تازہ تر ین

والدین سے حسن سلوک نہ کرنیوالا معاشرہ بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے : علامہ ضیا ءاللہ بخاری ، اولڈ ایج ہومز معاشرہ کا بڑا المیہ ہیں : ہما تقوی ، والدین کی پرورش کا بدلہ ناممکن ہے : کرکٹر توفیق عمر ، چینل ۵ کی خصوصی ٹرانسمیشن ” مرحبا رمضان “ میں میزبان آمنہ کاردار اور اسامہ بخاری کیساتھ گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے پروگرام ”مرحبا رمضان“ میں گفتگو کرتے ہوئے علامہ ضیاءاللہ بخاری نے کہا ہے کہ اللہ پاک نے حضور کو شب معراج کو اپنے پاس بلایا تو وہاں 14 اصول زندگی عطا کئے۔ سورة اسراءمیں اللہ تعالیٰ نے تفصیل سے بیان فرمایا کہ آپ ایک اسلامی معاشرہ و ریاست تشکیل دینے جا رہے ہیں۔ وہاں پر 14 اصول لازمی طور پر نافذ العمل ہونے چاہئیں۔ معاشرے کا حسن انہی اصولوں کے ساتھ نکھرےے گا اور واضح ہو گا۔ اس میں سب سے پہلے اللہ نے فرمایا کہ ”تمہارے رب کا یہ فیصلہ ہے کہ تم اسی کی عبادت کرو“ یعنی توحید باری تعالیٰ، ”والدین کے ساتھ حسن سلوک برتو۔“ اسلام میں والدین کے بڑے واضح حقوق ہیں۔ حکم ہے کہ ماں باپ بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ”اُف“ تک نہیں کہنا۔ حضور نے ایک بار صحابہ کرام میں بیٹھے ہوئے دور سے ایک بوڑھی خاتون کو جاتے دیکھا تو تیزی سے اٹھے اور برے استقبال و احترام کے ساتھ انہیں مجلس میں لا کر بٹھایا، کسی کے پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ ”حلیمہ سعدیہ“ ہیں جنہوں نے آپ کو بچپن میں دودھ پلایا تھا۔ اللہ نے ”حلیمہ سعدیہ“ کو وہ مقام عطا کیا کہ وہ خود بھی صحابیہ بنی اور ان کی ساری اولاد سب صحابہ بنیں۔ ان کے خاوند بھی صحابی بنے۔ نبی پاک نے اپنی رضائی ماں و بہن سے بھی انتہائی حسن سلوک کیا۔ صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ اگر والدین زندہ نہ رہیں تو کیسے حسن سلوک کیا جائے، آپ نے فرمایا چچا، تایا کا احترام کرو والد کے احترام جتنا ثواب ملے گا۔ خالہ کا احترام کرو والدہ کے احترام کا ثواب ملے گا۔ والدین کے درجات کی بلندی کے لئے دُعا گو رہو، اگر والدین میں سے کسی نے اپنی زندگی میں کسی سے کوئی معاہدہ کیا تھا تو اس کو پورا کرو، ایسے کام ان کے ساتھ حسن سلوک ہے۔ والدین کی وجہ سے بننے والے رشتوں کا احترام کرو، ایسے کام مرحوم والدین کے ساتھ حسن سلوک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو بوڑھے والدین کو ”اولڈ ایج ہومز“ چھوڑ آتے ہیں، والدین وہاں بھی اولاد کے لئے دُعا گو رہتے ہیں۔ میں چھوٹی عمر میں مدینہ شریف گیا تو وہاں میرا دل نہیں لگ رہا تھا میں نے والدہ کو خط لکھا، جوابی خط میں ماں نے لکھا کہ بیٹا یہ مدینہ شریف کی تیری زندگی اتنی قیمتی ہے کہ تو ساری زندگی اس کو یاد کیا کرے گا۔ میں نے آج تک وہ خط سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ ماں کی دُعاﺅں سے زندگی میں بڑی کامیابی ملی۔ انہوں نے کہا کہ والدین کے گزر جانے کے بعد کثرت سے دُعا کرو۔ حدیث ہے کہ جب بندہ فوت ہو جائے تو نیکیوں کا رجسٹرڈ پروردگار بند کر دیتے ہیں لیکن نیک اولاد، ملاقات و خیرات کی نیکیوں کے رجسٹرڈ کھلے رہتے ہیں۔ بوڑھا شخص اگر روزے نہیں رکھ سکتا تو فدیہ کے طور پر کسی کو روزہ رکھوا دے۔ روزہ رکھنا اور کسی کو رکھوانا دونوں اللہ کی غلامی ہیں۔ مذہبی سکالر ہما تقی نے کہا کہ ”اولڈ ایج ہومز“ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے۔ اسلام میں تو جتنے والدین بوڑھے ہوتے گئے، ان کے حقوق و فرائض بڑھتے چلے گئے۔ اسلام تو کہتا ہے کہ اگر بزرگ والدین کی طرف مسکرا کر دیکھ لو تو اللہ رحمت کے 70 فرشتے تمہارے اوپر معین کر دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم بوڑھے والدین کی فیوض و برکات کو سمجھ ہی نہیں سکے، جو نہیں سمجھ پاتا وہ اپنے بزرگ والدین کو ”اولڈ ایج ہومز“ میں چھوڑ آتا ہے۔ اسلام کی بنیادیں ہی قدروں کے اوپر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضور کے اپنے والدین نہیں تھے لیکن پالنے والوں کی اس قدر خدمت و احترام کر کے دکھا دیا جو ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ حدیث ہے کہ والدین فوت ہو جائیں تو ان کی قبر پر اتنی دیر بیٹھو جب تک ایک اونٹ کی قربانی کر کے اس کا سارا گوشت تقسیم کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت اویس قرنیؓ واحد صحابی ہیں جنہوں نے رسول اللہ کو بغیر دیکھے صحابی کا درجہ حاصل کیا، ان کا کمال والدین کی عطا تھا۔ انہوں نے اپنی ماں کے کہنے پر عمل کیا، ماں نے صرف اتنا کہا تھا کہ بیٹا تم جا رہے ہو لیکن شام تک پلٹ کر واپس آ جانا، جب وہ مدینہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ یہاں نہیں تو بہت روکنے پر بھی وہ نہیں رکے اور ماں کے کہنے کے مطابق شام تک لوٹ آئے۔ انہوں نے کہا کہ والدین کی نافرمانی گناہ کبیرہ ہے۔ اولاد کی طرح والدین کے لئے بھی وقت نکالنا چاہئے۔ ٹیسٹ کرکٹر توفیق عمر نے کہا ہے کہ والدین جو ہمارے لئے کرتے ہیں ہم اس کا بدلہ نہیں چکا سکتے۔ خوش قسمت لوگ ہوتے ہیں جنہیں والدین اپنی زندگی میں ملتے ہیں۔ اگر جنت کمانی ہے تو اس سے بڑا ذریعہ نہیں ہو سکتا کہ اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کریں، ان کے خود سے راضی کر لیں۔ والدین کی دُعاﺅں سے ہی زندگی میں کامیابیاں ملتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 5 سال کا تھا جب میرے والد کا انتقال ہو گیا لیکن ماں نے کبھی اس بات کا احساس ہی نہیں ہونے دیا۔ آج میں جو ہوں وہ والدہ کی وجہ سے ہی ہوں۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain