لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) رمضان المبارک کا آخری عشرہ کی طاق راتیں عبادات کے لحاظ سے بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ چینل فائیو کے پروگرام مرحبا رمضان میں گفتگو کرتے ہوئے علامہ رشید ترابی نے بتایا کہ نبی کریم کی حیات طیبہ ہم سب کے لئے بہترین نمونہ اور ضابطہ حیات ہے۔اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں نبی کریم حسن اخلاق کا پیکر تھے جس کی قرآن نے بھی گواہی دی ہے۔نبی کریم سے جب کوئی سوال کرتا تو آپ فوراً اس کی طر ف توجہ فرماتے اور بڑے انہماک کے ساتھ اس کی پوری بات سنتے تھے۔بچوں کو سلام میں پہل کرتے تھے۔غیر مسلموں کے ساتھ بھی آپ اخلاق سے پیش آتے۔نبی کریم کے دنیا میں آنے سے قبل لوگ عجیب طرح کی جہالت میں ڈوبے ہوئے تھے ذرا ذرا سی بات پر لڑائی جھگڑا اور قتل و غارت معمول تھا لیکن آپ کی آمد نے معاشرے کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا اور آپ کی تعلیمات کے نتیجے میں صحیح معنوں میں ایک فلاحی معاشرہ تشکیل پایا کمزوروں کو ان کے حقوق ملے لوگوں نے جینے کا سلیقہ سیکھا۔کفار بھی آپ کے اخلاق اور صادق و امین ہونے کے معترف تھے۔افسوس آج ہم اپنے معاملات میں بے ایمانی کرتے ہیں ملاوٹ کرتے ہیں بزور بازودوسروں کا حق غصب کرتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔علامہ رشید ترابی نے بتایا کہ اگر کوئی آپ سے سوال کرے تو اسے جھڑکیں مت بلکہ پیار اور اخلاق سے پیش آئیں۔ اگر آپ کے پاس کچھ ہے تو دے دیں وگرنہ اس سے اخلاق کے ساتھ معذرت کر لیں۔ اس سے یہ ہو گا کہ سائل اپنا سوال بھول کر آپ کے اخلاق کو یاد رکھے گا۔ مولانا اصغر فاروق نے بتایا کہ قرآن کریم میں سارے انسانوں کے لئے رہنمائی موجود ہے۔ یہ کسی ایک قوم قبیلے یا بستی کےلئے نہیں نازل ہوا۔ یہ پوری انسانیت کو مخاطب کرتا ہے اور سب کے لئے رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے لیکن افسوس ہمارے گھروں میں قرآن تو موجود ہے لیکن ہم اس سے رہنمائی نہیں لیتے نہ ہی اس بات پر غور کرتے ہیں کہ اس کتاب میں اللہ تعالی ہم سے مخاطب ہے۔ ہم تک اپنا پیغام پہنچا رہا ہے۔ ہم قرآن کریم پر عمل کر کے ہی دنیا و آخرت میں کامیابی سے ہمکنار ہو سکتے ہیں۔ افسوس ایک عام انسان سے ہم کیا توقع ر کھیں علمائے کرام آپس میں اختلاف کا شکار ہیں۔ پروگرام میں معروف فنکار طارق طافو نے خصوصی طور پر شرکت کی انہوں نے کلام پاک، ”کرم مانگتا ہوں عطا مانگتا ہوں، الہی میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں “ پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بحیثیت مسلمان ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا چاہئے رمضان میں منافع خوری سے گریز کرنا چاہئے بلکہ کوشش کرنی چاہئے کہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں رضاکارانہ کمی کی جائے تاکہ غریب اور متوسط طبقہ کے لئے رمضان المبارک میں آسانی پیدا ہوسکے۔





































