لاہور (وقائع نگار) ملک بھر میں بھی لیلة القدر نہایت عقیدت واحترام کے ساتھ منائی گئی۔ فرزندان اسلام نے رات بھر تلاوت قرآن مجید، نوافل اور ذکر واذکار میں گزاری اور سحری تک عبادت وریاضت کرتے رہے۔ شہر بھر کی مساجد کو برقی قمقوں سے سجایا گیا تھا۔ کراچی کی مساجد میں خصوصی انتظامات کئے گئے۔ مساجد میں نماز تراویح میں ختم قرآن کے اجتماعات ہوئے۔ علماءکرام نے اس موقع پر اپنے خصوصی خطابات میں شب قدر کے فضائل بیان کئے۔ ملک کی سلامتی واستحکام، امت مسلمہ کی سربلندی اور ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ 27 ویں شب کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ کے حضور خصوصی دعائیں کی گئیں۔ علماءنے شب قدر کے فضائل بیان کئے۔ محافل شبینہ وجشن نزول قرآن، صلوة التسبیح اور اللہ تعالیٰ کے حضور گناہوں سے توبہ، جنت کی طلب، رزق کی کشادگی، عالم اسلام اور پاکستان کی سلامتی کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ شہر بھر کی مساجد میں علمائ، آئمہ اور خطباءنے مسلم امہ کی ترقی، خوشحالی ملک وقوم خصوصاً شہر کراچی کے امن وسلامتی اور استحکام کے لئے خصوصی اجتماعی دعائیں کیں۔ علماءکرام نے کہا کہ رمضان المبارک گناہوں سے توبہ اور ہماری مغفرت کے لئے ایک علماءکرام نے شب قدر کے فضائل بیان کرتے ہوےءکہا کہ اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ عزت و کرامت والی رات، رحمتوں اور برکتوں والی رات، بخششوں اور مغفرت والی رات، ایک ہی شب میں ہزار مہینوں کی عبادت کا اجر دینے والی رات ہے۔ اس رات کا اجر اور فضیلتیں تو کائنات کا رب ہی بہتر جانتا ہے مگر احادیث اور روایات سے ثابت ہے کہ اس رات جبرئیل امین کی قیادت میں فرشتوں کا قافلہ زمین پر اترتا ہے اور عبادت کرنے والوں کی مغفرت کیلئے طلوعِ آفتاب تک دعا کرتا ہے۔ علما کے مطابق نزولِ قرآن کا سلسلہ بھی اسی مبارک شب سے شروع ہوا، ایک ایسا ضابطہ حیات جو رہتی دنیا تک انسانوں کی رہنمائی کرتا رہے گا۔





































