لاہور(ملک مبارک سے )کچھ لوگوں کی ہٹ دھرمی ،نااہلی یا اقتدار کی ہوس کی وجہ سے پاکستان کا اہم مسئلہ پس پشت ڈال دیا گیا ہے اپنے مفادات کی خاطر قوانین میں ترامیم تو ایک منٹ میںہوجاتی ہے جبکہ ان سیاستدانوں سے 40سال سے کالاباغ ڈیم کامسئلہ حل نہ ہوسکا ۔روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر ضیا شاہد نے اس اہم مسئلے کا علم بلند کیا سوئے ہوئے حکمرانوں کو دریاوں کی آنے والی خطرناک صورت حال سے اگاہ کیا پھر بھی حکمران خواب غفلت کا شکار رہے ، سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے پانی کے مسئلہ کو اہم قرار دے دیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کی ڈھائی کروڑ ایکڑ اراضی پانی نہ ہونے کی وجہ سے بے آباد پڑی ہے۔ اس میں سے 91 لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی صوبہ سندھ میں ہے۔ وسیع تھر زرخیزی کے لحاظ سے کسی سے کم نہیں لیکن پانی نہ ہونے کی وجہ سے بنجر پڑا ہے بلکہ ہر سال اوسطاً سو ڈیڑھ سو بچے قحط کے ہاتھوں لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ کالا باغ ڈیم سے سندھ کے پانی میں جو اضافہ ہوگا، اس سے تھر کی وادی کو پانی ملے گامنگلا اور تربیلا ڈیم کی تعمیر کے بعد صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم کا مجموعہ 102.73 ملین ایکڑ فٹ لگایا گیا تھا۔ 1975 میں تربیلا ڈیم کے مکمل ہوتے ہی بھٹو مرحوم نے حکم دیا کہ کالا باغ ڈیم پر فوری کام شروع کیا جائے چنانچہ تخمینہ لگانے کا کام شروع ہوا تربیلا سے تمام تعمیراتی مشینری کالا باغ پہنچا دی گئی۔ کالا باغ ڈیم کی ڈیزائن کے مطابق تعمیر کے لئے پلاننگ کی گئی۔ رہائشی عمارات بھی تعمیر ہوئیں۔ اس دوران ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ضیاء الحق کے دور میں 1982 میں دوبارہ کام شروع کیا گیا۔ ایک برطانوی کمپنی کو سروے کا کام سونپا گیا۔ اس کمپنی کے کنسلٹنٹس نے اندازہ لگانا چاہا کہ 1929 میں بڑا سیلاب کہاں تک آیا تھا۔ اس سیلاب کے حوالے سے وہ نوشہرہ میں نشان لگا رہے تھے کہ شور مچ گیا کہ کالا باغ ڈیم بنا تو نوشہرہ ڈوب جائے گا۔ عبدالغفار خان باچا خان آئے اور ہڑتال شروع ہو گئی۔ گورنر فرنٹیئر جنرل فضل حق نے بھی اس کی حمایت کی۔ جئے سندھ بھی میدان میں کود پڑی۔ اس طرح کالا باغ ڈیم خوامخواہ متنازعہ بن گیا۔ چنانچہ فرنٹیئر کے انجینئر شاہنواز اور سندھ کے دو انجینیئرز اصغر علی عابدی اور شیخ منظور احمد کا تین رکنی کمیٹی بنا دی گئی۔ جس نے 1984 میں فیصلہ کیا کہ کالا باغ جھیل کی سطح 925 فٹ سے کم کرکے 915 فٹ کر دیا جائے۔ نوشہرہ کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ حالانکہ نوشہرہ کی بلندی 961 فٹ ہے۔کے پی کے گورنمنٹ نے اس رپورٹ کو تسلیم نہ کیا جس پرکے پی کے گورنمنٹ کو اختیار دیا گیا کہ وہ پوری دنیا سے اپنی مرضی کا ماہر چن لے۔ اس کی نگرانی میں سٹڈی کروا لیتے ہیں۔ اسے مان لیں گے۔ فرنٹیئر گورنمنٹ نے امریکہ کے ڈاکٹر کنیڈی کا نام چوائس کیا۔ چنانچہ ان کی نگرانی میں سٹڈی کروائی گئی جس نے 1987 میں فیصلہ کیا کہ کالا باغ ڈیم سے نوشہرہ کو کوئی خطرہ نہیں۔ اس دوران کالا باغ ڈیم کے مقام پر اصل ڈیم کے علاوہ تمام کام مکمل ہو چکا تھا۔ دفاتر پاور ہاو¿س کی بلڈنگ ملازمین اور افسران کے لیے رہائشی کالونیاں، سکول، ڈسپنسری سب کچھ بن چکا تھا۔لیکن پھر ضیائ الحق فضائی حادثہ کا شکار ہو گئے محترمہ بینظیر بھٹو کے پہلے دور میں 1989 میں پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ ڈویڑن میں کالا باغ ڈیم کا منصوبہ منظوری کے لئے پیش کیا گیا۔ سندھ نے اعتراض اٹھایا کہ کالا باغ ڈیم بڑا منصوبہ ہے اس کی تعمیر سے پہلے صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم کا فارمولا طے ہونا چاہیے کہ کس صوبے کو کیا ملے گا۔ بلوچستان نے بھی سندھ کی تائید کی۔1991 میں چاروں صوبوں کے ماہرین کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہونے کے بعد 16 مارچ کو چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم پر دستخط کئے جس کے بعد 21 مارچ 1991 کو مشترکہ مفادات کونسل نے باقاعدہ منظوری دے کر آئینی شکل دی۔معاہدے کے مطابق حاصل ہونے والے فاضل پانی میں سے صوبہ پنجاب، سندھ، فرنٹیئر اور بلوچستان کو بالترتیب 37, 37,، 14 اور 12 فیصد پانی ملے گا۔یہاں یہ واضح رہے کہ کالا باغ ڈیم کی جھیل میں مستعمل پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 6.1MAF ہے۔ ڈیم کا کام محض پانی جمع کرنا نہیں بلکہ پانی کی روانی کو کنٹرول کرنا بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ اضافی پانی کا تخمینہ 11.62MAF لگایا گیا۔ جسے فارمولے کے تحت تقسیم ہونا تھا۔ اس موقع پر سندھ نے تھر اور فرنٹیئر نے جنوبی اضلاع کی خستہ صورتحال بتائی چنانچہ پنجاب نے قربانی دے کر اپنا پانی کم کر لیا۔ جس کا تخمینہ لگانے کے بعد اس پانی کو واٹر اکارڈ میں جمع کر دیا گیا۔صوبوں کو اضافی پانی کی فراہمی کا شیڈول بھی طے پاگیا جس کے مطابق سندھ 5.72MAF،کے پی کے 2.69MAF،بلوچستان1.76MAF،پنجابF 1.45MAسندھ میں اس فاضل پانی سے ایک تو گدو سے رینی کینال نکال کر خان پور کے وسیع صحرا کو آباد کرنا تھا۔ دوسرے نارا اور تھر کے علاقوں میں بھی پانی پہنچانا تھا۔ پانی کی تقسیم کا فارمولا تو طے پا گیا۔ کالا باغ ڈیم بننے کی صورت میں بھی اس سے حاصل ہونے والے پانی کو بھی تقسیم کرکے واٹر اکارڈ میں جمع کر دیا گیا۔ مگر کالا باغ ڈیم تو نہ بنا تھا۔ یہ فاضل پانی کہاں سے آتا۔ چنانچہ جب موسم برسات کے بعد اکارڈ کے مطابق پانی کی فراہمی کا سوال اٹھایا گیا تو 16 ستمبر 1991 میں مشترکہ مفادات کونسل میں وضاحت کی گئی کہ اکارڈ میں ظاہر کیا فاضل پانی جب ملے گا جب کالا باغ ڈیم بنے گا۔اس بارے ضیا شاہد نے اپنی زندگی کا کافی حصہ صرف کیا ہے صوبوں کو اکٹھا کر نے میں عوام کو اگاہی دینے میں پانی کی بندش کے حوالے سے کئی کتابیں تحریر کر ڈالیں ۔آبی ماہرین کا کہنا ہے جو کام حکمرانوں نے کرنا تھا وہ ایک عوام کا ددر دل رکھنے والے محب پاکستان ضیا شاہد نے کردیا پنجاب اور خاص کر جنوبی پنجاب کی عوام نے ضیا شاہد کو اپنے حقوق کا علمبردار قرار دے دیا ہے پانی کے مسئلے کو اجاگر کر نے پر جنوبی پنجاب کی عوام نے بھی خراج تحسین پیش کیا ہے۔





































