لاہور(عمران جاوید بٹ سے )تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی لاہور میں غیر معمولی دوروں سے انتخابی مہم سے ن لیگ و دیگر سیاسی جماعتوں میں کھلبلی مچ گئی ، گزشتہ 2روز قبل لاہور میں شاہدرہ سے شروع ہو کر گلبرگ ، اکبر چوک ، ٹھوکر نیاز بیگ ،رائیونڈ اور سبزہ زار میں بھرپور انتخابی مہم کے بعد شالامار باغ اور جوڑے پُل پر جلسے کرنے سے دیگر سیاسی جماعتیں پریشانی میں مبتلا ، مشکلات میں گھری پاکستان مسلم لیگ نون نے تخت لاہور میں اپنی گرفت کمزور دکھائی دینے لگی ، ن لیگی ٹریڈرز ، کلرکس ونگ ، کسان ونگ اوربلدیاتی اداروں کے چیئرمینوں کی بے رخی جیتنے والے امیدواروں کو ہار دکھائی دینے لگی ، اپنی ساکھ بچانے کیلئے مد مقابل جماعتوں کے امیدواروں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا،خواجہ سعد رفیق اور سردار ایاز صادق نے سیکرٹری جنرل ایم ایم اے لیاقت بلوچ سے آج ٹیلی فونک رابطہ جبکہ دیگر سیاسی مذہبی جماعتوں کوسیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنے یا اپنے حق میں امیدواروں کو بٹھانے کے حوالے سے منانے کےلئے ن لیگ ہم خیال مکتبہ فکر کے علمائے کرام کی ڈیوٹیاں بھی لگائی گئی جس میں تا حال کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی ہے ،صوبائی دارلحکومت میں انتخابات قریب آتے ہی دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے معرکہ سر کرنے کےلئے بھر انداز میں انتخابی مہم چلائی جانے لگی ۔تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) تخت لاہور کو بچانے کیلئے نئی حکمت عملی اپنا لی۔ مسلم لیگ نون نے پرانے حلیفوں کو ساتھ ملانے کیلئے کوشش شروع کردیں۔خواجہ سعد رفیق اور سردار ایاز صادق نے سیکرٹری جنرل ایم ایم اے لیاقت بلوچ سے آج ٹیلی فونک رابطہ کیا اور انہیں درخواست کی کہ ایم ایم اے کارکنوں کوسپورٹ کیلئے کہیں، جس کے جواب پر لیاقت بلوچ نے کہا کہ بڑی دیر کردی مہرباں آتے آتے۔ امیدواروں کے نام فائنل کرنے سے پہلے رابطہ کرتے تو کچھ کرسکتے تھے۔اسی طرح تحریک لبیک پاکستان کےلئے جامعہ نعیمہ کو ذمہ داری دی گئی جبکہ ملی مسلم لیگ کے امیدواروں کو اپنے حق میں بٹھانے کےلئے ساجد میر کے دیگر اہلحدیث طبقے کے سینئر راہنماو¿ں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جس میں تاحال مسلم لیگ ن ناکام دکھائی دے رہی ہے ۔ یاد رہے گزشتہ الیکشن 2013 میں لاہور کی 13 نشستوں میں سے 12 ن لیگ نے جیتی تھی جن میں سے 8 امیدواروں ایک لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کئے تھے مگر اس مرتبہ صورتحال یکسر مختلف اور تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور لاہور میں تحریک انصاف کی ممکنہ جیت کے علاوہ پنجاب بھر میں فتح متوقع دکھائی دے رہی ہے ۔ یاد رہے کہ پاکستان میں 25 جولائی کو سب سے بڑا انتخابی دنگل سجے گا جس کو جیتنے کیلئے تمام پارٹیاں سر دھڑ کی بازی لگا رہی ہیں اس ضمن میں الیکشن کمیشن کی عام انتخابات کیلئے تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہوگئیں۔ نگران حکومت کی جانب سے بھی بھر انداز میں تیاریوں کو ختمی شکل دی جارہی ہے گزشتہ انتخابات کے پیش نظر موجودہ انتخابات میں غیرمعمولی تیاریاں دیکھنے میں نظر آ رہی ہے ۔






































