ماہرین صحت کے مطابق معتدل مقدار میں کافی کا استعمال گردوں کے افعال کو محفوظ رکھنے اور گردوں میں پتھری بننے کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس کے فوائد ہر ایک کے لیے یکساں نہیں ہوتے۔
روزانہ کافی پینا نہ صرف چوکنا رہنے، توجہ بہتر بنانے اور تھکن کم کرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ گردوں کی صحت کی بہتری کے لیے بھی فوائد فراہم کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے اثرات استعمال کی مقدار، کافی تیار کرنے کے طریقے اور پینے والے شخص کی مجموعی صحت پر منحصر ہوتے ہیں۔
ایک امریکی تحقیقی ادارے دی میو کلینک کے میڈیکل ایڈیٹر ڈونلڈ ڈی ہینسروڈ جو میڈیکل سائنس میں ایم ڈی اور ایم ایس ہیں انکا کہنا ہے کہ کافی پینے والوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس، پارکنسنز (رعشہ کی بیماری)، جگر کی بیماری، بعض اقسام کے کینسر (خصوصاً جگر کا کینسر)، ڈپریشن، خودکشی کے رجحان، گردوں اور پتے کی پتھری اور مجموعی طور پر موت کے خطرے میں کمی ہوتی ہے۔
2018 میں طبی جریدہ نفرلوجی ڈیلائسسز ٹرانسپلانٹیشن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں امریکہ کے 4,860 سے زائد ایسے بالغ افراد کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا تھا جو دائمی گردوں کی بیماری میں مبتلا تھے۔
ان افراد کو روزانہ کیفین کے استعمال کی بنیاد پر چار گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ ان میں روزانہ 28.2 ملی گرام سے کم کیفین (یعنی ایک کپ بلیک کافی کے ایک تہائی سے بھی کم)، 28.2 سے 103 ملی گرام، 103 سے 213.5 ملی گرام اور 213.5 ملی گرام سے زیادہ (یعنی دو یا اس سے زیادہ کپ کافی) کے مساوی گروپ میں رکھا گیا۔
پانچ سال تک فالو اپ کے دوران تقریباً 1,280 شرکاء کا انتقال ہوا۔ دیگر مؤثر عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے نتائج سے معلوم ہوا کہ کم ترین کیفین استعمال کرنے والے گروپ کے مقابلے میں زیادہ کیفین استعمال کرنے والے تینوں گروپوں میں موت کا خطرہ کم تھا اور یہ کمی 22 فیصد سے 26 فیصد تک دیکھی گئی۔
امریکا کی نیشنل کڈنی فاؤنڈیشن کے مطابق کیفین پیشاب کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے، جو پیشاب کی نالی میں پتھری بنانے والے معدنیات کے جمع ہونے اور کرسٹل بننے کے عمل کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
صحت سے متعلق معلومات فراہم کرنے والی ایک ویب سائٹ ویری ویل ہیلتھ کے مطابق جس کا طبی ماہرین جائزہ لیتے رہتے ہیں کا کہنا ہے کہ کچھ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ باقاعدگی سے کافی پیتے ہیں، ان میں گردے کی پتھری کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ زیادہ کافی پینا بہتر ہے۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ صحت مند بالغ افراد اپنی روزانہ کیفین کی مقدار تقریباً 400 ملی گرام تک محدود رکھیں، جو عام طور پر کافی کے تین یا چار معیاری کپ کے برابر ہے۔ کیفین کا حد سے زیادہ استعمال بے خوابی، بے چینی، گھبراہٹ، اور حتیٰ کہ دل کی دھڑکن کے تیز یا بے ترتیب ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔ کیفین بعض لوگوں میں خصوصاً ان افراد میں جو اس کے اثرات کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں، قلیل مدت کے لیے بلڈ پریشر میں معمولی اضافہ بھی کر سکتی ہے۔
اسکے ساتھ ہی بہت زیادہ چینی، گاڑھے دودھ، ہیوی کریم (ملائی)، یا ذائقہ دار سیرپس (جن میں چینی اور کیلوریز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے) سے تیار کی گئی سے چینی اور کیلوریز کا استعمال بڑھ جاتا ہے جو نقصان ہوتی ہے۔ گردوں کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر، یا دیگر بنیادی صحت کے مسائل میں مبتلا افراد کو کیفین کے مناسب استعمال کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
