تازہ تر ین

سابق ایس ایچ او رائیونڈ کا جوئے کے اڈے پر چھاپہ ، دوسرے دن معطل

لاہور (نادر چوہدری سے) سیاسی اور قانونی سرد جنگ میں جرائم پیشہ کی چاندی، سابق ایس ایچ او رائیونڈ کی جانب سے جوئے کے اڈے پر چھاپہ، ایوان صدر اسلام آباد سیکرٹریٹ کے لیٹر پیڈ پر ایس ایچ او اکمل خالد معطل، اگلے ہی روڈ اسی ڈویژن کے دوسرے تھانے مصطفی ٹاﺅن میں بطور ایس ایچ او دوبارہ تعینات۔ ذرائع کے مطابق محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت اور جرائم پیشہ عناصر کی سیاسی شخصیات کے ساتھ بہتر روابط کی وجہ سے بیشتر بار پولیس کو کاروائی کرنے میں بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی واضح مثال چند ہفتے قبل تھانہ رائیونڈ میں تعینات سابقہ ایس ایچ او سب انسپکٹر اکمل خالد ہیں جنہوں نے گھر کے اندر جوئے کی خفیہ اطلاع پر بابلیانہ گاﺅں رائے ونڈ میںاصغر علی ، کاشف ،TASIحیدر علی اور اہلکاروں کے ہمراہ چھاپہ مارا جہاں سے انھوں نے تین ملزمان گھر کے مالک وارث علی، ملک مختار، نوید یونس اور ایک نامعلوم کوجواءکھیلتے ہوئے موقع سے گرفتار کرلیا جبکہ دوران ریڈ ٹیلی فون سیٹ، کمپیوٹراور دیگر سامان بھی برآمد کرلیا گیا تاہم ملزم پارٹی کی جانب سے متعدد بار پیسوں کی آفر کرنے کے باوجود پولیس کی جانب سے ملزمان کو نہ چھوڑنے کی پاداش میں ملزمان نے اپنے سیاسی روابط اور اثر و سوخ استعمال کرتے ہوئے موقع سے گرفتار ہونے والے ایک شخص نوید یونس نے ایوان صدر میں درخواست دائر کر دی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ میں 5مئی 2018کو اپنے عزیز وارث علی کو ملنے کے لئے بابلیانہ گاﺅں رائے ونڈ گیا تھا جہاں ملک مختار بھی موجود تھا۔ اسی دوران وہاں تقریباً ساڑھے 4 بجے صبح وارث علی کے مکان کو پولیس کی بھاری نفری نے چاروں طرف سے گھیر لیا جو کہ مسلح تھے۔ اکمل خالد، اصغر علی، کاشف ، TASI حیدر علی اور پانچ چھ کے قریب پولیس اہلکار وارث علی کے گھر میں داخل ہوگئے اور ہمارے سمیت گھر میں موجود خواتین سے بدتمیزی کی۔ نوید یونس نے درخواست میں مزید بتایا کہ میں، جو گھر کا مالک تھا وارث اور ملک مختار نے جب پولیس سے گھر میں گھسنے کی وجہ دریافت کی تو ایس ایچ او اکمل خالد نے ہم سے کہا کہ یہاں جواءہوتا ہے جس وجہ سے چھاپہ مارا گیا ہے جبکہ TASIحیدر علی نے خواتین کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا اور فحش گالیاں بھی دیں اور گھر سے ٹیلی فون سیٹ، کمپیوٹر وغیرہ زبر دستی اُٹھا کر گاڑی میں رکھ لیا اور ہمیں بھی زبر دستی گاڑی میں بیٹھا کر تھانہ رائے ونڈ سٹی لے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس جوئے کے اڈے کو حاصل پشت پناہی کی بناءپر 5 ہی روز کے اندر 10 مئی کو ایوان صدر اسلام آباد سے سی سی پی او لاہور کے نام 1765/2018نمبری ایک لیٹر جاری کروا لیا جس میں سی سی پی او لاہور کو سابقہ ایس ایچ او رائیونڈ اکمل خالد کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا تھا جس پر 18مئی کو اکمل خالد کو تھانہ رائیونڈ سے معطل کر کے پولیس لائن بھیجوا دیا گیا جس سے ایک طرف تو سیاسی شخصیات کو خوش کر دیا گیا جبکہ دوسری جانب بااثر سب انسپکٹر اکمل خالد نے بھی پولیس لائنز میں کچھ زیادہ وقت نہیں گزارا اور اگلے ہی روز ان کو صدر ڈویژن کے ہی تھانہ مصطفی ٹاﺅن کا ایس ایچ او لگا دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کسی ایس ایچ او کے خلاف کوئی ایسی شکایت موصول ہوتی ہے کہ جس کی روشنی میں اسے معطل کرنا پڑے تو اسکی دوبارہ تعیناتی سے قبل اسکی پہلی غلطی کی محکمانہ انکوائری کی جاتی ہے جس میں اگر وہ غلط ثابت ہو تو دور دور تک اسکی تعیناتی کے آثار نہیں ہوتے لیکن اگر وہ اس الزام میں بے قصور ہو تو اسے واپس اسکے عہدے پر باعزت طریقے سے بحال کر دیا جانا چاہئیے لیکن لاہور پولیس کے اعلی ترین افسران بھی سیاسی شخصیات کو خوش کرنے میں مصروف ہیں جس کی وجہ سے انھیں ان کی ایماءپر ایس ایچ او کو معطل کرنا پڑتا ہے جبکہ ایس ایچ او کی “تگڑی” سفارش کی وجہ سے اسے بھی اگلے ہی روز کسی نہ کسی تھانے میں تعینات کرنا پڑتا ہے جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain