لاہور (اے این این) سپریم کورٹ نے کاغذات نامزدگی فارم سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کردیا۔ تفصیلات کے مطابق انتخابات میں امیدواروں کے نامزدگی فارم میں کی گئی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن اور اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے سپریم کورٹ میں الگ الگ درخواستیں دائر کی تھیں جنہیں سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا۔ اتوار کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے ان دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ سماعت کے آغاز میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور الیکشن کمیشن کے وکلا کی جانب سے دلائل کا آغاز کیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ 2 دن سے کاغذات نامزدگی وصول کرنے کا عمل روک رکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی شیڈول جاری کیا جاچکا، تاہم نامزدگی فارم میں تبدیلی کے معاملے سے عام انتخابات میں تاخیر ہوگی۔ اس لیے آپ کے پاس حاضر ہوئے ہیں۔ سردار ایاز صادق کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا نامزدگی فارم کی قانون سازی کالعدم قرار دینا بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو کسی بھی معاملے پر قانون سازی کا اختیار حاصل ہے۔ دونوں درخواست گزاروں کی جانب سے استدعا کی گئی کہ نامزدگی فارم کے معاملے کی وجہ سے انتخابات میں تاخیر ہوسکتی ہے لہذا لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں کی طرف سے ابتدائی دلائل سننے کے بعد لاہور ہائی کورٹ کا نامزدگی فارم میں کی گئی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کے خلاف فیصلہ معطل کردیا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے دورانِ سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں آئندہ عام اتنخابات 25 جولائی کو ہی ہوں گے اور اگر انتخابات میں تاخیر ہوئی تو الیکشن کمیشن ذاتی طور پر اس کا ذمہ دار ہوگا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر درخواست میں مو¾قف اختیار کیا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں تضاد پایا جاتا ہے جس سے انتخابات کا شیڈول متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے یکم جون کو کاغذات نامزدگی فارم میں ترامیم کالعدم قرار دے کر الیکشن کمیشن کو نئے کاغذات نامزدگی تیار کرنے کا حکم دیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو کاغذات نامزدگی کے فارم اے اور بی میں تمام خامیاں دور کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارلیمنٹ نے ترمیم کرکے قرضہ جات اور نادہندگی کے جو خانے نکالے ہیں، وہ فارم میں موجود سمجھے جائیں گے۔39 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت عالیہ کا کہنا تھا کہ نئے کاغذات نامزدگی میں آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تقاضے دوبارہ شامل کیے جائیں۔





































