۔ پاکستان کے لوگ بہت خوش قسمت ہیں کہ اللہ نے ہمیں کثیر مقدار میں پانی دیاہے۔ پانچ دریا دیئے ہیں مگر ہمارے حکمرانوں کی بے شعوری کی وجہ سے مفت جانے والاپانی بھی ضائع کردیا اور اسے جمع کرنے کے لئے کوئی ڈیم نہ بنایا۔ کالاباغ کے ذریعے پانی کو بچایا جاسکتاہے مگر سیاستدانوں کی سازشوں نے کالا باغ ڈیم تعمیر نہ ہونے دیا۔بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق ہماری زرعی پیداوار نصف ہو جائے گی۔ انڈیا اب انڈس کو بھی اپنی طرف موڑ رہا ہے۔ بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ تو سنی تھی مگر جاہل مفاد پرست حکمرانوں کی وجہ سے پانی کی لوڈشیڈنگ بھی دیکھنے اور سننے کو مل گئی ہے۔ اس کا فوری حل کاشتکاروں کو سولر دیئے جائیں، ملک میں واٹر ایمرجنسی لاگو کی جائے۔ لوگوں کو پانی کے استعمال کے بارے معلومات دی جائیں۔ کالا باغ ڈیم چونکہ پاکستان کی بقاءکے لئے اب بہت ضروری ہو چکا ہے لہٰذا اگر لاشوں پر بھی بنانا پڑے تو بنایا جائے۔ انجینئر ہمایوں خان سدوزئی نے کہا ایوب خان مرحوم نے کالا باغ اور تربیلا ڈیم کا منصوبہ دیا۔ تربیلا بن گیا مگر ایوب خان کے ساتھ ہی کالا باغ بھی دفن ہو کر رہ گیا اور اگر کسی پارٹی کا کالا باغ ڈیم اور تربیلا ڈیم کا منصوبہ دیا۔ تربیلا بن گیا مگر ایوب خان کے ساتھ ہی کالا باغ ڈیم بھی دفن ہو کر رہ گیا۔ اگرکسی پارٹی کو کالا باغ ڈیم کا نام برا لگتا ہے تو وہ اپنے کسی لیڈر کے نام پر ڈیم رکھ لیں مگر ڈیم ضرور بنائیں۔سیاسی پارٹیاں اب واٹر پالیسیاں دیں تاکہ ووٹ دینے سے قبل ان کے مقاصد دیکھے جا سکیں۔ المیہ یہ ہے کہ زراعت اور پانی کے مسئلے پر کوئی سیاسی پارٹی سنجیدہ نہیں ہے۔ انجینئر عبدالصمد نے کہا کہ غلط پالیسیوں کی وجہ سے اب کوئی جماعت اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیںہے ۔ کالا باغ پر تو ضیاءالحق نے بھی کمیٹی بنا کر تمام خدشات دور کئے تھے۔ کالا باغ ڈیم سے 50لاکھ ایکڑ رقبہ زیر آب آنا تھا۔ کالا باغ کا جمع شدہ پانی تین سال تک ہمارے استعمال میں آسکتا ہے۔ کالا باغ کے بننے سے کے پی کے گندم کے معاملے میں خودکفیل ہوجائے گا۔انجینئر خواجہ اورنگزیب نے کہا کہ ”خبریں“ اور ضیاشاہد نے پانی کے مسئلے پر سب سے پہلے آواز اٹھائی ہے۔تمام سیاستدان پر فورم پر کالا باغ ڈیم کی اہمیت کو مانتے ہیں مگر پبلک فورم پر کالا باغ کی اہمیت کو سیاسی مسائل کی نظر کر دیتے ہیں۔ محمد خان سدوزئی نے کہا کہ بہت عرصے سے سنتے آرہے تھے کہ پانی کا مسئلہ درپیش آنا ہے مگریقین نہیں آتاتھا۔ آج حقائق دیکھے تو پتہ چلا کہ واقعی یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ہمیں فوری طور پر سکول و کالج لیول پر بچوں، نوجوانوں میں پانی کے کم استعمال اور ضیاع ہونے سے بچانے کے لئے آگاہی مہم شروع کی جانی چاہےے۔ کالا باغ ڈیم کی ضرورت اب بڑھ گئی ہے۔ انجینئر سہیل احمد خواجہ نے کہا کہ پانی کے بڑھتے ہوئے مسئلے کے فوری حل کے لئے کالا باغ ڈیم فوری تعمیر کیا جائے اور اسکی تعمیر میں کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہ لایاجائے۔ انجینئر مرزامحمد شریف نے کہا کہ ہمارا مسئلہ موٹروے یا میٹرو نہیں تھا مگر حکومت کے ذاتی مفادات ان منصوبوں میں تھے جبکہ انڈیا کی حکومتوں کی توجہ عوامی منصوبوں پر رہی اور انہوںنے دریاﺅں پر ڈیم بنائے جس کی وجہ سے ہم اپنا پانی کا کیس بھی ہارگئے۔ ڈیم کے لئے اگر 4,2لاشیں گرتی ہیں تو گرا دیں کیونکہ ملکی مفاد سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا ہے۔ ہمارے نااہل حکمرانوں نے ہمیں ایسے دو راہے پر کھڑا کیا ہے کہ سخت فیصلے کرنے ہونگے۔ منیر شاہین نے کہا کہ ”خبریں“ ، ”چینل۵“ اور ضیاشاہد گزشتہ2برسوں سے پانی پر بول رہے تھے مگر حکومت نے توجہ نہ دی اور آج وہ مسئلہ ہمارے سرپر کھڑا ہے۔ پانی کے لئے ہمارے سروسز کیا ہیں۔ بارش، برف۔ انڈیا نے ڈیم بنا کر زیادتی تو کی ہے مگرہمارے سیاستدانوں نے اس سے بڑی زیادتی کی ہے۔ ہمارے سیاستدانوں نے نہ تو ڈیم بنائے بلکہ بھارت کی زبان بولتے رہے اور کہا کہ ڈیم ہماری لاشوں پر بنے گا۔ بھارت روٹین کا پانی تو روک سکتا ہے مگر بارشوں کا پانی نہیں روک سکتا مگر بدقسمتی ہے کہ ڈیم نہ ہونے سے بارش کا پانی نقصان کرتا ہوا ضائع ہوجاتا ہے۔ 2حکومتی سطح پر ڈیموںِ، پانی، زراعت پر کام نہیں ہورہا، میڈیا بھی خاموش رہا۔ مگر اب ضرورت یہ ہے کہ اب جو یہ سلسلہ شروع ہوا ہے یہ رکنا نہیں چاہےے۔ ہر ووٹر کو چاہےے کہ وہ اپنا ووٹ پانی، ڈیم بنانے کی شرط پر دے۔ (i)ڈیم بناکر پانی کو ضائع نہ ہونے دیا جائے اور عوام کو معلومات دی جائیں۔پانی کے ضیاع کو روکا جائے۔ہماری زمینوں کے اندر کڑوے پانی کو میٹھا کرنے کے لئے پلانٹ لگائے جاسکتے ہیں۔ تمام پولیٹیکل سربراہوں کو بھی بلا کر ان سے بھی اس موضوع پر بات کی جائے۔ جب تک لوگ اس پر بات نہیںکریںگے، بولیں گے نہیں اس وقت تک کچھ نہیں ہوگا۔ دریں اثناءواٹر فورم میں ضیاشاہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے شرکاءواٹر فورم نے کہا کہ ضیاشاہد پاکستان کے واحد صحافی ہیں جنہوں نے ہمیشہ قومی مسائل پر بالعموم اور جنوبی پنجاب کے مسائل پر بالخصوص اجاگر کیا ہے۔ صوبے کا مسئلہ، سعود کے بارے آگاہی مہم ہو، مظلوم خواتین کے ساتھ زیادتی کیسز ہوں اور اب پانی کا ایشو جو کہ ہماری آنے والی نسلوں کی زندگی اور موت کا سوال ہے کو اجاگر کرکے قوم پر احسان کیا ہے۔
واٹر فورم


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain