تازہ تر ین

پہلے امیدواروں کی سکروٹنی پھر الیکشن کروائے جائیں : خالد رانجھا، سیاستدانوں نے اثاثے چھپانے کیلئے انتخابی فارم میں تبدیلی کروائی : کنور دلشاد ، میرے والد نے ریحام سے کہا تم جاسوس اور میں جاسوسی میں ماسٹر ہوں ، ضیا ءصاحب اس حوالے سے آپکے اخبار نے لیڈ سٹوری چھاپی جو سوشل میڈیا پر بہت پڑھی گئی تھی : صاحبزادہ حمید گل کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ضیا شاہد نے کہا کہ یوم اقبال کی تقریب میں چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب تشریف لائے تھے اور اتفاق سے حامد میر، میں اور عارف نظامی صاحب اس تقریب میں تھے ہم نے اس میں تقریر کی اور اس کے بعد جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال صاحبہ تھیں اور سب سے آخر میں چیف جسٹس صاحب نے خطاب کیا۔ میں نے ہی اپنی تقریر میں یہ نقطہ اٹھایا تھا چیف صاحب جو کوئی کارروائی کر رہے ہیں مختلف عوامی مسائل کے لئے یہ بہت اچھی ہے تاہم ایک پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ شاید موجودہ حکومت اپنے آپ کو دوام بخشنے کے لئے کوئی الیکشن کی تاریخ سے پہلو تہی کرنا چاہتی ہے اس کے جواب میں چیف جسٹس نے اپنی صدارتی تقریر میں ہمارے ہی سامنے یہ کہا تھا کہ سوال میں پیدا نہیں ہوتا اگر ایک دن بھی الیکشن کی تاریخ بڑھائی گئی تو میں 15 ججوں کے ساتھ گھر چلا جاﺅں گا۔ ہم سب نے اس پر بڑی خوش کا اظہار کیا۔ میں عدالتوں اور ثاقب نثار صاحب کی۔ ثاقب نثار صاحب کے بارے میں تو جتنے کلر صفحات ہم نے چھاپے ہیں ہم نے ہمیشہ ان کی کاوشوں میں، پانی، گڈ گورننس کے سلسلے میں، زینب قتل کیس کے سلسلے میں ان کے سوموٹو نوٹسوں کو ہمیشہ بڑی اہمیت دی ہے لیکن شکوہ جواب شکوہ میں علامہ اقبال نے کہا ہے کہ خوگر حمد سے تھوڑا سا گلے بھی سن لیں جناب ثاقب نثار صاحب آپ بھی داد و تحسین کے کافی خوگر ہیں آپ بھی تھوڑا سا گلہ سن لیجئے۔ یہ گلہ ہے پاکستانیوں کی طرف سے اور ایسے پاکستانیو ںکی طرف سے جو ضروری سمجھتے ہیں کہ الیکشن ہوں جو جمہوری حکومت کا تسلسل ضروری سمجھتے ہیں۔ لیکن جناب بات یہ ہے کہ اس کے لئے کہاں ضروری ہے کہ اسلام آباد کورٹ نے اگر یہ کہا تھا کہ معاف کیجئے کہ ساری پارٹیوں کی سفارشات تھیں کہ جو انتخابی قواعد کے سلسلے میں تمام سیاسی جماعتیں بشمول ن لیگڈ، پی پی، جے یو آئی، ایم کیو ایم اور خود تحریک انصاف صب نے مل کر فیصلہ کیا تھا اور یہ نکات تجویز کئے تھے کہ جناب ہر انتخابی امیدوار سے جو ہے ایف بی آر، سٹیٹ بینک قرضوں کے سلسلے میں اور دیگر نیب سے کلیرنس لے لی جائے اچھا ہے تا کہ ایسے لوگ الیکشن میں نہ آ سکیں جن پر اپنا کردار 63,62 کے خلاف معاف کیجئے اب بھی کہا جاتا ہے کہ نہیں جی الیکشن لڑنے دو۔ بعد میں جن کے خلاف کوئی رٹ آئے گی تو ہم ان سے باری باری پوچھتے جائیں گے۔جناب چیف جسٹس بڑے شوق سے 25 کی بجائے 24 کو الیکشن کروا لیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن یہ جو فارم تھے اس میں سے یہ ساری باتیں نکالنے کا آپ نے کس خوشی میں حکم دیا اور میں ساری عمر اپنی پوری عمر میں ہر دور ہی میں کوشش کی جناب نوازشریف صاحب کے دور میں تحریک احتساب چلائی تو جماعت اسلامی کے ہمارے دوست قاضی حسین احمد صاحب اس وقت زندہ تھے تو ہم نے سول سوسائٹی آف پاکستان کی طرف سے ایک احتساب فورم اور احتساب فرنٹ بنایا اور اس میں ہمارے ساتھ جنرل (ر) حمید گل تھے میں اس کا سیکرٹری جنرل تھا۔ اس میں ہمارے ساتھ محمد علی درانی، اور اسحاق ساقی صاحب جو ایپکا کے چیئرمین تھے۔ اس کے علاوہ ہمارے ساتھ ریٹائرڈ جنرل تھے کچھ دانشور تھے۔ ہم نے لاہور، اسلام آباد، پشاور، کراچی، ملتان میں مظاہرے کروائے۔ ہم خود وہاں گئے اور ہم نے کہا جناب مہربانی کر کے ان لوگوںں کو الیکشن میں حصہ لینے دیا جائے جو کم از کم یہ تین باتیں تو ثابت کر دیں کہ وہ کسی بینک کے نادہندہ نہیں، کوئی ان پر اخلاقی جرم نہیں اس وقت یہ دہری شہریت کا معاملہ نہیں تھا ہمارے ملک شاید لوگوں نے ٹھیکہ لے رکھا ہے جب کوئی بات ہوتی ہے تو بھاگ عدالتوں میں جاتے ہیں اور فیصلہ لے لیتے ہیں۔ اس وقت بھی عدالتیں یہ سوچے بغیر الیکشن۔جناب محترم چیف جسٹس صاحب! بڑے ادب سے گزارش کرتا ہوں کہ الیکشن فی نفسہ کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ یہ مقصد ہوتا ہے اچھی حکومت کے قیام کے لئے انتخاب ہوتا ہے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ نوازشریف صاحب کا 93ءمیں بھی دور تھا۔ ہم نے مہم چلائی اور یہ کہا کہ جو بینک ڈیفالٹر ہیں جن کے خلاف اخلاقی کیسز ہیں، جن کی تعلیمی قابلیت ٹھیک نہیں اس قسم کے الزامات ان کو الیکشن میں حصہ لینے سے روکا جائے۔ تو جناب اب بھی انتخابی اصلاحات تمام سیاسی پارٹیوں نے بشمول پیپلزپارٹی، ن لیگ اور تحریک انصاف یہ سفارشات کی تھیں جب ان کو شامل نہیں کیا گیا تو اسلام آباد میں رٹ کی گئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ فارم میں یہ چیزیں شامل کی جائیں ہم نے کب کہا کہ الیکشن نہ ہوں، میری سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد سے آج صبح بات ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ 10 یا 15 ہزار فارم دوبارہ چھاپنا دو گھنٹے کا کام ہے آج کل اتنی تیز رفتار پرنٹنگ مشینیں ہیں تو جناب اگر یہ فرم میں آ جاتا کہ کیا حرج تھا۔ کیا ہماری عدالتیں اس وقت بھی عدالت نے فیصلہ تھا کہ نہیں جی کوئی پابندی نہیں جو الیکشن لڑنا چاہتا ہے لڑے۔ اب بھی چیف جسٹس صاحب چاہتے ہیں کہ 25 کی بجائے 24 کو کروا دیں لیکن فارم میں یہ ساری چیزیں ختم کر کے آپ نے پھر دروازہ کھول دیا ہے کہ ہر قسم کا مجرم اخلاق سے عاری شخص 63,62 اس کے دور سے نہ گزری ہو وہ ہر الیکشن جیت کر آ جائیں پھر آپ کہیں گے کہ اچھا جی ان کے خلاف 63,63 کی ہم ساری عمر اسی چکر میں پڑے رہیں گے۔الیکشن کو بروقت کروانے کے لئے نادرہ، سٹیٹ بینک سے کمپیوٹرائزڈ دور ہے۔ ایک دن میں کسی کا نام ڈالیں تو رپورٹ نکل آتی ہے آپ نے کسی بینک سے قرصہ تو نہیں لیا ہوا۔ آپ کی دہری شہریت تو نہیں نادرا بتا سکتا ہے اس میں کیا دکت ہے کیوں یہ ہمارے محترم چیف جسٹس نے سارے بستر گول کر کے کہا کہ نہیں بھائی قسم کی بات نہ پوچھا جائے الیکشن فارم اور میں اور الیکشن وقت پر ہو جائیں۔ الیکشن وقت پر کروانے کے لئے ہمارے دوست سابق الیکشن کمشن کا فون آیا یہ بڑا ظلم ہے ہو گیا ہے۔خالد رانجھا نے کہا ہے کہ الیکشن سے پہلے ہر قسم کی سکروٹنی ہونی چاہئے چاہے اس میں جتنے دن بھی لگ جائیں۔۔ضیا شاہد نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا کہ گرمی کے موسم میں جو جولائی کا مہینہ ہے جب حاجی نہیں آ سکیں گے جن کے شناختی کارڈ بنے ہوئے ہیں، بلوچستان اسمبلی کہہ چکی ہے یہ تاریخ ہمیں منظور نہیں، خیبر پختونخوا اسمبلی کہہ چکی ہے یہ تاریخ ہمیں منظور نہیں الیکشن آگے کئے جائیں۔ اگر ایک ڈیڑھ ماہ آگے کر دیئے جائیں تو کون سے 1973ءکے آئین کی خلاف ورزی ہو گی۔میں نے جتنے لوگوں سے بات کی وہ کہتے ہیں کہ قانون میں اس کی گنجائش موجود ہے۔ 63,62 کے تحت جو نااہلیاں ہوئی ہیں جن میں سابق وزیراعظم بھی ہیں بقول شخصے انہوں نے غلط بیانی کی۔ دیکھیں ہم 63,62 کے تحت کسی کے خلاف عدالتوں میں جا سکتے ہیں۔ میری گزارش ہے کہ 11 سو 12 سو ممبر ہوتا ہے تو اتنی بڑی تعداد میں لوگ سب برابر ہوں گے۔کنور دلشاد نے کہا ہے اصولی بات یہ ہے کہ دنیا میں جتنے بھی انتخابات ہوتے ہیں وہ مارچ میں ہوتے ہیں یا اکتوبر میں ہوتے ہیں موسم کی مناسبت سے۔ الیکشن کمیشن نے موسم کا خیال نہیں رکھا۔ ہمارے کاغدات نامزدگی کا پرفارما ہے یہ اس پر جو انتخابات ہوں گے لوگوں کے ذہنوں میں بات آ جائے گی ہماری اسمبلیوں میں جرائم پیشہ لوگ، قومی مجرم، منی لانڈرنگ سے لے کر جن کی اربوں کروڑوں کی جائیدادیں دوسرے ملکوں میں موجود ہیں وہ سارے اسمبلی میں پہنچ چکے ہیں۔ اس میں جو سپورٹ کیا ہے وہ تحریک انصاف، پیپلزپارٹی نے بھی سپورٹ کیا اور حکمران جماعت تو ویسے اس میں لگی ہوئی تھی حکمران جماعت کا خیال ہے کہ جس طرح کہ ہماری نوازشریف کو پانامہ میسرز کے لحاظ سے کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپانے کے جرم میں نااہل قرار دے دیا اس قسم کا معاملہ آئندہ پیش نہ آئے۔ آصف زرداری کو خوف تھا کہ جب بھی قومی اسمبلی کا الیکشن لڑوں گا تو میری ساری جائیداد ہے وہ مجھے لکھنی پڑے گی۔ بہتر یہی ہے۔ اپنی پارٹی کے ذریعے حکومت سے مل ملا کر انہوں نے تمام چیزیں تھیں جو 19 پوائنٹ تھے وہ خارج کر دیئے۔ یہ ملی بھگت تھی، یہ تحریک انصاف کی سادگی دیکھ لیں یا ان کو سمجھ نہیں آئی کہ وہ ان کے معاملات سمجھ نہیں سکی۔ وہ حقیقت سمجھ نہ سکے کہ یہ فارم سے یہ چیزیں کیوں نکلوانا چاہتے ہیں۔ اس ساری کوشش کے پیچھے اپنی جائیدادیں بچانے کی سازش ہے۔ صدر اور چیف جسٹس صاحب ان کے پریشر میں آ گئے۔ عجلت میں آ کر لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ مسترد کر دیا۔ضیا شاہد نے کہا اگر فیصلہ ملتوی نہ کیا جاتا اور سارے خانے فارم میں موجود رہتے توسٹیٹ بینک سے سرٹیفکیٹ، نادرا سے سرٹیفکیٹ، ایف بی آر سے پوچھنے میں کتنے دن لگتے ہیں آج کمپیوٹرائزڈ دور میں بہت سادہ سا کام ہے۔عبداللہ گل نے کہا ہے کہ لوگوں کا خیال ضرور تھا کہ آپ نے سندھ پر لکھا، پنجاب پر کیوں نہیں لکھا جس پر آپ کا جواب تھا کہ میں ان پر بھی لکھ رہا ہوں۔ ایک وقت میں اتنا ہی لکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں چھوٹا بچہ تھا اور اپنے والد کے ساتھ آیا کرتا تھا۔ چوبرجی کے مقام پر احتساب موومنٹ کا سنگ بنیاد ڈالا گیا اور نوازشریف کے آنے کے بعد احتساب کا پہلا ادارہ قائم ہوا۔ سیف الرحمن صاحب کو اس کا سربراہ بنایا گیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب جنرل صاحب کی ریٹائرمنٹ کے بعد نوازشریف نے آپ کی احتساب موومنٹ پر کہا کہ جنرل صاحب آپ نے احتساب کی بہت بات کی ہے تو آپ بھی اب اس کے سربراہ بنیں تو جنرل صاحب نے دو شرائط پر کہا کہ سب سے پہلے میاں صاحب یہ کہ جس شخص کا احتساب جو کرے گا، یعنی اگر میں چیئرمین ہوں گا تو میں اپنا احتساب عوام کے ذریعے کرواﺅں گا تا کہ عوام الناس بتائیں کہ میں اچھا ہوں یا برا۔ اگر وہ مجھے پاس کر دیں تو پھر۔ اس پر نوازشریف نے ان کی بہت تعریف کی، بڑے میاں صاحب بھی اس وقت حیات تھے، انہوں نے کہا کہ ایسے ہوتے ہیں بندے جو اپنا احتساب پہلے کرواتے ہیں اور کہا کہ دوسری شرط کیا ہے۔ جنرل صاحب نے کہا کہ پھر جو احتساب کروا رہا ہے، یعنی بطور وزیراعظم آپ احتساب کروا رہے ہیں تو میں آپ کا بھی احتساب کروں گا۔ اس پر نواز شریف نے کہا کہ ہم آپ کو بتائیں گے وہ دن اور آج کا دن، نوازشریف نے اس پر لب کشائی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں اگر ویزا لینے جائیں، ڈرائیونگ ٹیسٹ، پاسپورٹ کا حصول یا نادرا شناختی کارڈ کے لئے کوائف لکھے جاتے ہیں کہ آپ کا کیا کیا رپورٹ ہے۔ اثاثے، اپنی بات اور کرمنلز ریکارڈ لکھے جاتے ہیں۔ لیکن کمال یہ ہے کہ وزیراعظم بننے والے پہلے ایک عام ایم این اے ہی ہوتے ہیں، مگر ملک کے سب سے بڑے عہدے کے لئے جب چناﺅ کرتے ہیں تو بتائیں کیوں یہ باتیں فراموش کر دیتے ہیں۔ کروا دی جاتی ہیں یا خود کرنا نہیں چاہتے۔ کمال تو یہ ہے کہ اپوزیشن اور حزب اقتدار سب نے مل کر یہ فیصلہ کیا۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جب مراعات کی بات آئی تو اسس ایک نقطے پر اپوزیشن اور حزب اقتدار اکٹھے ہو گئے کہ ممبران کے لئے ناجائز اور جائز ہر قسم کی مراعات ہونی چاہئیں۔ یہ بہت قابل افسوس عمل ہے جس پر ہم نے سوشل میڈیا پر آواز بلند کی ہے۔ میری تحریک جوانان پاکستان و کشمیر الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے اور اس سال انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ ہم نے الیکشن کمیشن کو باقاعدہ خط لکھا اور کہا کہ ہم اعتراض کرتے ہیں، یہ نکات نامزدگی فارم میں شامل ہونے چاہئیں۔ کیونکہ یہ ایک نمائندے کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ وہ آرٹیکل 63,62 پر پورا اترے، اپنے قول و فعل پر پورا اترے۔ ہم یہ نکات نکال دیں اور سارے چور اچکے اسمبلیوں میں پہنچ جائیں تو پھر ضیا صاحب آپ جیسے درد دل رکھنے والے لوگ جو پاکستان کی محبت میں اپنی ضعیف العمری اور اپنی بیماری کے باوجود آپ پر خاندانی طور پر جتنی مشکلات گزریں، آپ نے اپنا جوان بیٹا کھویا ہے، وہ مارے بڑے بھائی تھے، اس کے باوجود آپ کی پاکستانیت پر کوئی حرف نہیں آیا۔ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ اگر چوروں نے پاکستان کو آگے چلانا ہے تو بڑی مشکل ہو جاتی ہے۔ عوام اور افواج کا ایسا تناﺅ پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کا آئی ایس بی آر اور آپ نے ذکر فرمایا ہے۔ دشمن کے واضح اہداف ہیں وہ پاکستان کو ڈی نیوکلیئرائزڈ کرنا چاہتا ہے لیکن اس سے پہلے وہ ڈی ملٹرائزڈ کرنا چاہتا ہے اور وہ اسی صورت ممکن ہے جب عوام اور افواج کا تصادم پیدا ہو۔ ضیا شاہد نے ریحام خان کی کتاب کے حوالے سے پوچھا کہ ریحام خان کا کیا مسئلہ ہے اور بیٹھے بیٹھے، جس طرح ہم اس وقت سمجھتے تھے کہ یہ کوئی پلانٹڈ خاتون ہے، حمید گل بھی یہ سمجھتے تھے اور میں ان کی بات سے اسس وقت بھی سو فیصد اتفاق کرتا تھا اور ہمارے اخبار میں اس کے بارے میں ان کی بات بھی چھپی ہوئی ہے اور میری بات بھی چھپی ہوئی ہے۔ بیٹھے بیٹھے لندن میں جو گند اچھالا جا رہا ہے، ٹویٹ پر ساری چیزیں آ چکی ہیں، اس کے اقتباسات سوشل میڈیا پر آ رہے ہیں۔ جن کو دیکھ کر آدمی کانوں کو ہاتھ لگاتا ہے۔ یہ کیافنامنا ہے؟ اور اسی وقت آپ کے والد محترم نے جو صحیح طور پر تشخیص کیا تھا کیا آج وہ بات ثابت نہیں ہو گئی کہ حمید گل صاحب صحیح کہہ رہے تھے؟ جس پر عبداللہ گل نے کہا کہ مجھے یاد ہے آپ کی مہربانی تھی آپ نے مجھے پہلے بھی مدعو کیا اور میرے بیان پر آپ نے اخبار میں 8 کالمی خبر لگی۔ حقیقت یہ ہے کہ ریحام خان جب جنرل صاحب کے پاس دفتر میں آئیں تو جنرل صاحب نے ان کو یہ کہا کہ ریحام کیا آپ یہ نہیں سوچتیں کہ ہم ایک ہی بزنس میں ہیں تو انہوں نے کہا کہ جنرل صاحب کیا آپ بھی میڈیا کا کوئی چینل شروع کرنے لگے ہیں۔ جس پر جنرل صاحب نے کہا کہ آپ اتنی سمجھدار ہیں کہ میری بات سمجھ گئی ہیں۔ میں جاسوسی میں ماسٹر رہا ہوں اور آپ جاسوس رہی ہیں۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain