اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا ہے کہ عمران خان کی بیٹی کے معاملے پر 2006ءمیں ایم کیو ایم نے ریفرنس دائر کیا جو سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین کی وساطت سے الیکشن کمیشن کو ملا۔ ایم کیو ایم کی جانب سے دائر فل ڈاکومنٹری رپورٹ پر 15 دن تک بحث ہوتی رہی۔ اور 15 دن بعد چیئرمین الیکشن کمیشن قاضی فاروق نے تمام حالات کو دیکھتے ہوئے اسے ماضی کا قصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ 2002ءمیں بھی انہوں نے انتخابات میں حصہ لیا تھا اس وقت ریٹرننگ آفیسرز کے ہاں اعتراض کیوں نہیں کیا لہٰذا ٹیکنیکل وجوہات کی بنیاد پر کیس خارج کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ اگر ریفرنس خارج ہو جائے تو وہ دوبارہ نہیں آتا۔ افتخار محمد چودھری اس وقت کیس لے کر سپیکر قومی اسمبلی کے پاس نہیں جا سکتے مگر اپنے دعوے کے مطابق ریٹرننگ افسران کے پاس جائیں گے تو یہ کیس ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ یہ کیس عدالتوں میں جائے گا۔ نجی ٹی وی پروگرام میں انہوں نے مزید کہا کہ سابق صدر پرویز کے انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی کے حوالے سے سپریم کورٹ کی طرف سے بہت اہم ففیصلہ آیا جب سسپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اسحاق ڈار کو انتخاب لڑنے کی اجازت دی۔ کہ ابھی انہیں سزا نہیں ہوئی۔ اسحاق ڈار کاغذات نامزدگی کی منظوری کے بعد ایسے حالات میں سنیٹر بھی بن گئے تو مشرف صاحب کے کاغذات نامزدگی بھی ریٹرننگ افسران کی صوابدید پر ہے کہ وہ انہیں منظور بھی کر سکتے ہیں اور مسترد بھی۔ آئندہ انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنا ویب سائٹ کا نظام بہت بہتر کیا ہے۔ انتخابات کا نتیجہ واٹس ایب کے ذریعے پولنگ سٹیشن سے فوراً الیکشن کمیشن آف پاکستان اور ریٹرننگ افسران کو پہنچ جائے گا۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا ہے کہ افتخار محمد چودھری کو سیتا وائٹ کیس کے حوالے سے عمران خان کے خلاف بات نہیں کرنی چاہئے۔ ایسی باتیں ذاتی مفادات، انتقام اور ذاتی انا کے زمرے میں آتی ہیں۔ چینل ۵ سے ٹیلی فونک گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ریٹرننگ افسران ایسے معاملات سننے کے مجاز ہی نہیں ہیں ان کے پاس اختیار ہی نہیں ہے کہ 20 سال پرانا کیس لڑیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی ایلیکشن ہوتے رہے ہیں۔ 2002ءکے اور 2013ءمیں اس مسئلے کو کیوں نہیںپیش کیا۔ اس وقت اٹارنی افسران اور عدالتوں کے سامنے کیوں نہیں لائے اور اب 2018ءکے الیکشن میں یہ کیس لایا جا رہا ہے۔ ایسا کیس بدنیتی کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بدقسمتی ہے کہ ان کے وکلاءسوائے ٹی وی پر بیانات دینے کے علاوہ کوئی عملی کام نہیں کرتے۔ انہیں کیس سامنے آنے پر کہنا چاہئے کہ یہ بدنیتی ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے سرکاری طور پر کیس آیا۔ اس وقت میں الیکشن کمشنر جسٹس قاضی فاروق صاحب نے بدنیتی کی بنا پر اس کیس کو خارج کر دیا۔ اب افتخار چودھری کیا کیس لا رہے ہیں کہ نہ اس خاتون کو سامنے لا سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فل بنچ، سسپریم ہائی کورٹ کے سٹنگ جج اور چیف الیکشن کمشنر نے 2006ءمیں اس کیس کو خارج کیا۔ اب 2018ءمیں یہ کیس بنتا ہی نہیں ہے۔ عمران خان کی کوتاہیاں ہو سکتی ہیں۔ مگر سیتا وائٹ کیس الیکشن کمیشن کے مقرر کردہ ریٹرننگ افسران کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے یہ معاملہ الیکشن ٹربیونل کے دائرہ کار میں نہیں۔





































