تازہ تر ین

لگتاہے خواجہ حارث کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ، کیس لٹکانے کا حربہ ہے : ضیا شاہد ، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ نوازشریف کہہ رہے ہیں کہ جن ججوں نے نااہل کیا انہیں کٹہرے میں لاﺅں گا، عمران کو اپنی کتاب کی تقریب میں واضح کر دیا تھا کہ نئے شامل لوگوں کو ٹکٹ دو گے تو پرانے کارکنوں کی ناراضی یقینی : تجزیہ کار کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ ‘ ‘ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میں ہمیشہ ہمیشہ کہتا ہوں کہ نوازشریف ملزم ہیں جب تک ان پر الزامات ثابت نہیں ہو جاتے ایک صورت یہ ہے کہ احتساب عدالت یہ کہے کہ لندن فلیٹس کے حوالے الزامات ثابت ہوئے اور نوازشریف اور ان کی صاحبزادی اور ان کے بیٹوں کو بری کیا جاتا ہے۔ مجھے تو خوشی ہو گی کہ وہ بری ہو جائیں لیکن اگر وہ بری نہیں ہوتے اور کوئی بھی عدالت ان کو سزا دیتی ہے تو سزا آنے کے بعد وہ مجرم بن جاتے ہیں اور مجھے دکھ تو ہو گا۔ پھر جتنا جی چاہے ہم کہیں کہ ہم ان کو نہیں مانتے فیصلوں کو اور نواز شریف صاحب نے بھی کہا تھا کہ یہ جو پانچ جج ہیں جنہوں نے یہ حرکت کی ہے کہ مجھے نااہل کیا ہے میں ان کو کٹہرے میں لاﺅں گا۔ اگر اس طرح ہونے لگے تو مجھے اچھی طرح سے یاد ہے میں یحییٰ بختیار سے جو جناب بھٹو کا کیس لڑ رہے تھے کیس ہار گئے وہ لیکن میں یحییٰ بختیار کی زبان سے یہ نہیں سنا کہ کیس بھی کیا تھا سزائے موت کا کیس تھا نوازشریف پر تو مالی بدعنوانی کا کیس ہے اس کی سزا تو زیادہ 7,5 سال ہو گی اور لیکن اس کی سزا تو موت تھی بعد میں سزا تو ہو گئی۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ اس سلسلے میں جنہوں نے جتنا بھی انہوں نے احتجاج کیا ظاہر ہے پارٹی تھی اس کو اس بات پر دکھ بھی ہوا ہو گا افسوس بھی ہوا ہو گا۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ اس قسم کی فضا کی ضرورت پیش آئی ہو۔ نوازشریف نے لاہور ہائی کورٹ میں خود بھی جاتا رہا جسٹس مولوی مشتاق حسین اس وقت چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ تھے جنہوں نے یہ فیصلہ لکھوایا یہ فیصلہ جسٹس آفتاب حسین نے لکھا تھا جو کرائم کے سپیشلسٹ تھے اور جب یہ فیصلہ آ گیا کہ بھٹو کو سزائے موت دی جاتی ہے تو اس کے خلاف اپیل ہوتی ہے جو بندہ سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہوتا حالانکہ بھٹو صاحب کو تو موقع دیا گیا تھا لیکن فائل جاتی ہے سپرریم کورٹ تک عام طور پر جو ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیل جو ہوتی ہے وہ مجلد شکل میں جو دلائل ہوں ان کے سامنے پیش ہوتی ہے۔ ہر جج صاحبان کے سامنے جو وکیل صفائی ہوتے ہیں ان کو بھی پورا موقع دیا جاتا ہے۔ یہ کوئی نئی تاریخ پاکستان میں رقم ہو رہی ہے جس کو سزا ہوتی ہے وہ کہتا ہے میں جج کو نہیں مانتا۔ اچھا دوسرا کہتا ہے ہم سے انصاف نہیں ہو رہا۔ اگر ان کے حق میں ہو جائے تو انصاف ہو رہا ہے گویا اپنی مرضی کا فیصلہ لینے کی خواہش ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں بعض سیاستدان عادی ہو چکے ہیں کہ انہوں نے کیس دیکھا ہی نہیں تھا کہ کبھی عدالت بھی ان کے خلاف فیصلہ دے سکتی ہے لہٰذا وہ ذہنی طور پر بڑے ڈسٹرب ہوتے ہیں۔ اور پھر جو ان کے جی میں آتا ہے کہہ ڈالتے ہیں۔ خود کو قانون کا ماہر نہیں سمجھتا۔ البتہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ نوازشریف کے وکیل کے پاس اب شاید کچھ کہنے کو رہا نہیں اور پچھلی کئی تاریخوں سے میں خواجہ حارث کے والد جو تھے خواجہ سلطان احمد ان کا نام تھا بڑی دلچسپ بات ہے کہ یہ میرے اور پاکستان کے بہت سے لوگوں کے پسندیدہ بہترین میوزک ڈائریکٹر خواجہ خورشید انور کے جو سگے بھائی خواجہ سلطان احمد کے صاحبزادے ہیں ان کی فیملی لاہور میں بڑی معتبر سمجھی جاتی ہے لاہور میں اور خواجہ خورشید انور نے بھی گورنمنٹ کالج لاہور سے پاکستان بننے سے پہلے ایم اے کیا تھا اس کے بعد وہ ممبئی کی فلم انڈسٹری میں گئے تھے۔ اور پہلی فلم ”کڑمائی“ تھی ان کی۔ پاکستان بننے کے بعد ان کی ٹاپ کی فلمیں تھیںنور جہاں سے انہوں نے بڑے زبردست گانے گوائے جیسے انتظار، جھومر اور چنگاری کے اور اس قسم کی فلموں مثال کے طور پر ”کوئل“ کے یہ بڑے پڑھے لکھے لوگوں کی فیملی ہے لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ جو حالات نظر آ رہے ہیں پچھلی کئی پیشیوں سے جو کچھ ان کے پاس تھا وہ کہہ چکے ہیں اب ری بیٹ ہو رہا تھا سب کچھ اب انہوں نے یہ کہہ دیا۔ اس سے وہ وقت بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں آپ کو پتہ ہے چیف جسٹس سپریم کورٹ کہہ چکے ہیں کہ ایک ماہ کے اندر اندر لوگوں کو بڑا انتظار کر کے تو ایک ماہ کے اندر فیصلہ دیں۔ بڑا آسان کام ہے پہلے وکیل انکار کر گئے۔ اگلے وکیل کا کہیں نواز شریف کا کہ میں سوچ رہا ہوں۔ اور وہ ہفتہ دس دن اس میں گزار لیں گے۔ پھر دوسرا وکیل آئے گا کہے گا مجھے کچھ بحث کے لئے وقت دیں میں نے پچھلی ساری کارروائی پڑھنی ہے ایک مہینہ تو اس میں لکھ جائے گا۔
ضیا شاہد نے کہا الیکشن کی سیٹوں میں ردوبدل کی کسی کو کہاں سے لڑانا ہے یہ ہر پارٹی کو حق حاصل ہے۔ البتہ میں یہ کہوں گا کہ جب کسی چیز کی انتہا ہو جائے تو پھر فیصلے قدرت کے ہاتھ میں چلے جاتے ہیں۔ مجھے عمران خان کی ایک ہی بات پسند آئی۔ میں نے کہا جس دن رائل پام میں میری کتاب کا فنگشن تھا مجھے ان کی تقریر بڑی پسند آئی۔ ہمیشہ ان کا طریقہ کار واردات ہوتا تھا کہ ہر تقریر میں 10,8 نئے الزامات لگاتے تھے۔ یہ ٹکٹیں تقسیم کرنے کا عرصہ تو بہت بعد میں آیا میں نے کہاتھا کہ عمران آپ کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ جو لوگ جوق در جوق آپ کی پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں اب مشکل ہو جائے گا کہ آپ پرانے محنتی کارکنوں جنہوں نے قربانیاں دی ہیں ان کو رکھیں یا جس نے کل تک دوسرا جھنڈا لگایا ہوا تھا اور وزارت کے بھی مزے لوٹے اور سفارتوں کے بھی لوٹے کہ جیتنے والے امیدوار کے طور پر تو یہی فارمولا کے تحت۔ کل کے لڑکوں کو نہیں دو گے تو کہیں گے کہ 16 سال سے دس سال سے دھکے دے رہے ہو۔ آج وہی پوزیشن ہے۔ عمران نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ سٹیج پر بیٹھ کر آپ ٹھیک کہتے ہیں ہم کوشش کریں گے کہ پرانے لوگوں کو ساتھ لے کر چلیں۔ یہ جو عمران کو عین موقع پر کمپرومائز کرنا پڑ رہے ہیں اس کے جواب میں لوگ لاﺅ لشکر لے کر ان کے گھر کے باہر پہنچ گئے ہیں۔ میں تو پارٹی میں شامل نہیں ہوں۔ مجھے یوسف رضا گیلانی نے انٹرویو میں ایک شعر سنایا میں نے بڑا انجوائے کیا۔
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
پانی کے مسئلے کے دو ضروری حصے ہیں ایک حصہ یہ ہے کہ اندرونی ملک جو پانی برساتوں میں، سیلابوں میں بہت زیادہ آ جاتا ہے ہماری محفلیں خراب کرتا ہے مال مویشی ڈوب جاتے۔ لوگ بھی مر جاتے ہیں کسی جگہ پر ایسا انتظام نہیں ہے اسی سرپلس پانی کو فاضل روک کر بند بنا کر اس کو سال بھر کے لئے محفوظ کر لیا جائے۔ وہ دریا میں سیدھا جاتا ہے پنجند کے مقام پر پہنچتا ہے اور پھر سندھ میں شامل ہو جاتا ہے اور سندھ میں کراچی تک کوئی ڈیم نہیں ہے کالا باغ ڈیم بننا تھا تربیلا اور منگلا کے بعد اور اس کی باقاعدہ تاریخ مقرر ہ۰و گئی۔ انڈس بین واٹر ٹریٹی 1960ءمیں ہوا تھا۔ اور 1964ءمیں دوسرا ڈیم شروع ہوا اس وقت منگلا اور تربیلا کے بعد کالا باغ ڈیم کی باری تھی صوبوں میں اختلاف کے باعث اختلافات پیدا ہوئے۔ کے پی کے کل کے سرحد سے ولی خان وجہ بنے نعررہ لگایا کہ کالا باغ بنا تو ہم اسے اڑا دیں گے اور سندھ سے بھی جہاں پیپلزپارٹی کی ہمیشہ حکومت رہی ہے سختی سے مخالفت کی گئی کہ ہم کالا باغ ڈیم نہیں بننے دیں گے ہمیں سارا سال پانی کا بہاﺅ درکار ہے ہمارے کچے کے علاقوں میں آب پاشی کے لئے ضروری ہے مچھلیوں کے لئے ضروری ہے اور ہمارے جو اردگرد جو درخت ہیں اس کے لئے ضروری ہے چنانچہ ہم اس ڈیم کو نہ بنا سکے۔ حالانکہ اعداد و شمار میں وہ کہتے ہیں کالا باغ8سال میں بن کر مکمل ہو سکتا ہے اور اس سے دو سال پہلے سے ہی یہ بجلی کی پیداوار دینا شروع کر دے گا۔ اس مسئلے میں میری رٹ جو ہے میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ جناب علی ظفر نے سپریم کورٹ میں دی ہوئی ہے اور ابھی تک اس کی باری نہیں آئی۔ اب ہم ڈھونڈ رہے ہیں کہ جلد سماعت کی درخواست دے رہے ہیں اب چونکہ علی ظفر وزارت کی نذر ہو گئے اور آج کل وزیر قانون اور وزیر اطلاعات بھی ہیں۔ لہٰذا میں اس کو اپنے دوست ڈاکٹر خالد رانجھا سے کرواﺅں گا۔ میں نے کوشش کی تھی کہ اعتزاز احسن جو میرے خیال میں پہلا قابل وکیل ہیں مگر ان کے پاس وقت نہیں تھا بہت مصروف ہیں لیکن کوشش کروں گا کہ ان سے وقت لوں۔ یہ دو الگ الگ کیس ہیں، ایک رٹ کالا باغ ڈیم کو بنائیں اور اس کے لئے صوبوں کے درمیان اختلافات کے لئے مشترکہ مفادات کونسل بنائیں جو سپریم کورٹ اس ہدایت اور آرڈر کے ساتھ بھیجے تو 3 مہینے کے اندر اندر جتنی بھی میٹنگز کرنا ہوں، مشترکہ مفاددات کونسل میں چاروں صوبائی وزیراعلیٰ ہوتے ہیں اور وزیراعظم صاحب صدارت کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ جگہ ایسی ہو گی جہاں ہر صوبے کو اپنی شکایات بتانی پڑیں گی اور ماہرین کی مدد سے انہیں کم کر کے یا ان میں تبدیل کر کے شکایات کا ازالہ کر کے متفقہ لائحہ عمل بنایا جا سکے۔ دوسری رٹ کل ایڈووکیٹ کے ذریعے اسلام آباد میں داخل ہو گی اور انشاءاللہ پرسوں جمع ہو جائے گی۔ اس رٹ کو میں نے4,3 وکلاءسے ویٹ کروایا ہے اور ڈاکٹر خالد رانجھا اسے پیش کریں گے۔ جو پرویز مشرف کے دور کے سابق وفاقی وزیر قانون، سابقق وزیر قانون پنجاب اور لاہور ہائی کورٹ کے جج بھی رہے ہیں۔ خالد رانجھا میرے پرانے دوست ہیں جب زمانہ طالب علمی میں میں اورینٹل کالج یونین کا صدر تھا تو سامنے ان کا لا کالج ہوتا تھا اور یہ لا کالج یونین کے صدر تھے۔ اس زمانے سے یہ میرے دوست ہیں۔ چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں نے کہا کہ انہوں نے مجھے کاغذ دیا اور کہا کہ آپ کی رٹ میں ایک کمی ہے، میں نے کہا وہ کیا تو میری اُردو میں بنائی رٹ لیگل ضرورتوں کے تحت انگریزی میں کمپائل کیا اور کہا کہ اس میں کمی یہ ہے کہ دو چیزوں پر ایک ڈان میں ایک خاتون کا آرٹیکل چھپا جو خود بھی اس وفد میں شامل تھیں جس نے عالمی ثالثی عدالت میں آج سے برس ہا برس پہلے پاکستان میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ اس خاتون کا مضمون ڈان میں انگریزی میں چھپا۔ انہوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل کی ٹیم جو شاہد خاققان عباسی نے اپنے آخری دور میں بھیجی تھی۔ کشن گنگا میں جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی افتتاح کرنے آئے تو بہت شور مچا اور انہوں نے ورلڈ بینک کے پاس ٹیم بھیجی۔ ورلڈ بینک انڈس ٹریٹی پر ہمارا گارنٹڈ ہے۔ ہم اسے کہتے ہیں اور وہ عالمی ثالثی عدالت کو ریفر کر دیتے ہیں مگر پچھلے سات سال سے وہ ہمارا موقف نہیں ریفر کر رہے۔ یہی بات مجھے شاہد خاقان نے بھی بتائی جب میں اپنا کیس ان کے بطور وزیراعظم ان کے پاس لے کر گیا۔ جس کی تصویر اور خبر بھی چھپی ہے کہ بھارت ستلج اور راوی کا سارا پانی بند نہیں کر سکتا۔ اور ان کو تمام کاغدات دیتے ہوئے بھی ایک تصویر ہے جہاں میں کہہ رہا ہوں کہ ہم ورلڈ بینک سے کیوں رجوع نہیں کرتے۔ جس پر انہوں نے کہا کہ وہ نہیں اجازت دیتا۔ مضمون لکھنے والی خاتون نے ثابت کیا ہے کہ انڈس ٹریٹی میں کسی جگہ پر کوئی شق ایسی موجود نہیں، ورلڈ بینک صرف پیسے دینے والا ادارہ تھا، وہ ہمارے کسی درخواست کو مسترد نہیں کر سکتا۔ اس پر پابندی کہ وہ ہم سے چیز لے گا اور آگے پہنچائے گا۔ اب وہ ڈاکخانہ اگر اپنے فرائض ادا کرنے سے انکار کر دے تو ہم اس پر دباﺅ ڈالتے ہیں کہ آپ کو نہ کہنے کا حق نہیں ہے، انہوں نے ابھی ہمارے وفد کو انکارکر کے واپس بھیجا ہے جس کی خبریں دو ہفتے پہلے چھپ چکی ہیں۔ دوسری چیز جس پر کچھ اور دوستوں نے بھی میری توجہ دلائی تھی کہ 2016ءمیں جب وزیراعظم نواز شریف تھے، عابد شیر علی کے پاس آبی وسائل کی وزارت نہیں تھی پانی و بجلی کی وزارت ملی اسے دیکھتی ہے۔ اس وقت سینٹ کے ارکان نے پانی کی شدید کمی پر بحث کی تھی کہ ہمیں اس کے خلاف عالمی ثالثی عدالت میں جانا چاہئے۔ اس میں یہ بھی طے ہوا تھا کہ اب یہی قرارداد قومی اسمبلی بھیجی جائے جہاں وزیراعظم نوازشریف تھے۔ افسوس ہے کہ ہمارے ملک کے حکمرانوں نے، آخر پر اعتراض عابد شیر علی کا ہے میں اس پر بھی متفق ہوں، میں میرٹ پر چلتا ہوں، یہ نہیں دیکھتا کہ الف نے کہا تھا یا ب نے کہا تھا۔ انہوں نے ٹھیک کہا کہ پیپلزپارٹی کو اب یہ مسئلہ کیوں یاد آیا، یہ تو خود پانی کے مسئلے میں رکاوٹ رہے ہیں، انہوں نے اپنی 5 سالہ حکومت میں اس سلسلے میں کیوں کوئی ایکشن نہیں لیا۔ ایک تو ڈان میں خاتون نے لکھا کہ ورلڈ بینک کو کوئی حق نہیں اور نہ انڈس واٹر ٹریٹی نے انہیں یہ اجازت دی ہے کہ وہ ہماری کوئی بھی درخواست مسترد کر دے، وہ عدالت نہیں ہے کہ انکار کر دے۔ وہ کیسے انکار کر سکتا ہے۔ ہمارے لوگوں کی نالائققی ہے، یہاں کے لوگ سفارشی ہوتے ہیں۔ ہم پہلے دو کیس بھی اسی لئے ہارے ہیں کہ اس کے لئے بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ دو سے اڑھائی سال لوگ ریسرچ کرتے ہیں۔ میں نے انڈسس واٹر کے ہائی کمشنر سے پوچھا اور وہ کہتے ہیں کہ ضیا صاحب عالمی ثالثی عدالت میں جذباتی لفاظی نہیں چلتی۔ ہمیں کوئی مثال دیں کہ دنیا کے کسی ملک میں اوپری طرف کے ملک نے نچلی طرف کے ملک کا پانی بند کیا تھا اور نچلی طرف کے ملک نے کس طرح سے وہ پانی کھلوایا تھا۔ میرے جیسے بنددے کو مصیبت پڑی ہوئی تھی میں ڈیڑھ مہینے سے اس رٹ پر لگا ہوا ہوں۔ میں ملتان میں اعلان کر کے آیا کہ ہم عدالت میں جا رہے ہیں اور مجھے ایک ماہ بیس دن چیزیں جمع کرنے میں لگ گئے کہ عدالت میں رٹ کروں۔ کہ یہ چیز ہے تو اس کا اصل لاﺅ اور اس چیز کے نوٹیفکیشن لاﺅ، اس فیصلہ کی کاپی لاﺅ ، پچھلی مرتبہ فیل ہوئے تھے، کیوں ہوئے تھے اس کا فیصلہ لاﺅ اور اس پر تنقید لاﺅ کہ کس وجہ سے ہارے تھے۔ اگرچہ عابد شیر علی کا پیپلزپارٹی پر یہ الزام درست ہے کہ آپ نے اپنے دور میں کیا کیا۔ لیکن ایک لحاظ سے یہ الزام غلط بھی سمجھتا ہوں کہ چلو انہوں نے نہیں کیا مگر اب ہم پیاسے مر رہے ہیں تو آپ ہی کر لیں۔ اس پر عابد شیر علی بھی قومی مجرم ہیں اور اس وقت کی وزارت عظمیٰ نوازشریف کی بھی ذمہ داری ہے، کس لئے وہ خاموش رہے۔ سینٹ بحث کرتا ہے اور ایک چیز پر اتفاق رائے کرتا ہے مگر قومی اسمبلی میں اکثریت نوازشریف کی تھی تو انہوں نے اسے مسترد کر دیا۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain