لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے پروگرام مرحبا رمضان میں مسلم ریاست میں غیر مسلموں کے حقوق اور رمضان المبارک کی ستائیسیویں رات کی رحمتوں برکات و ثمرات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ علمائے کرام نے بتایا کہ ستائیسویں شب کو ہی قرآن کریم کا نزول ہوا۔ اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتے ہیں یہ رات ہزار راتوں سے بہتر ہے۔ اسی رات اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی وجود میں آیا ہمیں اس شب پاکستان کے لئے دعائیں کرنا نہیں بھولنا چاہئے۔ دوسرے پاکستان میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر غیر مسلم اقلیتیں بھی قیام پذیر ہیں ان کے بھی حقوق ہیں۔ بطور مسلمان ہمیں اقلیتوں کے ساتھ بہتر سلوک روا رکھنا چاہئے۔ علامہ محمد رشید ترابی نے بتایا کہ دنیا میں کوئی ایسا مذہب نہیں جو برابری کی سطح پر سب کے حقوق دیتا ہو اسلام واحد مذہب ہے جو مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے حقوق بھی ادا کرنے کا حکم دیتا ہے کہ بحیثیت انسان کسی کی حق تلفی نہ ہونے پائے۔ قرآن کریم میں اللہ پاک فرماتے ہیں کہ دین میں کوئی جبر نہیں یعنی اسلام کسی کے ساتھ زور زبردستی کی اجازت نہیں دیتا بلکہ سب کے ساتھ مساوات کا رویہ روا رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ نبی کریم نے کبھی کسی کے خلاف کوئی جنگ نہیں لڑی بلکہ آپ نے دفاع میں جنگیں لڑیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کسی جاہل کو ولی نہیں بناتا لیکن ہم ناسمجھی کی بنا پر ووٹ دے کر ولی بناتے ہیں اس کی وجہ علم سے دوری ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اہل علم لوگوں کو آگے لایا جائے کیونکہ جہاں پر علم ہوتا ہے وہاں فتنہ فساد نہیں ہوتا۔ انسان اسلام کے بتائے اصولوں پر جب زندگی گزارتا ہے یقینا اس میں راحت ہوتی ہے سکون ہوتا ہے۔ علامہ اصغر فاروق نے بتایا کہ ہر ملک کے شہری کو علم ہونا چاہئے کہ ان کے ساتھ جتنے بھی دوسرے ادیان کے لوگ رہتے ہیں ان کے کیا فرائض اور ذمہ داریاں ہیں۔ اسلام انسانوں کے حقوق کی جس طرح بات کرتا ہے اس کی کسی دوسرے مذہب میں مثال نہیں ملتی۔ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے جو ہر چیز بارے قواعد ضوابط اور اصول وضع کرتا ہے۔ نبی کریم نے فرمایا دوسروں کے لئے وہی پسند کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو۔





































