لاہور‘ اسلام آباد‘ ملتان‘ ہارون آباد‘ جامکے چٹھہ‘ پھالیہ‘ گوجرانوالہ‘ فیصل آباد‘ ملتان (خصوصی رپورٹ) لاہور سمیت ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر جاری ہے۔ سورج بدستور آگ برساتا رہا۔ شہری گرمی سے بے حال ہوگئے۔ شدید گرمی نے لاہور سمیت مختلف شہروں میں 8 افراد کی جان لے لی۔ دیگر اضلاع کی طرح گزشتہ روز لاہور میں بھی سورج دن بھر آگ برساتا رہا۔ چھٹی ہونے کی وجہ سے لوگ گھروں میں رہے۔ سڑکوں پر رش انتہائی کم رہا۔ درجہ حرارت 41.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ صوبائی دارالحکومت میںگرمی کی شدت کے باعث تین افراد ہلاک ہوگئے۔ برکی کے گاﺅں پدری کا رہائشی 63 سالہ محمد اکرم کو گزشتہ روز لو لگی اسے مقامی ہسپتال لے جایا گیا تاہم جانبر نہ ہوسکا۔ مغلپورہ کے علاقہ میں گرمی کے باعث پچاس سالہ نامعلوم شخص ہلاک ہوگیا۔ اسی طرح داتا دربار کے علاقہ میں 60 سالہ نامعلوم شخص پراسرارطور پر ہلاک ہوگیا۔ پولیس کے مطابق ہلاک شخص کو لو لگی ہے۔ پولیس نے تینوں افراد کی لاشیں قبضہ میں لے کر مردہ خانے جمع کروا دی ہیں۔ جامکے چٹھہ میں شدید گرمی اور لو لگنے سے دو افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ درجنوں ہسپتالوں میں داخل ہوگئے۔ نواحی گاﺅں ایوب نگر کا 40 سالہ محمد عارف مویشی چرانے پرانی نہر لوئر چناب کے حفاظتی بند پر گیا گرمی کی تاب نہ لاتے ہوئے اچانک گر کر موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ نواحی گاﺅں کوٹ رتہ کا 70 سالہ رحمت خان گرمی کی تاب نہ لاتے ہوئے اچانک دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوگیا۔ ادھر ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں شدید گرمی نے دو افراد کی جان لے لی جبکہ متعدد بے ہوش‘ 207 افراد گیسٹرو میں مبتلا ہوگئے۔ ملتان میں گرمی کی شدت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ درجہ حرارت بھی 45 سینٹی گریڈ سے کم نہ ہوا اور دن بھر دھوپ کی شدت اور گرم ہواﺅں نے شہریوں کو نڈھال کردیا۔ ملتان میں گیسٹرو کے 207 مریض مختلف ہسپتالوں میں لائے گئے۔ 158 کو داخل کیا گیا۔ چوک میتلا کے نواحی علاقہ کوئی ہاشم کا رہائشی غلام عباس عرف پپی گرمی کی شدت برداشت نہ کرسکا اور دم توڑ گیا۔ دائرہ دین پناہ کے قریب چوڑی بازار میں جاں بحق ہوگیا۔ تونسہ میں درجہ حرارت 48 ڈگری تک جا پہنچا۔ ہارون آباد میں گرمی کی شدت برداشت نہ کرتے ہوئے 60 سالہ شخص جاں بحق ہوگیا۔ چیئرمین یونین کونسل عبدالباسط جوئیہ کے ماموں غلام مرتضیٰ جوئیہ چمن بازار میں دکان پر بیٹھے تھے کہ گرمی کی شدت برداشت نہ کرتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ پشاور کا بارا بھی 43 تک چڑھ گیا۔ دن بھر لو چلتی رہی۔ گرم اور خشک موسم نے روزہ دار گھروں تک محدود ہوگئے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں گرمی کی شدید لہر جاری رہی۔ درجہ حرارت 47 ڈگری تک پہنچ گیا۔ گرمی کی شدت میں مسلسل اضافہ کے باعث لو لگنے سے درجنوں افراد ہسپتال پہنچ گئے۔ کوئٹہ میں بھی شدید گرمی کے باعث درجہ حرارت 41 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔ ادھر میرپور خاص سمیت زیریں سندھ کا ایک بڑا حصہ گرم اور شدید گرد آلود ہواﺅں کی لپیٹ میں آگیا۔ محکمہ موسمیات نے اگلے چند روز کے دوران پنجاب اوربالائی سندھ میں شدید گرمی کی پیش گوئی کی ہے۔ پنجاب کے نیم پہاڑی علاقوں ‘ خیبرپختونخوا اور کشمیر میں درجہ حرارت 140 ڈگری سینٹی گریڈ سےزیادہ جبکہ اندرون سندھ جنوبی اور وسطی پنجاب اور مشرقی بلوچستان میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے۔ اتوا ر کے روز ریکارڈ کئے گئے گرم ترین مقامات کے درجہ حرارت کے مطابق سبی 50‘بھکر‘ جیکب آباد‘ موہنجوداڑو‘ لاڑکانہ ‘ بہاولپور‘ رحیم یار خان اور دادو میں 148 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔





































