کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک+ این این آئی): چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ جن کے پاس 6 مرلے کا مکان نہیں تھا آج ان کے دبئی میں ٹاور ہیں کیا ان سے پوچھا نہ جائے کہ اتنا پیسہ کہاں سے آیا۔کوئٹہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ احتساب کے عمل کو احسن طریقے سے مکمل کریں گے، شاہانہ انداز ملک اور عوام کی بربادی کا سبب بنیں گے تاہم اب احتساب بلا تفریق ہوگا اور سب کا ہوگا، اب احتساب پٹواری سے نہیں اوپر سے شروع ہوگا جب کہ کرپشن ختم کرنے کے عمل کو احسن طریقے سے انجام تک پہنچائیں گے۔ چیئرمین نیب نے کہا نیب کوئی انتقامی کارروائی نہیں کر رہا، بار بار کہا جاتا ہے کہ نیب کے اقدامات کی وجہ سے بیوروکریسی پریشان ہے، بیوروکریسی ریڑھ کی ہڈی ہے، نیب ہر وقت بیوروکریسی سے تعاون کرے گا، ہماری کوشش ہے کہ بیورو کریسی دبنگ طریقے سے آئین اور قانون کے مطابق فرائض انجام دے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی کو یقین دلاتا ہوں کہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جائے گا جس سے آپ کی تذلیل ہو، بیوروکریسی کو کسی ڈر خوف کی ضرورت نہیں تاہم بیوروکریسی اس بات کا خیال رکھے کہ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفادار نہ بنے۔جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ کرپشن دیمک نہیں کینسر ہے اور زوال کی بنیادی وجہ کرپشن ہے جب کہ نیب کی وجہ سے ملک کا کام رک گیا ایسا الزام سمجھ سے باہر ہے، نیب محتاط طریقے سے اپنا کام کر رہا ہے۔ بلوچستان کی زمین کو قدرت نے کتنی نعمتوں سے نوازا ہے لیکن سیندک اور ریکوڈک منصوبوں کا کیا حال ہوا سب کے سامنے ہے تاہم اہم ترین منصوبوں کی ناکامی میں ملوث افراد سے پوچھا جائے گا۔چیئرمین نیب نے کہا کہ ذاتی یا سیاسی انتقام کے پراپیگنڈے کو مسترد کرتا ہوں، اربوں کی کرپشن میں ملوث لوگوں پر پھول نچھاور کیے جاتے ہیں، جن کے پاس 6 مرلے کا مکان نہیں ہوتا تھا آج ان کے دبئی میں ٹاور ہیں، کیا ان سے پوچھا نہ جائے کہ اتنا پیسہ کہاں سے آیا۔ انہوں نے کہا کہ نیب پر سیاسی بنیادوں پر کاروائیاں کرنے کا الزام ہے جس کو مسترد کرتاہوں، نیب کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے، جمہوریت کا ہر قدم عوام کی فلاح کے لیے ہوتا ہے، عوام جس کو چاہے اقتدار میں لے آئیں، نیب کا کوئی لینا دینا نہیں تاہم ہمارے ملک میں کرپشن اور کرپٹ لوگوں کی کوئی جگہ نہیں۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہمارے مسائل کی بنیادی وجہ کرپشن کا دیمک اور زہر ہے جو قوم کی رگوں میں سرایت کر چکا ہے۔ کرپشن کے خاتمے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرور ت ہے ، کرپٹ عناصر سے اُنکی کرپشن سے متعلق سوال کرنا سیاست نہیں عبادت سمجھتا ہوں ، نیب کا ہر قدم قانون اور آئین کے مطابق اُٹھا یا جا رہا ہے ، جس کام کی لاگت 5 ہزار ہواور اس پر 5 لاکھ اور جسکی لاگت 5 لاکھ ہو اُس پر 5 کروڑ کا خرچہ کیوں آیا اگر کسی سے بدعنوانی سے متعلق سوال کرنا گستاخی ہے تو نیب قانون کے مطابق یہ گستاخی کرتا رہیگا، سب کا احتساب بلا تفریق ہو گا ، یا کسی کا نہیں ہو گا، بلوچستان کو ملنے والے فنڈز کاعشر عشیربھی بلوچستان کی ترقی پر خرچ ہوتا تو یہ محرومیاں نہ ہوتیں ۔ بلوچستان محکمہ خزانہ کیس کی لوٹی گئی رقم کی واپسی کرپشن کے خلاف سفر کی ایک کڑی ہے اُمید ہے یہ رقم بلوچستان کے لوگوں کی فلاح کے لئے خرچ کی جائیگی۔ یہ بات انہوں نے نیب بلوچستان میں منعقدہ سیمینار اور بلوچستان حکومت کو بلوچستان خزانہ کیس میں اربوں روپے مالیت کی جائیدادوں کی دستاویز اور چابیاں حوالگی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ڈی جی نیب بلوچستان مرزا محمد عرفان بیگ، نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان علاﺅالدین مری ، چیف سیکرٹری بلوچستان اور آئی جی بلوچستان بھی اس موقع پر موجود تھے ۔قبل ازیں ڈی جی نیب بلوچتان مرزا محمد عرفان بیگ نے تقریب کے آغاز میں خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا بلوچستان خزانہ کیس میں بلوچستان کی عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہم اُمید کرتے ہے کہ نیب کی بدولت جو رقم اور املاک بلوچستان حکومت کے حوالے کی گئی ہیں انہیں عوام کی بہتری کے لئے استعمال کیا جائیگا، ملکی معیشت حالت نزع میں ہے، بلوچستان میں متعدد ترقیاتی منصوبے کرپشن کی نظر ہوئے اگر کرپشن نہ ہوتی تو صوبے کی قسمت بدل جاتی، انہوں نے اظہار افسوس کیا کہ اس ملک میں لوگوں کی بڑی تعداد کو ایک وقت کا کھانہ میسر نہیں جبکہ دوسری جانب وہ لوگ بھی ہیں جن کے بیرون ملک اربوں کے اثاثے ہیں ۔ کیا ان سے سوال کرنا جائز نہیں۔ ملک 90 ارب ڈالر کا قرض دار ہے اس کا بنیادی وجوہات کرپشن ہی ہے۔چیئرمین نیب نے کہا کہ جمہوریت تو عوام کی خدمت کا نام ہے ، اگر عوام کی خدمت کی جاتی تو ہم 90 ارب ڈالر کے مقروض نہ ہوتے ، نیب کا سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں۔ کچھ لوگ خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے تھے کہ اُن سے اُنکی کرپشن کے بارے میں پوچھا جائیگا۔انہوں نے کہا جمہوریت کا مقصد اور ہر قدم عوام اور جمہور کے لئے ہونا چاہئے یہ صرف چند طبقات تک محدود نہیں ہونا چاہئے ، انہوں نے کہا اب عوام باشعور ہو چکی ہے وہ اقتدار کی مسند پر بیٹھنے والوں سے سوال کر رہی ہیں کہ اُنکے مفادات کا کس قدر تحفظ کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں متعدد ترقیاتی منصوبے کرپشن کی نظر ہوئے اگر چند منصوبے بھی پایہ تکمیل تک پہنچتے تو صوبے کی قسمت بدل جاتی قوم کی لوٹی ہوئی دولت کی کرپٹ عناصر سے واپسی کا عمل شروع ہو چکا ہے مشتاق رئیسانی کیس میںلوٹی گئی عوام کی دولت کی بلوچستان حکومت کو واپسی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔انہوں نے کہا بلوچستان خزانہ کیس میں بلوچستان کی عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہم اُمید کرتے ہے کہ نیب کی بدولت جو رقم اور املاک بلوچستان حکومت کے حوالے کی جارہی ہے انہیں عوام کی بہتری کے لئے استعمال کیا جائیگا۔تقریب کے اختتام پر چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے بلوچستان خزانہ کیس میں ملزمان سے ریکور کی گئی جائیدادوں کی دستاویز اور چابیاں نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان علاﺅالدین مری کے حوالے کیں۔





































