اسلام آباد ( خبرنگارخصوصی ) سپریم کورٹ میں انتخابی اصلاحات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک دفعہ پھر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سب یہ بات ذہن نشین کرلیںکہ عام انتخابات وقت پر ہونگے، جس میں ایک دن کی بھی تاخیر نہیں ہوگی ،دو یا تین ماہ کیلئے انتخابات ملتوی کرنے والی بات ذہن سے نکال دی جائے ،سب سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے جو ضابطہ اخلاق تیا رکیاگیا اس کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا،سپریم کورٹ انتخابی اصلاحات پر 2012 ءمیں فیصلہ دے چکی ہے،جس میں الیکشن کمیشن کے اختیارات کا بھی تعین کر دیا گیا ہے، اب کیا کیا جا سکتا ہے ،نئے کاغذات نامزدگی کی وجہ سے بہت سے امیدوار معلومات اکٹھی ہی نہیں کر سکے،اب اگر پرانے کاغذات نامزدگی بحال کیے جاتے ہیں تو امیدواروں کو بہانہ مل جائے گا کہ ہمارے پاس معلومات نہیں ہیں ، اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ انتخابات تاخیر کا شکار نہ ہوں۔ پیرکوچیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی توالیکشن کمیشن حکام نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں انتخابات کا ضابطہ اخلاق تیار کر لیا گیاہے، جس کے بعد سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو شفاف اور غیر جانب دارانہ الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا، اور عدالتی فیصلے کی روشنی میں تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد اتفاق رائے سے ضابطہ اخلاق تیار کیا گیا ہے لیکشن کمیشن کے حکام نے کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 ءکی منظوری کے بعد ضابطہ اخلاق پر نظر ثانی کی گئی اورالیکشن 2018 کے لئے نیا ضابطہ اخلاق تیار کیا گیا، سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے پیش ہوکر بتایا کہ یہ کہنا درست نہیں کیونکہ ضابطہ اخلاق 2017ءمیں ہی جاری ہوا تھا ،کاغذات نامزدگی کا معاملہ بدستور عدالت کے سامنے ہے۔ جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ انتخابات 2 یا 3 ماہ کیلئے ملتوی کرنے والی بات ذہن سے نکال دی جائے ،یہ بات باالکل واضح ہے کہ انتخابات وقت پر ہونگے،جس میں ایک دن کی بھی تاخیرنہیں ہوگی ،الیکشن کمیشن کی طر ف سے عدالت کو بتایا گیا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے ملکر ضابطہ اخلاق تیار کیا ہے ،درخواست گزار نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن خود کو با اختیار سمجھتا تو کاغذات نامزدگی کا تنازعہ ہی کھڑا نہ ہوتا لیکن وہ اپنے اختیارات کی بات نہیں کرتا ، سماعت کے دوران ڈاکٹر زبیر نے بطور ووٹر پیش ہوکر کہا کہ ووٹرز کا یہ حق ہے کہ ان کے منتخب نمائندے اثاثوں سمیت تمام چیزیں ظاہر کریں۔چیف جسٹس نے کہا کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم کاغذات نامزدگی کی پچھلی شقیں بحال کر دیں،ہم نے پارلیمنٹ کی بالادستی تسلیم کرتے ہوئے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا ہے، کیونکہ پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ ہے۔چیف جسٹس کے استفسارپرکہ آپ کا تعلق کہیں پی ٹی آئی سے تو نہیں ،اس پر درخواست گزار ڈاکٹر زبیرنے کہاکہ میں عدالت میں بطور ووٹر آیا ہوں، جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ جب پارلیمنٹ قانون بنانے کا حق رکھتی ہے، توووٹر کا حق کیسے متاثر ہوتا ہے یہ قانون سے ثابت کرنا ہوگا۔ بعدازاں عدالت نے کاغذات نامزدگی کی پرانی شقیں بحال کرنے سے متعلق کیس کل بدھ کو سماعت کیلئے مقرر کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ اس کیس کو سننے کیلئے لارجر بنچ تشکیل دیا جاسکتا ہے بعدازاں مزید سماعت ملتوی کردی گئی ۔





































