لاہور، کراچی، پشاور، اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ عوامی مینڈیٹ کی توہین کی گئی، انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہیں، ملک کو 30 سال پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن سے قبل ہمارے لوگوں کو ن کے ٹکٹ واپس کرنے پر مجبور کیا گیا ہم خاموش رہے۔ آج خیال تھا کہ عوام کو آزادی کے ساتھ ووٹ ڈالنے دیا جائے گا۔ شدید گرمی کے باوجود لوگ ووٹ ڈالنے کیلئے باہر نکلے۔ پولنگ ختم ہونے کے بعد جو صورتحال دیکھنے میں آئی میں نے ساری سیاسی زندگی میں ایسی خوفناک صورتحال نہیں دیکھی۔ رات 12 بجے تک لاہور کا کوئی نتیجہ نہ دیا گیا۔ پورے پاکستان سے میں شکایات موصول ہوئیں کہ فارم 45 نہیں دیا جا رہا ہماری خواتین پولنگ ایجنسی کو کمروں میں بند کر دیا گیا اس صریحاً دھاندلی میں بلبلا اٹھا ہم تو پاکستان کو آگے لے جانا چاہتے تھے لیکن ملک کو پیچھے دھکیلا گیا۔ عوامی مینڈیٹ کی توہین کی گئی جو ناقابل برداشت ہے۔ ہمارے امیدوار ملک پرویز، ایاز صادق کے انتخابی نتائج روک دیئے گئے۔ میرے اپنے حلقہ میں فارم 45 نہ دیا گیا عوام دھاندلی پر سراپا احتجاج ہیں ہم انتخابی نتائج مسترد کرتے ہیں۔ شہباز شریف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں لیگی رہنما مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ 2018ءکا الیکشن نہیں سلیکشن ہے۔ تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ 5 سیاسی جماعتیں ایک ہی بات کر رہی ہیں۔ نگران حکومت، الیکشن کمیشن کی ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے گندا الیکشن ہوا ہے۔ پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا ہے کہ پورے انتخابات پر سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں۔ 250 سے زائد شکایات موصول ہوئیں۔ نتائج میں مداخلت نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا سانگھڑ میں ہمارے کارکنوں پر جی ڈی اے کے لوگوں نے فائرنگ کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کو شکایات سے آگاہ کر دیا ہے۔ پیپلزپارٹی رہنماﺅں کی پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ بدین میں بھی پولنگ ایجنٹس کو نکال دیا گیا ہے۔ پی ایس 56 حیدر آباد میں نتیجے میں تاخیر کی جا رہی ہے۔ لیاری میں بلاول بھٹو کے چیف پولنگ ایجنٹ کو باہر نکال دیا گیا۔ شیری رحمان نے کہا کہ ایک تنظیم کے علاوہ تمام جماعتوں کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے ۔ دیہی سندھ میں پی پی کے حامیوںکو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ خواتین کے پولنگ سٹیشنز سے زیادہ شکایات آئیں۔ ہم نے پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن بات نہیں سنی گئی لاڑکانہ سے لیکر لیاری تک ہمیں نتائج نہیں دیئے جارہے پی پی رہنماﺅں کا کہنا تھا کہ انتخابی مہم کیلئے سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم نہیں کئے گئے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے انتخابی نتائج پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ (ن) لیگ کے پولنگ ایجنٹس کو فارم 45 نہیں دیا جارہا جبکہ ووٹوں کی گنتی کے دوران بعض اسٹیشنز سے باہر بھی نکال دیا گیا ،پولنگ اسٹیشنز میں نتائج تبدیل کیے جارہے ہیں اور بند کمروں میں ملک کا مینڈیٹ چوری ہورہا ہے ،صورتحال کا نوٹس لیا جائے اورالیکشن کمیشن کو جواب دینا پڑے گا،(ن) لیگ نے کبھی انتشار اور فساد کی بات نہیں کی ، اگر مسلم لےگ (ن) کا مینڈیٹ چوری ہوا تو نہ ہمیں اور نہ ہی عوام کو قبول ہوگا۔ان خےالات کااظہار مسلم لےگ (ن) کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب نے مصدق ملک اور دیگر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کےا ۔ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے رکن سید فیصل سبز واری نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کر اچی اور حید ر آبا دمیں مختلف پو لنگ اسٹیشنز پر ہما رے پو لنگ ایجنٹس کو نکال کر نتا ئج بدلنے کی کو شش کی جا رہی ہے ایسے تمام پولنگ اسٹیشنو ں کے با ہر جہا ں ہما رے پو لنگ ایجنٹس کو با ہر نکا ل کر ناجا نے کیا کچھ کیا جا رہا ہے دھر نا دینگے اور احتجاج کر ینگے ۔ پاک سر زمین پارٹی کے رہنما رضاہارون نے کہا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں ہمارے کسی پولنگ ایجنٹ کو کسی بھی پولنگ اسٹیشن میں سرٹیفائیڈ کاپی نہیں دی جارہی ہے اور ہمارے پولنگ ایجنٹ کو باہر نکال دیا گیا ہے۔ تحریک لبیک پاکستان نے کارکنان کو ریڈ الرٹ جاری کردیاہے ۔تحریک لبیک پاکستان کے ترجمان مینڈیٹ کو چوری کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے۔کارکنان کسی بھی قسم کی ہنگامی کال کے لئے تیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی کے پولنگ ایجنٹس کو دھمکیاں دے کر باہر نکالا جارہا ہے۔رزلٹس کے ساتھ ٹیمپرنگ کی جارہی ہے۔یہ کام الیکشن کمیشن کی ناک کے نیچے کیا جارہا ہے۔ پیپلزپارٹی کے سینیٹر تاج حیدر کا کہنا ہے کہ ووٹوں کی گنتی کے وقت پولنگ ایجنٹوں کو نکالا جانا قابل مذمت ہے، الیکشن کمیشن عملہ اور سیکیورٹی اہل کاروں کی موجودگی میں پی پی کے پولنگ ایجنٹوں کو نکالا گیا، متحدہ مجلس عمل کے حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہےکہ ہولنگ شفاف ہوئی کہیں سے کسی قبضے یا کوئی غلط اطلاع نہیں آئی تاہم جب نتائج آنا شروع ہوئے تو غیریقینی صورتحال پیدا ہوگئی پورے شہر سے اطلاعات آرہی ہیں کہ پریذائڈنگ افسر فارم 45 نہیں دے رہے۔کچی رسید پر نتایج دیئے جارہے ہیںجبکہ پولنگ اسٹیشن پر پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال دیا گیا ہے فارم 45 اور 46 دونوں نہیں دیئے جارہے۔ مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے بعد متحدہ مجلس عمل نے بھی الیکشن نتائج مسترد کردیئے ہیں۔ متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ دھاندلی شدہ نتائج قبول نہیں کریں گے انہوں نے اعلان کیا ہے کہ دھاندلی شدہ نتائج کے بعد اب جلد ہی آل پارٹیز کانفرنس بلائیں گے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ انتخابی نتائج روکنا، ایجنٹوں کو باہر نکالنا ناقابل معافی ہے اور اشتعال انگیزی ہے۔ بختاور بھٹو زرداری نے کہا کہ انتخابات میں سرا سر دھاندلی کی گئی اور اسے چھپانے تک کی کوشش نہ کی گئی سلیکٹڈ وزیراعظم عمران نے الیکشن کمیشن سے کوئی شکایت نہیں کی۔ آصفہ بھٹو نے کہا کہ پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال کر نتائج روک لئے گئے۔ الیکشن کمیشن پیادہ بن گیا۔ اور اس کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگیا۔
