لاہور(ملک مبارک سے) ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے چیف جسٹس کے اعلان کے بعد عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی عدالت کی طرف سے ڈیمز کی تعمیر کےلئے فندز اکاونٹ کھولا گیا جس میں چیف جسٹس ،آرمی ،نگران وزیراعظم سمیت عوام نے کروڑوں روپے فنڈز جمع کروا دیا ۔لیکن کسی سیاسی پارٹیوں نے آج تک ڈیمز اکاونٹ میں فنڈز جمع نہیں کروایا جبکہ عوام سے ووٹ حاصل کر نے کےلئے اپنے منشور میں تبدیلی کرتے ہوئے ڈیمز کی تعمیرات کو اہمیت دی گئی ۔سیاسی امیدوار جنہوں نے الیکشن مہم کےلئے حلقوں پر کروڑوں روپے خرچ کردئیے نے بھی ایک روپیہ تک ڈیمز فنڈز میں جمع نہیں کروایا اور نہ ہی الیکشن مہم میں عوام کو ڈیمزفنڈز بارے اگاہی دی ۔تفصیلات کے مطابق ڈیمز کی تعمیر کے لیے قائم کیے گئے ڈیمز فنڈز میں 18 کروڑ روپے سے زائد کی رقم جمع ہو گئی ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے پاکستان کے مہمند ڈیم اور بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے قائم کیے گئے ڈیمز فنڈز اکاو¿نٹ میں پاکستانی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ڈیمز کی تعمیر کے لیے قائم کیے گئے اکاو¿نٹ میں 18 کروڑ 59 لاکھ 63 ہزار 538 روپے کی رقم جمع ہو چکی ہے اور اس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، رقم جمع کرانے کے لیے بیرون ملک پاکستانی بھی پورے جوش و خروش سے حصہ لے رہے ہیں۔چیف جسٹس نے ڈیمز کی تعمیر کے لیے فنڈز قائم کرنے کے بعد اپنی ذاتی جیب سے دس لاکھ روپے کا چیک دیا ،وزیراعظم ناصرالمک ،نگران وزیراعلی پنجاب حسن عسکری نے بھی اپنی ذاتی حثیت سے ڈیم فنڈز میں حصہ ڈالا۔ڈیمز کی تعمیر کے لیے بینک ملازمین نے اپنی ایک روز جب کہ فوجی افسران نے تین روز اور اہلکاروں نے ایک روز کی تنخواہ جمع کرانے کا اعلان کیا تھاکوئٹہ کے نو سالہ علی شیر نے تو بازی ہی مار لی اور اپنی سائیکل اور کھلونوں کے لیے جمع کیے گئے دس ہزار روپے فنڈز میں جمع کرا دیے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق بھاشا اور مہمند ڈیمز کی تعمیر کے لیے پاکستانی عوام ملک بھر کی 16 ہزار بینک برانچوں میں اپنے عطیات جمع کرا سکتے ہیں۔لیکن ابھی تک سیاسی پارٹیز جن میں پی ٹی آئی ،ن لیگ ،پیپلز پارٹی ،ایم کیو ایم ،متحدہ مجلس عمل ودیگر پارٹیز نے اپنے سیاسی فنڈز سے ڈیمز اکاونٹ میں ایک روپیہ جمع نہیں کروایا جبکہ امیدواروں سے پارٹی فنڈز کے نام پر کروڑوں روپے اکٹھے کئے جبکہ عوام کی ہمدردی لینے کےلئے منشور میں تبدیلی کرتے ہوئے ڈیمز کی تعمیرات بارے خوب چرچا کیا ہے تمام سیاسی پارٹیز خاص کر بڑی اہم پارٹیز جن میں پیپلز پارٹی ،ن لیگ ،پی ٹی آئی نے اپنے منشور میں لکھا ہے کہ اگر ہماری حکومت آگئی تو ہم پہلی توجہ پانی کے مسئلے پر دیں گیں اور بھاشہ ڈیمز کے ساتھ ساتھ اور بھی ڈیمز بنائیں گے جبکہ پاکستان کی عوام ان سیاسی پارٹیز سے سوال کرتی ہے کہ جیسے عوام اس ڈیمز کی تعمیر میں بڑھ چڑھ حصہ لے رہی ہے سیاسی پارٹیز اپنے پارٹی فنڈز سے یا اپنی ذاتی حثیت سے اس ڈیمز فنڈز میں حصہ کیوں نہیں ڈال رہی اور نہ ہی الیکشن میں حصہ لینے والے امیدوار اس ڈیمز فنڈز میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں جبکہ الیکشن مہم پر کروڑوں اربوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں جو فضول خرچ کئے جارہے ہیں عوام کا کہنا ہے کہ یہی پیسہ جو الیکشن مہم پر خرچ کیا جارہا ہے سارا پیسہ ڈیمز فنڈز میں جمع کروا دیا جاتا تو پاکستان کی عوام کا درینہ پانی کا مسئلہ حل ہوجاتا لیکن ایسا کچھ نہیں ہے اور نہ ہی عوامی نمائندے اپنے الیکشن جلسوں میں عوام کو نہ تو ڈیمز کی اہمیت اور پانی کے مسئلے بارے آگاہی دے رہے ہیں ۔جبکہ آبی ماہرین کا خیال ہے کہ یہی موقعہ تھا عوام نمائندوں کے پاس وہ خود بھی اس فنڈز میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور عوام کو بھی اس بارے آگاہی دیتے ۔






































