تازہ تر ین

عید پر چوڑیوں کی کھنک کے پیچھے خطرے کی گھنٹی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) خواتین کی عید چوڑیوں کے بنا ادھوری ہے۔ جدید دور میں کانچ کی چوڑیوں کی جگہ دھاتی چوڑیوں نے لے لی ہے، جو رنگ اور کھنک میں کانچ کی چوڑیوں کے ہم پلہ ہیں مگر اس کھنک کے پیچھے یہ چوڑیاں بنانے اور انھیں یہ خوشنما رنگ دینے والوں کی زندگیوں پر موت کے سائے منڈلا رہے ہیں۔شاہدرہ کے علاقے بشیر کالونی میں چوڑیوں کی گھریلو صنعت زوروں پر ہے۔ علاقے کا تقریباً ہر خاندان چوڑی کے کاروبار سے منسلک ہے اور ہر مکان ایک چھوٹے سے کارخانے میں بدل چکا ہے۔
یہیں واقع چوڑی گھر نامی کارخانہ خاص قسم کی دھاتی چوڑی بنانے کے لیے مقبول ہے۔ یہاں دن رات پیتل کی چوڑیوں کو ڈھالا جا تا ہے۔رنگین چوڑیوں کی بیرونی سطح چھیل کر مزید خوبصورت بنایا جاتا ہے پھر مشین کے ذریعے انھیں مختلف اشکال دینے کے بعد رنگ کیا جاتا ہے۔ کئی چوڑیوں کو چمکدار رنگ دینے کے لیے مختلف کیمیکلز ملا کر سپرے کے ذریعے ان پر رنگ کیا جاتا ہے۔محمد ریاض دس سال سے اس کارخانے میں مزدوری کر رہے ہیں۔ ان کا کام تیار چوڑیوں کو رنگ کرنا ہے۔ دس سال سے اس کارخانے میں مزدوری کر رہے ہیں۔ ان کا کام تیار چوڑیوں کو رنگ کرنا ہےان کا کہنا تھا کہ کارخانے میں ایک دن میں پانچ ہزار چوڑیاں بنائی جاتی ہیں جنھیں رنگنے کرنے کے لیے دن میں چار سے پانچ ڈبے کیمیکل استعمال کیا جاتا ہے اور وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے یہ زہر اپنے اندر اتارنے پر مجبور ہیں۔اس کام کے دوران ریاض اور ان جیسے دوسرے کارکن چہرے پر کپڑے سے بنا ماسک تو پہنتے ہیں تاہم کپڑے کی یہ معمولی تہہ ان کے اندر اترنے والے زہریلے بخارات کو روکنے کے لیے ناکافی ہے۔
رنگ

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain