تازہ تر ین

کلثوم نواز بہادر ،شریف النفس خاتون،اللہ انہیں صحت عطا فرمائے،ضیاءشاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ سیاست میں کسی کو نوازشریف سے اختلاف ہو سکتا ہے۔ ان کی صاحبزادی کی سوچ سے لیکن میں نہیں سمجھتا پاکستان کا ایک بھی شخص ایسا ہو جس کے ہونٹوں پر زبان پر اس وقت دعا نہ ہو کہ اللہ پاک کلثوم نواز کو صحت عطا فرمائے وہ بڑی بہادر خاتون ہیں مجھے یاد ہے جب نوازشریف سعودی عرب میں ہوتے تھے تو انہوں نے بڑی ہمت اور جوانمردی کے ساتھ مسلم لیگ ن کی قیادت سنبھالی اور مجھے یاد ہے کہ یہ بہت سخت دور تھا۔ پرویز مشرف کا زمانہ جمہوری دور نہیں تھا۔ ظاہر ہے اسی حساب سے سیاسی سرگرمیوں پر اتنی ہی پابندیاں تھیں بیگم کلثوم نوازشریف سے اس وقت میرا بہت تعلق واسطہ رہا تہمینہ دولتانہ ان کی دست راست تھیں ساری تقاریب میں ان کے ساتھ رہتی تھیں اور مجھے یاد ہے کہ لاہور کے شہریوں نے یہ منظر بھی دیکھا اور آج تک بہت سے لوگوں کو یاد ہے کہ نہر کے پل سے گلبرگ روڈ کا پل ہے اس کے درمیان ان کی گاڑی روک لی گئی تھی اس میں تہمینہ ان کے ساتھ تھیں کلثوم نواز کے ساتھ تھیں اور اس گاڑی کے اگلے دونوں پہیے کرین کے ذریعے اوپر اٹھا دیئے گئے تھے۔ اور کئی گھنٹے اس کیفیت میں کلثوم نوازشریف تہمینہ دولتانہ کے ساتھ اس معلق گاڑی میں جس کے دونوں پہیے اوپر کئے گئے تھے اس میں بیٹھی رہی تھیں لیکن بڑی ہمت سے بے خوفی سے انہوں نے اس قسم کی ہر تکلیف برداشت کیا تھا۔ یہ خبر پورے پاکستان میں دکھ اور اضطراب سے دیکھی اور سنی گئی۔ مجھے امداد احمد میاں صاحب جو چینل ۵ کے نمائندے ہیں ان کا فون آیا تھا کہ میں خود کیمرے کے سامنے موجود ہوں اس عمارت کے باہر جس میں کلثوم نواز موجود ہیں کسی کو نوازشریف سے سیاسی اختلاف ہو سکتا ہے لیکن کلثوم نواز کی شخصیت ایسی ہے کہ ہمیشہ ان کے مخالف اور موافق لوگ ان کا احترام کرتے ہیں۔ ہم سب کی دعا اللہ پاک ان کوصحت کامہ عطا فرمائے۔ لندن سے وجاہت علی خان نے کہا جو بھی خبریں آ رہی ہیں وہ ہماری نہیں ہیں، وہ شریف فیملی کا کوئی فرد آ کر بتاتا ہے کہ بیگم کلثوم نواز کی حالت یہ ہے ایسی ہے لیکن جو ہم نے دیکھا کہ جو بھی اندر سے آیا نوازشریف سمیت ان کے جو بچے ہیں وہ بھی اندر سے باہر، مریم صاحبہ بھی آئیں وہ باقاعدہ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے اور میں نے نہیں سمجھتا کہ یہ خبریں بڑھا چڑھا کر پیش کی جا رہی ہیں کیونکہ کوئی بھی فیملی ممبر اس طرح نہیں کر سکتا کہ وہ گھر کے فرد کے بارے میں کہے کہ اس کی حالت نازک ہے۔ البتہ میڈیا وہی خبر دے رہا ہے جو شریف فیملی کے افراد بتا رہے ہیں کیونکہ میڈیا کا کوئی شخص اندر نہیں جا سکتا۔ حالانکہ یہ ہسپتال نہیں چھوٹا سا کلینک ہے۔ رپورٹر باہر کھڑے رہتے ہیں جو اندر سے باہر آ رہا بتاتے تھے آگے پہنچا دیتے ہیں۔ ساری حالت ان کی فیملی ممبر ہی بتتا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب نواز و مریم کی کلثوم نواز کی عیادت کیلئے لندن جانے کی استثنیٰ کی درخواست مسترد ہوئی تھی تو میں نے 4 پروگرام کئے تھے جس میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر سے بار بار درخواست کی تھی کہ کلثوم نواز کی عیادت کیلئے جانے کی اجازت دینی چاہئے۔ ایک خط بھی لکھا تھا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ مریم کیسی بیٹی ہے کہ ماں شدید بیمار ہے اور وہ یہاں جلسوں میں تقریریں کرتی و ہنستی پھرتی تھیں۔ سیاست سمیت سب کچھ چلتا رہتا ہے لیکن زندگی دوبارہ نہیں ملتی۔ وینٹی لیٹر پر جانے والے لاکھوں مریض صحت یاب ہو جاتے ہیں، قوم دعا کرے۔ میں نوازشریف کو آج بھی اپنا پرانا دوست سمجھتا ہوں، کبھی ان کو مجرم نہیں کہا۔ میں ان کے خلاف نہیں ہوں۔ نوازشریف جب پہلی بار وزیراعظم بنے تو مشورہ دیا کہ اپنے اثاثے ظاہر کر دیں، اگر میری بات مان لیتے تو حالیہ مشکلات میں نہ پھنسے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ ملا فضل اللہ کی ہلاکت کا واقعہ کوئی ایسا نہیں جس سے تاریخ تبدیل ہو جائے گی۔ ایسی موومنٹ لیڈر کے جانے سے فتح نہیں ہوتیں۔ مشرف جیسے بھی تھے ذہین آدمی تھے کشمیر پر جب بھی کوئی بات ہوتی تو ایک جملہ کہتے تھے ”روٹ کازز کیا ہیں“ اسی طرح ملا فضل اللہ کے مارے جانے سے اگر طالبان کی جڑیں ختم ہو گئی ہیں تو پھر واقعی یہ بڑا واقعہ ہے۔ دفاعی تجزیہ کار راحت لطیف نے کہا ہے کہ ملا فضل اللہ کے بعد اگلا لیڈر پہلے سے طے ہوا ہو گا۔ یہ ہماری حکومتوں کی طرح نہیں کہ ایک وزیر نہیں رہا تو کوئی اور ملے ہی نہ سی آئی اے، امریکی واقعات حکومت نے ملا فضل اللہ کو بہت پذیرائی دی، اس کو تحفظ فراہم کیا۔ جب اس کا بھرپور فائہ اٹھا لیا تو مار دیا تا کہ دوسرے ٹرینڈ ہو جانے والے طالبان نے پاکستان میں دہشتگردی پھیلانے کا کام لیا جائے کیونکہ اس کے بغیر ان کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ یہ بار بار وار کریں گے ہمیں اپنی تیاری کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ نہیں چاہتا کہ پاکستان و افغانستان کے درمیان امن آئے، وہ چاہتا ہے کہ پاکستانی عوام آرمی کے خلاف ہو جائے یہ ایک پلان ہے۔ امریکہ نے ”ڈومور“ کے مطالبے پر ہمیشہ ملا فضل اللہ کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔ پاک افغان کے آپس میں مفاہمت کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ جب تک افغانستان میں امریکہ موجود ہے امن قائم نہیں ہو سکتا۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain