اسلام آباد، لاہور (آئی این پی+ مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے نواز شریف کا مقدمہ سرکاری وکیل کی وساطت سے آگے بڑھانے کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا ہے کہ نہ ڈیل ہونی چاہیے نہ ڈھیل،خواجہ حارث کو پتا ہے کہ ان کے موکل لٹک گئے ہیں اس لئے مقدمہ لٹکا رہے ہیں، جتنے یہ ہاتھ پاﺅں مار رہے ہیں اتنا ہی دلدل میں پھنس رہے ہیں،تحریک انصاف ( آج ) لوڈشیڈنگ کے خلا ف ٹوکن احتجاج کر ے گی ،شہباز شریف نے کہا تھا کہ ہماری حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد لوڈشیڈنگ کے ذمہ دار ہم نہیں، یہ بجلی تھی یا بریانی تھی جسے آپ شاپر میںساتھ لے گئے ہیں، ہم نگران وزیراعظم کی پاور سیکٹر پر بریفنگ کا انتظار کر رہے ہیں،مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنی مدت پوری کرنے کے تین چار دن پہلے 18سے 20تعیناتیاں کیں،بیورو کریسی میں فوری طور پر تبدیلیاں لائی جائیں،انتخابات کے لئے 178میں سے 104 پارٹی ٹکٹ تحریک انصاف کے پرانے لوگوں کو ملے،22(ن)لیگ جبکہ 18پیپلز پارٹی سے آنے والے امیدواروں کو ٹکٹ دیئے گئے ، کچھ سیٹوں پر ایڈجسٹمنٹ کے معاملات چل رہے ہیں،افتخار چوہدری کو (ن)لیگ نے 2013میں استعمال کیا، اگر وہ دوبارہ استعمال ہونا چاہتے ہیں تو ان کی اپنی مرضی۔پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے کہا کہ خواجہ حارث ایڈووکیٹ نے ٹرائل کا بائیکاٹ کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ایک ماہ کا وقت دباﺅ کے مترادف ہے، 134دن یہ کیس عدالت میں چلا ، تحریک انصاف نے ایک سال پانامہ کیس کے حوالے سے جدوجہد کی،134دن کی سماعت کے بعد یہ کیس آیا اور اب 9ماہ سے زائد کا وقت ہو گیا جونہی کیس آگے جانے لگتا ہے کوئی نہ کوئی درخواست آ جاتی ہے،سوال یہ ہے کہ آپ کے پاس جائیدادیں خریدنے کےلئے پیسہ کہاں سے آیا، فواد چوہدری نے کہا کہ خواجہ حارث کو پتا ہے کہ ان کے کلائنٹ لٹک گئے ہیں اس لئے مقدمہ لٹکا رہے ہیں، جتنے یہ ہاتھ پاﺅں مار رہے ہیں اتنا ہی دلدل میں پھنس رہے ہیں، یہ مقدمہ ختم ہی نہیں ہورہا، تحریک انصاف سمجھتی ہے کہ نہ ڈیل ہونی چاہیے نہ ڈھیل ہونی چاہیے اگرخواجہ حارث باقی مقدمہ مکمل نہیں کرتے تو ضابطہ فوجداری کے تحت ان کو وکیل مہیا کیا جائے اور یہ مقدمہ سرکاری وکیل کی وساطت سے آگے بڑھایا جانا چاہیے،۔ فواد چوہدری نے کہا کہ اس وقت ملک میں بدترین لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شہباز شریف نے کہا تھا کہ ہماری مدت ختم ہونے کے بعد لوڈشیڈنگ کے ذمہ دار ہم نہیں، یہ بجلی تھی یا بریانی تھی جسے آپ شاپر میںساتھ لے گئے ہیں،،عمران خان نے نگران وزیراعظم سے مطالبہ کیا تھا کہ بتایا جائے کہ لوڈشیڈنگ کا ذمہ دار کون ہے؟ہم نگران وزیراعظم کی پاور سیکٹر پر بریفنگ کا انتظار کر رہے ہیں، قوم کو بتانا چاہیے کہ اس وقت توانائی کے کیا معاملات ہیں،(آج)3بجے عمران خان نے تمام ورکرز کو ہدایت کی کہ وہ ہر ضلع کے پریس کلب کے دفتر کے باہر لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کریں۔ ترجمان پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران خان عمرے کےلئے گئے ہوئے ہیں زلفی بخاری برٹش نیشنل ہیں ان کا پاکستان میں کسی قسم کا کوئی کاروبار نہیں، پانامہ میں زلفی بخاری کا نام آیا، نیب نے تحقیقات شروع کیں تو انہوں نے ایک جنرل لسٹ جاری کی، زلفی بخاری کا نام اسی ضمن میں ای سی ایل میں آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے افتخار چوہدری کہ عقل کریں گے،(ن)لیگ نے 2013میں انہیں استعمال کیا، اگر وہ دوبارہ استعمال ہونا چاہتے ہیں تو ان کی اپنی مرضی، کھیل کا ڈبہ بند ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان عیدالفطر کے بعد انتخابی مہم کے لئے ہر ضلع میں جائیں گے، (ن) لیگ والوں کے ابھی سے ہاتھ پاﺅں پھول گئے ہیں، جہانگیر ترین کے کوئی اختلافات نہیں ہیں ،پارلیمانی بورڈ کے، تمام اراکین ٹکٹوں کے حوالے سے مطمئن ہیں،جن دو فیصد ٹکٹوں میں اختلاف تھا ان کے سروے آئیں گے جس کے مطابق فیصلہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ سیٹوں پر ایڈجسٹمنٹ کے معاملات چل رہے ہیں، عمران خان پانچ حلقوں سے انتخاب لڑیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ نواز شریف کے وکیل کیس میں تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) سے قوم مایوس ہو چکی، عمران خان کی قیادت میں ایک نئی جدوجہد کی جارہی ہے ، ہماری جمہوری پارٹی میں لوگوں کو اختلافات ہو سکتے ہیں ، پیپلز پارٹی سیاسی کھیل سے آوٹ ہوچکی ہے ، مجھے تیر کمان سے نکلتا دیکھائی نہیں دے رہا ،شیر بھی بکری بن چکا ،جاوید ہاشمی سینئر سیاستدان ہیں جو بھی فیصلہ کریں گے سوچ سمجھ کر کریں گے۔ پیر کو ملتان میں کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے لئے ریٹرنگ آفیسر کے پاس پیش ہونے کے بعد مخدوم شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے این اے 156 ،پی پی 216 اور پی پی 217 میں کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں، ٹکٹوں کی تقسیم میں تمام امیدواروں کو بلا کر پرکھا گیا ، ایک ایک امیدوار پر غور وفکر کرکے ٹکٹ جاری کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ میں سلام پیش کرتا ہوں ان کارکنوں کو جنہوں نے تحریک انصاف کے دھرنوں میں شرکت کی، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو ٹکٹوں کی تقسیم پر آنے والی شکایات کو دیکھے گی ۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت سے قوم مایوس ہو چکی ہے، عمران خان کی قیادت میں ایک نئی جدوجہد کی جارہی ہے ، ہماری جمہوری پارٹی میں لوگوں کو اختلافات ہو سکتے ہیں ، پیپلز پارٹی سیاسی کھیل سے آوٹ ہوچکی ہے ، مجھے تیر کمان سے نکلتا دیکھائی نہیں دے رہا اور شیر بھی بکری بن چکا ہے ۔جاوید ہاشمی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سینئر سیاستدان ہیں جو بھی فیصلہ کریں گے سوچ سمجھ کر کریں گے۔





































