تازہ تر ین

سپریم کورٹ کا لارجر بنچ ، شکریہ ، فیصلہ پوری قوم کیلئے خوش آئند ہے ، نواز شریف کی حمایت نہ مخالفت ، میری کتاب 35 سال کی تاریخ ہے یقین تھا کہ وزیراعظم کے کرسی سے اترتے ہی ایل این جی کیس کھلے گا ، معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے مقبول لائیو پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ شیخ رشید قطر سے جو ایل این جی کی خریداری کی گئی تھی اس کے نرخ کے حوالے سے عدالت میں چلے گئے تھے ایک ہی بات اس کے راستے میں رکاوٹ تھی وہ یہ تھی کہ جناب شاہد خاقان عباسی کا آئینی طور پر منتخب وزیراعظم کے عہدے پر کام کر رہے ہیں اور ان عہدوں کی وجہ کافی استثنا مل جاتا ہے اس وقت سے میں ہمیشہ انتظار کر رہا تھا اور میرے ذہن میں تھا کہ جونہی نگران حکومت آئی اور شاہد خاقان عباسی وزیراعظم کے عہدے سے الگ ہوئے کافی شکایات ان کے حوالے سے وقتاً فوقتاً جن کے بارے میں تذکرہ ہوتا رہا تھا تو مجھے اچھی طرح سے معلوم تھا اب آپ دیکھیں گے کہ جب حکومت تھی پہلے نوازشریف اور پھر شاہد خاقان عباسی کی ان شکایات کا آپ اندازہ ہی نہیں کر سکتے جو اب سامنے آنے والا ہے۔ نگران وزیراعلیٰ پنجاب اور بلوچستان کا معاملہ کہاں الجھا ہوا ہے۔ جب فیصلہ کسی ایسی اسمبلی کے لیڈر آف اپوزیشن اور قائد ایوان نے کرنا ہو جہاں ایک طرف پی ٹی آئی ہو اور دوسری طرف مسلم لیگ ن ہو۔ مرکز میں حکومت ن لیگ کی اور لیڈر آف اپوزیشن خورشید شاہ تھے۔ تو کیسے جلدی فیصلہ ہو گیا۔ اسی طرح سے کراچی میں فیصلہ ہو گیا۔ اس لئے کہ مخالفت میں جب وہاں سامنے تھی ایم کیو ایم اور ایم کیو ایم آپ جانتے ہیں خواہ ایم کیو ایم کے دوستوں کو برا کیوں نہ لگے۔ ایم کیو ایم بیک وقت حکومت میں بھی ہوتی ہے اور اپوزیشن میں ہوتی ہے۔ پنجاب میں مسئلہ بنتا تھا کیونکہ ایک جناب شہباز شریف تھے اور دوسری پی ٹی آئی کی طرف سے محمود الرشید صاحب تھے۔ چنانچہ بقول محمود الرشید ان کی طرف سے غلطیاں بھی ہوئیں لیکن اس کے بعد بھی کسی ایک میٹنگ میں یا میٹنگ کے بعد بھی اتفاق رائے سے کوئی چیز نہیں ہو سکتی تھی۔ پارلیمانی کمیٹی محض رسمی ہوتی ہے۔ جب دونوں فریق مل کر فیصلہ نہیں کر سکتے تو دونوں طرف سے 3,3 بندوں کا نام دے کر کیسے معاملات طے کر سکتے ہیں۔ کیا ان کے مقرر کئے بندے کر لیں گے۔ میں حیران ہوں کہ آج کی سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ پاکستان میں گزشتہ 10,8 دن سے بحث شروع تھی جس میں تمام اخبارات ٹی وی چینل کے لوگ، اخبارات میں کالم لکھنے والے لوگ، خاص طور پر جو پارٹیاں تبدیلی کا نعرہ لگاتی ہیں ان کے لیڈران خاص طور پر کہہ رہے تھے کہ یہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب نے کیا فیصلہ کر دیا کہ مسترد کر دیا لاہور ہائی کورٹ کے اس تجویز کو کہ ہر امیدوار کو اس کو ان 14,13 سوالوں کا جواب دینا ہو گا۔ لیکن آج لارجر بنچ یعنی جس کی سربراہی جناب چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب بھی کر رہے تھے مجھے پورا اندازہ تھا کہ 99 فیصد یقین تھا کہ اتنا قوم کا اجتماعی مطالبہ تھا کہ آپ نے کس طررح تحقیق کئے بغیر کہ کون چور اچکا ہے۔ کون ڈیفالٹر ہے کون دوہری شخصیت کا مالک ہے۔ بچوں کے کتنے اثاثے ہیں ان کا جائزہ لئے بغیر بیک جنبش قلم جناب ایاز صادق کی تجویز کردہ ترمیم اور باقی پارٹیوں کی جو اندر کھاتے ان کے ساتھ ملی ہوئی تھی یہ کیسے مان گیا۔ چنانچہ آج جب لارجر بنچ کی سماعت ہوئی تو آپ دیکھیں گے اگرچہ بڑا خوبصورتی سے نمٹایا گیا اس کیس کو ایک طرف ایاز صادق اور دوسرے سیاستدانوں کا مطالبہ جو ہے وہ چلنے دیا گیا کہ نیا فارم نہیں بناتے۔ لیکن جناب دوسری طرف جج حضرات نے فیصلہ کیا کہ ایک حلف دواور حلف نامے کا مضمون شام تک الیکشن کمیشن بنا کر دے اور اس حلف نامے میں وہی نکات ڈالے گئے ہیں جو فارم سے نکال دیئے گئے۔ تا کہ کسی وقت بھی ان کی پکڑ دھکڑ کی جا سکے۔ جیسے 63,62 کے حوالے سے بھی کافی زیادہ چیزیں شامل ہوں گی۔ میرا خیال ہے کہ یہ پاکستان کے عوام کے اجتماعی اور سیاسی شعور کا ادراک کیا گیا ہے اور سپریم کورٹ کو سلیوٹ کرتا ہوں انہوں نے الجھے ہوئے معاملے کو خوش اسلوبی سے سلجھا دیا۔ اس کو کہتے ہیں ”سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔“ فارم میں نہیں بدلا گیا ان سیاستدانوں کے مطالبے کے پیش نظر اور ساری شقیں بھی حلف نامے ڈال دیں کہ اگر آپ یہ سارا کچھ کر کے دیں گے اگر غلط ہوئیں تو کل آپ کو ڈی سیٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔ آپ کے خلاف چارج بھی فریم کیا جا سکتا ہے۔ اب الیکشن اس لئے وقت پر ہو جائیں گے کہ پاکستان کے چیف جسٹس صاحب میں اس تقریب میں موجود تھا۔ میں عارف نظامی اور حامد میر نے تقریریں بھی کی تھیں۔ اور اس میں بھی چیف جسٹس صاحب نے بڑا واضح اعلان کیا تھا کہ اگر ایک دن بھی انتخابات ملتوی ہوئے تو میں اکیلا نہیں 15 ججوں کے ساتھ گھر چلا جاﺅں گا۔ یہ بڑی بات تھی۔ اب ناصر الملک صاحب آئے ہی نگران وزیراعظم نے بھی پہلے دن آتے ہی کہا کہ میں ایک دن بھی الیکشن ملتوی نہیں ہونے دوں گا۔ اب اس کے بعد دونوں تینوں بڑے لیڈروں کی طرف سے مطالبات ہوئے کہ وہ بھی یہی تھے کہ جناب الیکشن ملتوی نہیں ہونے چاہئیں۔ ایک تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ آخری رکاوٹ جو تتھی دو تین تھیں۔ ایک کا کل فیصلہ ہو گیا کہ یہی فارم چلیں گے لیکن حلف نامہ دینا پڑے گا جس میں ساری باتیں ڈال دی گئیں۔ دوسرا جناب یہ بہت بڑی خبر ہے کہ عدالت عالیہ نے یعنی ہائی کورٹ نے وہ تمام عذر داریاں جو لوگوں نے کی تھیں وہ مسترد کر دی گئی ہیں او ریہ تاثر دیا گیا کہ جناب اس سلسلے میں کوئی سکوپ اس بات کا نہیں ہے کہ کوئی سپریم کورٹ میں جائے اور الیکشن کا معاملہ لٹک جائے۔ میں سمجھتا ہوں دونوں فیصلوںکی روشنی میں لگتا ہے الیکشن وقت پر ہوں گے۔
میری چودھری نثار صاحب سے بہت پرانی دوستی ہے چودھری نثار صاحب ان کی مہربانی ہے بڑی محبت سے ملتے ہیں لیکن جب سے ان کا قضیہ شروع ہوا تھا۔ اسی میز پر میں بے شمار مرتبہ یہ کہہ چکا ہوں کہ ساری نورا کشتی ہے اور آخر کار سارے اک مک ہو جائیں گے۔آپ دیکھ لیں یہ کس قسم کی لڑائی تھی پنجابی میں اس کو کہتے ہیں کہ ”آٹا گھن دیاں ہل دی کیوں اے“ انہوں نے کبھی نوازشریف کو مسترد نہیں کیا وہ ہمیشہ کہتے تھے ان کی صاحبزادی سے مجھے شکایت ہے جب ان کے ابا سے شکایت نہیں تھی تو پھر ختم ہونی ہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ چھوٹے بھائی صاحب ہر تیسرے دن اعلان کرتے تھے کہ ہم ان کو کہیں نہیں جانے دیں گے اور یہ ہمارے ساتھی ہیں۔ لیکن تاریخ کے سامنے ان کو جواب دینا پڑے گا کہ وزیر داخلہ جو ڈان کیس میں پہلے کمیٹی کا سربراہ تھا۔ بعد میں جس نے شور مچایا کہ اس کا مطلب ان کی لڑائیاں پرسنل لڑائیاں تھی۔ چودھری نثار کی کوئی لڑائی اصولی لڑائی نہیں تھی۔ س قسم کی لڑائی تھی کہ میں نے اعلان کرنا تھا بطور وزیر داخلہ یہ فواد حسن فواد نے کیوں کر دیا یا جناب میں تو تیار ہی نہیں تھا انہوں نے خود اخبارات کے ایڈیٹروں کو اے پی این ایس اور سی پی این ای کے صدور کو جی میں تو تیار ہی نہیں تھا میرا اس کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں جب ہم اگلی دفعہ گئے تو میں نے ہی ان سے پوچھا پنجاب ہاﺅں کو آپ تو کہتے تھے کہ میرا اس کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں ڈان لیکس والی کمیٹی سے۔ کہتے میں نے نوازشریف صاحب سے ملنے گیا تھا انہوں نے مجھے کہا کہ آپ کریں تو میں مان گیا۔ ہر بات وہ شکایت میں کرتے تھے یہ تاریخ کے سامنے جوابدہ ہوں گے کہ یہ وہ شخص ہے اگر وہ کھل کر سامنے آتا تو اس کو شاید چند سیٹوں پر یہ بک نہ جاتا تو معاف کرنا یہی شخص تھا جس نے یہ الفاظ کہتے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ صرف تین بندوں کو دو فوجی وردی میں اور ایک سویلین ہے جن کو پتا ہے کہ اس وقت پاکستان پر کتنا بڑا غیر ملکی حملے کا تھریڈ ہے۔
ایک تو یہ کتاب لکھتے وقت دور نزدیک سے بھی میرے ذہن میں نہیں تھا کہ میں نوازشریف صاحب کے خلاف کچھ لکھ رہا ہوں۔ میں نے نوازشریف ایک عہد ہے آپ کو پسند ہو یا نہ ہو۔ یہ 35 برس ہیں پاکستان میں یہ آٹھ سال نکالیں پرویز مشرف کے دور کے تو 23 برس کی حکومتیں اور اگر وہ آٹھ سال بھی اس طرح داخل کر لیں کہ چودھری نثار کی موجودگی میں لیڈر آف اپوزیشن مسلم لیگ نواز کا تھا اسمبلی میں بھی تو پھر 35 برس کی داستان ہے۔ میں نے یہ جو کوشش کی ہے کہ یہ مجھے کیسے ملے تھے یہ اس وقت کس طرح کے تھے۔ یہ بڑے معصوم انسان تھے بہت سی خوبیاں بھی گنوائیں لیکن ان کے حوالے سے جو اب تک 3 سے چار چھپی ہیں میں بہت ہی ضروری سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ بدقسمتی سے نوازشریف کے صوبے میں وزیراعلیٰ بے نظیر کے دور میں مرکز میں سیاسی محاذ آرائی نہ ہوتی تو جناب اس ملک سے میرٹ کا ستیا ناس نہ ہوتا دونوں لیڈروں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ایم پی اے کو توڑنے، ایم این ایز کو اپنی جیب میں ڈالنے کے لئے ہر قسم کی جو مراعات تھیں وہ صرف اپنے سیاسی حامیوں میں تقسیم کیں۔ ضیا شاہد نے کہا کہ وزیراعظم وزیراعلیٰ ہاﺅسز سے سرکاری نوکریوں کے بلینک لیٹر ایشو ہوتے تھے۔ 61 سال کا بندہ نائب تحصیلدار بھرتی ہو جاتا تھا۔ اخبار میں کبھی چوتھے، پانچویں گریڈ کی نوکریوں کا اشتہار بھی نہیں دیکھا۔ نوکریوں پر ہمیشہ پابندی رہتی ہے۔ سیاستدانوں کے پاس نوکریوں کے لئے کوٹے ہوتے ہیں، ملک سے میرٹ کا خاتمہ کر دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف نہیں سیاست میں دولت کی ریل پیل آئی تھی۔ یہ پہلا شخص تھا جس نے فیصل آباد سے تصویر والے پرنٹڈ کپڑوں کے تھان کے تھان چھپوائے تھے، 4 کلر پوسٹر اور بڑے بڑے ہولڈنگ بورڈ بنوائے، ایڈورٹائزنگ ایجنسی میڈاس کو کنٹریکٹ پر لیا۔ پی پی اور نون لیگ کے درمیان سیاسی محاذ آرائی کے اثرات آج تک ہیں۔ نواز شریف ایک عہد ہے جس کو جانچا ہے اور دل سوز لہجے میں لکھا ہے کہ نواز شریف اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتایئے جتنے بھی الزامات ہیں بے شک عدالت بھی بری کر دیتی ہے۔ اگر آپ کے ضمیر کی آواز نکلتی ہے کہ میں بے قصور ہوں تو ایک ٹیلی فون ضیا شاہد کو کیجئے گا کہ آپ نے ملک کے درست نظام کے لئے میرا ساتھ دیا تھا آﺅ میرا ساتھ دو، میں نے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ کوئی پلاٹ، زمین، نوکری میرا کوئی دعویٰ نہیں ہے۔ نوازشریف کو میرے ہاتھ سے لکھی ہوئی کوئی درخواست کوئی شخص دکھا دے تو میں مجرم ہوں۔ ہر بندے کو بکاﺅ مال تصور نہیں کرنا چاہئے۔ نوازشریف مجھے پسند تھا تو سپورٹ کیا، اختلاف ہوئے تو چھوڑ دیا۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain