تازہ تر ین

ملک قرضوں میں جکڑا، ڈالر کا ریٹ بڑھ رہا ہے، تحریک انصاف کے پاس کیا معاشی پلان ہے:ضیا شاہد ، لوٹ مار کے 300 ارب ڈالر بیرون ملک ، تیسرا حصہ بھی واپس آ جائے تو ملک کا قرضہ اتر سکتا ہے : چوہدری سرور کی چینل۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ الیکشن کے قریب ہر شخص اور پارٹی ایسی ہی باتیں کرتی ہیں کہ وہ کامیاب ہوو جائے گی۔ مجھے لاہور سے بہت سے لوگوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) جیت جائے گی اور شہباز شریف صاحب وزیراعظم بن جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر تحریک انصاف والوں سے بات کریں تو وہ اس حد تک پر یقین ہیں اور سمجھتے ہیں کہ نہ صرف وہ کامیاب ہوں گےے بلکہ کسی کو اپنے ساتھ حکومت میں نہیں ملائیں گے۔ اگر تھوڑے سے ووٹ بھی کم ہوئے تو اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔ الیکشن کے بارے میں کچھ کہنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ بالعموم کہا جاتا ہے کہ الیکشن سے تین یا چار روز پہلے ایسی لہر چلتی ہے کہ کوئی بھی پارٹی جیت سکتی ہے اور ناکام بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم اب تک جو دکھائی دے رہا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب میں بڑی پُرامید ہے۔ سارا پراپیگنڈا اپنی جگہ مگر (ن) لیگ کے لوگوں نے پچھلے 10 سالوں میں پنجاب کی بڑی خدمت کی ہے اور وہ یقینا کامیاب ہوں گے۔ دوسری طرف جہاں اوورآل کامیابی کا تعلق ہے تو پی ٹی وی اور دیگر چینلز پر اگر کوئی لیڈر کامیاب پرجوش اور ایکٹو نظر آتا ہے تو وہ عمران خان ہیں اور لگتا ہے کہ عمران خان کامیابی کے بہت قریب ہیں۔ تیسری طرف بلاول بھٹو کی باتیں بھی بہت پرجوش دکھائی دیتی ہیں۔ اگرچہ لگتا ہے کہ ایک خاص حکمت عملی کے تحت آصف زرداری کچھ پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ پروگرام میں تحریک انصاف کے رہنما چودھری سرور نے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اور نگران حکومت تحریک انصاف نے نہیں بنائے۔ تحریک انصاف گزشتہ 5 سال سے مطالبہ کرتی آئی ہے کہ الیکشن کمیشن کو بااختیار بنایا جائے تا کہ ہمارے ملک میں الیکشن شفاف ہو سکیں۔ تحریک انصاف صاف شفاف الیکشن چاہتی ہے جس میں تمام جماعتوں کو یکساں مواقع دیئے جائیں۔ تحریک انصاف کی 5 سال سے جدوجہد شفاف الیکشن اور کرپشن کے خلاف ہے۔ الیکشن کمیشن اور نگران حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ الیکشن کو شفاف بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سادہ اکثریت سے الیکشن میں کامیابی حاصل کریں گے۔ پاکستانی قوم جب فیصلہ کرتی ہے تو شفافیت کے ساتھ نتیجہ دیتی ہے۔ قوم جانتی ہے کہ اگر اکثریت عمران خان اور تحریک انصاف کو دیں گے تب ہی پاکستان موجودہ بحرانوں امتحانوں اور مشکلات کا سامنا کر سکتا ہے۔ ہم اگلے الیکشن کے بعد اپوزیشن میں نہیں حکومت میں بیٹھے ہیں۔ پاکستان کے عوام تحریک انصاف کو اقتدار میں لائیں گے۔ ضیا شاہد نے چودھری سرور سے سوال کیا کہ عمران خان سمجھتے ہیں کہ انہیں عجیب بات ہے کہ 10 سال پنجاب میں حکومت کرنے والے شہباز شریف اخبارات اوور ٹی وی چینلز کے حوالے سے سب سے پیچھے ہیں۔ کیا وجہ ہے؟ کیا نوازشریف اور شہباز شریف کے سیاسی راستے مختلف ہو چکے ہیں یا وہ مکمل طور پر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں رہے۔ ورنہ یہی دکھائی دیتا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں حکومت رہی ہے اس لئے سب سے زیادہ کھڑکا دھڑکا تو مسلم لیگ (ن) کا ہونا چاہئے تھا۔ لیکن عمران خان کے بعد بلاول بھٹو زیادہ ایکٹو نظر آتے ہیں۔ شہباز شریف زیادہ پرجوش نظر نہیں آئے۔ چودھری سرور نے کہا کہ راہیں جدا ہونے کے متعلق کچھ کہنا مشکل ہے مگر نوازشریف اور شہباز شریف کا موقف ہمیشہ مختلف رہا ہے۔ نوازشریف اور ان کے ساتھی جو انہیں سپورٹ کرتے ہیں وہ اداروں سے ٹکراﺅ کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ شہباز شریف اور چودھری نثار کا خیال تھا کہ اداروں سے ٹکراﺅ کی پالیسی پر ہمیں عمل نہیں کرنا چاہئے لیکن ایسی کوئی بات نہیں کہ نوازشریف اور شہباز شریف کے درمیان کوئی بڑی کلید حائل ہے۔ لیکن ایک بات ضرور ہے کہ ان کو معلوم ہے تحریک انصاف 25 جولائی کو پنجاب اور پاکستان میں الیکشن جیت رہی ہے کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ حکومتی معاشی، صحت و تعلیم کی پالیسیاں ناکام ہو گئی ہیں بے روزگاری میں اضافہ ہوا، یہ لوگوں کو پینے کا صاف پانی نہیں دے سکے۔ ملک پر قرضوں کا اتنا بار ہو گیا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی بھی قرض لئے بغیر نہیں کی جا سکتی۔ ملک اس وقت تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ڈالر کی قیمت 130روپے تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان کے عوام سمجھتے ہیں کہ مشکل حالات سے پاکستان کو کوئی جماعت نکال سکتی ہے تو وہ تحریک انصاف ہے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ آپ سے ایک سوال ضروری معلوم ہوتا ہے۔ آپ خود بھی برطانوی پارلیمنٹ کے ممبر رہے اور دنیا کی بہت سی اسمبلیوں میں آپ کے ذاتی دوست شامل ہیں۔ یہ فرمایئے کہ الیکشن جوں جوں قریب ہوتا جا رہا ہے توں توں ڈالر کا ریٹ زیادہ بڑھتا جا رہا ہے اور پاکستان معاشی بحران میں پھنستا چلا جا رہا ہے تحریک انصاف کے پاس پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کا کیا پلان ہے۔ چودھری سرور کا کہنا تھا کہ ضیا صاحب آپ نے اتنی اہم بات کی ہے۔ میری خواہش اور دُعا ہے کہ پاکستان کے میڈیا سے منسلک لوگ اور دانشوروں کو اندازہ ہو کہ پاکستان کن شدید بحرانوں اور چیلنجز میں گھرا ہوا ہے۔ ہمارا سب سے پہلا ایشو جس پر سینٹ میں بھی بات کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں، سیاستدانوں اور جمہوریت کے مفاد میں ہے کہ 25 جولائی کو ملک میں ہونے والا الیکشن شفاف ہو۔ تحریک انصاف 5 سال سے مہم چلا رہی ہے کہ الیکشن کمیشن کو بااختیار اور غیر سیاسی بنانا چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ پاکستانی عوام انتخابات اور ووٹ کے تقدس کو بحال رکھیں۔ اس کے اثرات نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر ہوں گے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں موجود کچھ جماعتیں الیکشن سے پہلے ہی ووٹ کی دھاندلی کے ایشوز اٹھا رہی ہیں۔ ان کو معلوم ہے اس وقت جو سروے آیا ہے۔ روشن پاکستان کے سروے میں پاکستان تحریک انصاف 30 فیصد اور مسلم لیگ (ن) 25 فیصد ہے۔ زیادہ تر سروے کے مطابق تحریک انصاف الیکشن جیت رہی ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں سے کہتا ہوں کہ پاکستان کا مستقبل و سالمیت ہمیں سیاسی جماعتوں کے مفاد سے بالاتر سمجھنا ہے۔ اس لئے شفاف الیکشن ضروری سمجھتے ہیں۔ دوسرا ایشو سیاسی جماعتوں کی جانب سے سکیورٹی پر اٹھایا جا رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے ساتھ دہشتگردی کے 4 واقعات کی تحریک انصاف نے شدید مذمت کی ہے اور اداروں سے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماﺅں کی سکیورٹی یقینی بنائی جائے تا کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہم مکمل ہم نہیں چلا سکے کیونکہ ہماری پارٹی کے لیڈر کو سکیورٹی نہیں ملی۔ ہمیں سب سے پہلے سیاسی جماعتوں میں پولرائزیشن کو کم کرتے ہوئے قانون کے نفاذ کو اپنی ترجیح بنانا ہے۔ جس حکومت کو میں حصہ ہوں گا اس حکومت میں کوئی انتقامی کارروائیاں نہیں ہونگی۔ پولیس اور قانونی ادارے بااختیار ہونگے۔ ہم اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج نہیں کروائیں گے۔ ضمنی یا بلدیاتی الیکشنز میں پولیس اور اداروں کو ووٹوں کے لئے استعمال نہیں کریں گے کیونکہ ہم ملک میں نئی طرز کی سیاست لانا چاہتے ہیں۔ جس میں سیاستدان چاہیں بھی تو قانون کے تقاضوں پر کسی صورت اثر انداز نہ ہو سکیں۔ ضیا شاہد نے کہا کہ چودھری صاحب! آپ نے جو کچھ کہا یہ بری خوش آئند بات ہے۔ اس لئے کہ پاکستان کو سیاسی تقضیب سے نجات دلانا اور ملک کو مثبت انداز سے چلانا نہایت ضروری ہے پاکستان کے اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمارا کیا قصور ہے؟ پاکستان میں رہنے والوں میں سے زیادہ سے زیادہ 5 سے 8 فیصد لوگ ایسے ہوں گے جن کے وسائل، جائیدادیں، بچے باہر ہیں۔ جنہوں نے ملک سے لوٹ مار کر کے یا کما کر روپے کی قدر کم ہونے پر پیسہ ملک سے باہر بھجوایا ہے۔ چودھری صاحب آپ کو انٹرنیشنل سٹیزن رہے ہیں۔ آپ نے بڑی دنیا دیکھی ہے اور میری بھی آپ سے پہلی ملاقاتیں جب ہوئیں اس وقت آپ برطانوی پارلیمنٹ کے ممبر ہوتے تھے۔ یہ بتایئے کہ پوری دنیا میں یہ کس طرح سے ممکن ہو سکتا ہے کہ ایک ملک کے 90 سے 95 فیصد لوگ غربت کی سرحدوں سے نیچے ہوں دن بدن کمزور ہوتے جا رہے ہوں ان کے حالات خراب ہوتے جا رہے ہوں مگر ان کے سر پر قرضہ بڑھتا جا رہا ہو۔ اس وقت اس ملک کے ہر شخص پر اتنا قرضہ ہے کہ سمجھ نہیں آتا کہ ہم اگلی کئی نسلوں تک محنت کرتے رہیں گے اور پھر بھی شاید اپنے قرضے نہیں اتار سکیں گے۔ ہم انکار تو نہیں کر سکتے کہ ہم پیسے دیں گے لیکن کیسے دیں گے۔ یہاں کے لوگ پوچھتے ہیں کہ کون سا ایسا طریقہ ہے کہ اس ملک کے جتنے بیورو کریٹس، سیاستدان، بینکار، صنعتکار، تاجر، سرمایہ کار، سیاستدان اور دیگر کلاسز کے لوگ جتنا پیسہ ملک سے باہر لے جا کر مختلف جگہوں پر محفوظ کر چکے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے ملکوں میں اتنی جائیدادیں ہیں انہوں نے بڑے ملکوں کو چھوڑ کر جنوبی افریقہ کا رخ کر لیا ہے کہ بالکل چھوٹے ملک جہاں کسی کو پتہ بھی نہ چلے، وہاں پراپرٹی خرید لی جائے۔ یہ بتایئے کہ جب تک آپ کی حکومت کوئی ایسا طریقہ اختیار نہ کرے، ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ آپ نے کسی کو کچھ کہنا نہیں ہے تو بڑے شوق سے جھپیاں ڈالیں، جس کے ساتھ مرضی ڈالیں۔ لیکن آپ کو کیا حق حاصل ہے کہ جو لوگ اس ملک سے پیسہ لوٹ کر باہرلے گئے۔ جو ہماری آنے والی آئندہ 30,20 سال تک کی نسلوں کو مقروض کر گئے۔ کیوں نہ ان سے پیسے واپس لئے جائیں۔ کیوں نہ ان کو مجبور کیا جائے کہ وہ پیسہ نکالیں تا کہ ہم اپنے ملک کو قرضوں سے نجات دلا سکیں۔ آپ نے کون سی نئی تھیوری ایجاد کر لی ہے کہ سب لوگوں نے اچھے اچھے بھائی بھائی بن کر رہنا ہے۔ آپ اپنی جھپیاں ڈالنا چھوڑیں اور اس بات کا جواب دیں کہ جو لوگ اس ملک سے پیسہ لوٹ کر باہر لے گئے ہیں، آپ ان سے ہمارے پیسے واپس دلوائیں تا کہ ہم اس ملک کو قرضوں سے نجات دلا سکیں۔ چودھری سرور نے کہاکہ ضیا شاہد صاحب میں آپ کی تمام باتوں سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں۔ میں نے یہ بات کرپٹ لوگوں کے لئے نہیں کہی جنہوں نے ملک کو لوٹا اور پیسے باہر لے کر گئے۔ ان کے ساتھ نرمی نہیں سختی کی جائے گی۔ ہم انتقام کی سیاست، نیب اور دیگر اداروں کو سیاسی سکورنگ کے لئے استعمال نہیں کریں گے۔ قانون کی نظر میں امیر، غریب، طاقتور، کمزور سب برابر ہوں گے۔ اس ملک کے تمام سیاسی، مذہبی، زرعی، نہری، معاشی، صحت اور دیگر ایشوز میں بنیادی ایشو کرپشن ہے۔ اس ملک میں کوئی ادارہ نہیں ہے جس میں کرپشن نہیں ہے۔ پاکستان کے 80 فیصد لوگوں کے بارے میں وثوق سے کہتا ہوں کہ مظلوم ہیں۔ صرف 3 فیصد اشرافیہ نے اس ملک کے اقتدار پر 75 سال سے قبضہ کیا ہوا ہے۔ اس ملک کے وسائل پر قبضہ کر کے وسائل لوٹ کر پیسہ بیرون ممالک کے بینکوں میں رکھا اور جائیدادیں خریدیں۔ انہیں وجوہات کی وجہ سے ڈالر کی قیمت 130 پر پہنچی کہ لوگ ملک کا پیسہ نکال کر باہر لے گئے۔ 300 ملین ڈالر ان لوگوں کا ملک سے باہر پڑا ہے اس کو واپس ہم کیسے لائیں گے اور ہمارے ذمہ قرضا اتنا بڑھ چکا ہے کہ اندازہ کر لیں 50 سال میں پاکستان پر قرضہ 34 بلین ڈالرز تھا۔ پچھلے 5 سال میں گزشتہ حکومت نے 38 بلین ڈالر قرضے لئے ہیں اور قوم قرضوں تلے دب گئی ہے۔ ہمیں قرضوں کی قسط اور سود دینے کے لئے اس سال 13 بلین ڈالرز کی ضرورت ہو گی۔ جس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ملک کی لوٹی ہوئی دولت کے خلاف بلاتفریق، بلا امتیاز سخت احتساب کیا جائے چاہے ان لوگوں کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہے اور چاہے وہ لوگ کتنے ہی طاقتور ہیں۔ انٹرنیشنل کمیونٹی نے ہر ملک میں منی لانڈرنگ کے قوانین بہت سخت کر دیئے ہیں اور ایسے انتظامات کئے ہیں کہ لوٹی ہوئی اور ٹیکس کے بغیر دولت کی تشخیص بھی کی جا سکتی ہے۔ اور واپس بھی لایا جا سکتا ہے۔ عالمی قوانین اب اجازت دیتے ہیں۔ اگر پاکستان کی حکومت مخلص ہو گی اور اس بات پر ڈٹی ہو گی کہ لوٹا ہوا مالک اس ملک میں واپس لانا ہے تو 3 بلین ڈالرز میں سے ایک تہائی بھی لے آئے تو ملک کا سارا قرضہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد سب سے بڑا چیلنج پاکستان کی برآمدات ہیں جو 25 بلین ڈالرز سے کم ہو کر 20 بلین ڈالرز پر آ گئی ہے جبکہ درآمدات 55 بلین ڈالرز کو چھو رہی ہے۔ 35 بلین ڈالرز کا خسارہ دنیا میں کوئی بھی حکومت برداشت نہیں کر سکی۔ ہمیں سخت اقدامات کرتے ہوئے درآمدات کو کم کرتے ہوئے برآمدات کو بڑھانے کی پالیسی بنانا ہو گی۔ اپٹما کے لوگ پچھلے روز بتا رہے تھے جی ایف سی پلس کی وجہ سے ایک سال میں پاکستان کی برآمدات جو روزون میں 4 بلین ڈالرز بڑھی ہے۔ اگر پاکستان کے پاس خدانخواستہ جی ایف سی پلس بھی نہ ہوتا تو نہ جانے معاشی تباہی کے کسی دھانے پر کھڑے ہوئے۔ ہمیں نقصانات کو بھی دیکھنا ہے۔ گزشتہ حکومت جب برسراقتدار آئی تو واپڈا کا سرکلر ڈیبٹ 4 سو ارب تھا جو خزانے سے فوراً ادا کر دیا گیا تھا اور اب 8 سو ارب ڈالر چھوڑ گئے ہیں۔ اس 8 سو ارب کو کیسے ادا کرنا ہے۔ پی آئی اے، سٹیل ملز، ریلوے اور واپڈا سمیت دیگر اداروں کے نقصانات کو ہمیں ختم کرنا ہو گا تب ہی ہم ملک کی معیشت کو مضبوط کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ عوام نے ہم پر اعتماد کیا تو ہم بھرپور کوشش کریں گے کہ شفافیت لائیں، احتساب لائیں ایمانداری کا مظاہرہ کریں اور دوسرے لوگوں کے خلاف ایکشن لیں۔ پاکستان کو اگر اچھی حکومت مل جائے اور قانون کا نفاذ ہو جائے تو پاکستان استطاعت رکھتا ہے۔ اگر صرف اوورسیز پاکستانی جو 20 بلین ڈالر سالانہ ملک میں بھیجتے ہیں ان کو قانونی حق دیئے جائیں قبضہ مافیا سے نجات دلا دی جائے تو کسی سے قرضہ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستانی اپنے ملک میں بلین ڈالرز سرمایہ کاری کریں گے۔ یہ وہ پاکستانی ہیں جو بیرون ملک گئے تو ان کی جیب میں 5 پاﺅنڈ بھی نہیں تھے لیکن وہاں انہوں نے ایمانداری سے محنت کی اور آج لاکھوں انگریزوں، غیر پاکستانیوں کو انہوں نے نوکریاں دی ہوئی ہیں۔ استطاعت رکھنے والے پاکستان جو امریکہ اور برطانیہ میں جھنڈے گاڑھ سکتے ہیں انہیں حوصلہ اور یقین دہانی دیں اور ملک میں سرمایہ کاری کا کہیں تو پاکستان کے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ ضیا شاہد نے کہا کہ میں آپ کی باتوں سے دو سو فیصد اتفاق کرتا ہوں۔ پاکستان کا ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ ہمارے ملک میں ایسی حکومت آئے جو پورے شدومد، خلوص اور نیک نیتی و دیانتداری کے ساتھ سب سے پہلے لوٹا ہوا مال باہر سے واپس لائے۔ ہم سب سے پہلے اپنے قرضے واپس کریں۔ عوام اپنے پیروں پر کھڑے ہوں۔ اس وقت پاکستان کے کسی بھی بازار میں چلے جائیں تو ایک ایک دکان ہر بازار میں سبزی سے لے کر سوئی تک اور دھاگے سے لے کر شرٹ تک ہر چیز امپورٹڈ ملتی ہے جبکہ پاکستان سے باہر جانے والی چیزیں اور برآمدات اتنی کم ہیں کہ زرمبادلہ ذخائر کم از کم ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمیں چائینہ اور دیگر ملکوں کی طرح 15,10 بیس سال خود پر جبر کر کے، اپنی ضرورتوں کو سمیٹ کر ایسے چلانا ہو گا کہ کم از کم خرچ کریں اور زیادہ سے زیادہ مال باہر بھیجیں زیادہ سے زیادہ پیسے کی نہیں اپنے قرضے ادا کریں اور اس ملک کے عام آدمی کی مالی حالت بہتر کریں جو دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہے۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain