لاہور (ویب ڈیسک)سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ آج احتساب عدالت نے نیا وکیل کرنے کا کہا لیکن کوئی بھی وکیل اتنی کڑی شرائط پر کام کرنے کو تیار نہیں اور یہ ممکن نہیں کہ وکیل کل وکالت نامہ جمع کروائے اور پرسوں شروع کردے۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ آج مجھے وکیل کی خدمات سے محروم کر دیا گیا ہے اور میرے وکیل خواجہ حارث کیس الگ ہو گئے ہیں۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ماہ کے اندر تمام ریفرنسز/ ریفرنس کا فیصلہ آجانا چاہیے جس پر ہمارے وکیل نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں، کیس کی تیاری کرنا ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے اس کے جواب میں ہمارے وکیل سے کہا کہ آپ دھمکیاں دے رہے ہیں اور چیف جسٹس نے احتساب عدالت کو اپنے اوقات کار طے کرنے کی اجازت بھی دی۔انہوں نے کہا کہ آج مجھے احتساب عدالت نے کہا کہ میں نیا وکیل کرلوں لیکن کوئی بھی وکیل اتنی کڑی شرائط پر کام کرنے کو تیار نہیں ہے کیونکہ کسی بھی وکیل کو کیس لڑنے سے پہلے اس کیس کی تیاری کے لیے بڑا وقت درکار ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ اگر کوئی وکیل مان بھی جائے تو ایسا کیسے ممکن ہے کہ وہ 2 ہزار صفحات پر مشتمل دستاویزات سے متعلق کیس پر کل وکالت نامہ جمع کروائے اور پرسوں اس پر دلائل شروع کر دے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں یہ کسی بھی عدالت کی جانب سے قدغن لگانے کی پہلی مثال ہو گی جو انصاف اور قانون کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج تک کس وکیل کے لیے ایسا حکم جاری ہوا ہے، یہ اپنی نوعیت کا یہ پہلا مقدمہ ہے جو چل تو احتساب عدالت میں رہا ہے لیکن اس کی ڈوریں سپریم کورٹ سے ہلائی جا رہی ہیں۔نواز شریف نے کہا کہ ہمارے خلاف ریفرنسز میں تاخیر کی تمام تر ذمے داری استغاثہ پر عائد ہوتی ہے، ہمارے وکلائ نے ایک بھی پیشی کے لیے نئی تاریخ کا تقاضہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز چیف جسٹس نے کہا کہ تشہیر کے لیے میں بیوی کی بیماری کے لیے جانے کا کہتا ہوں، چیف جسٹس کے ریمارکس سے بہت دکھ اور صدمہ پہنچا کیونکہ میں نے ایسی کوئی درخواست نہیں دی۔ان کا کہنا تھا کہ استغاثہ نے بار بار موقف بدلے، عدالت کی جانب سے ہماری درخواستیں مسترد کی گئیں لیکن ہم نے ہر چیز کا تحمل کے ساتھ سامنا کیا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے ریفرنسز ایک ساتھ سننے کی استدعا کی تھی وہ مسترد کر دی گئی لیکن ان کے فیصلے ایک ساتھ سنانے کا حکم دے دیا گیا۔قائد مسلم لیگ ن نے کہا کہ میرے بنیادی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں، مجھے حق دفاع سے محروم کرکے کٹہرے میں کھڑا کردیا گیا ہوں جب کہ اس آمر نے جس نے دو مرتبہ آئین توڑا اس کی بلائیں لی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر 25 جولائی کے انتخابات سے قبل فیصلہ کرنا ضروری یا مجوبری ہے تو فیصلہ کر دیجیے لیکن یہ قانون و انصاف، آئینی تقاضوں، بنیادی انسانی حقوق اور عدالتی روایات کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔





































