لاہور‘ اسلام آباد (آئی این پی) مسلم لیگ (ن) نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن میں بیٹھنے اور پنجاب میں حکومت بنانے کی صورت میں شہباز شریف کو ہی وزیراعلیٰ پنجاب نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پنجاب سے جیتنے والے آزاد امیدواروں سے شہباز شریف خود رابطہ کریں گے اور انہیں پارٹی میں شمولیت کی دعوت دیں گے کے ناموں پر بھی غور کیا ہے جبکہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کےلئے خواجہ محمد آصف کے نام پر ابتدائی مشاورت کی گئی ہے۔ جمعرات کو مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ایگزیکٹوکمیٹی کا اجلاس لاہور میں ہوا جس کی صدارت مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کی۔ اجلاس میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایازصادق، خواجہ سعد رفیق، احسن اقبال، خواجہ محمد آصف، مشاہد حسین سید، مریم اورنگزیب، مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ ظفر الحق سمیت اہم رہنماﺅں نے شرکت کی، جس میں وفاق اور صوبہ پنجاب میں حکومت سازی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں عام انتخابات کے نتائج ،فارم 45نہ ملنے کے حوالے سے شکایات ،ا نتخابات میں مبینہ دھاندلی سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے اجلاس کے شرکاءکو مسلم لیگ (ن) کے الیکشن سیل میں رپورٹ ہونے والی شکایات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق لیگی قیادت نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن بینچز پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے اور مرکز میں مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کے مطابق پارٹی صدر شہباز شریف کا اجلاس میں کہنا تھا کہ جیتنے والوں کو مبارکباد کے خط لکھیں گے اور ہارنے والوں کو بھی حوصلہ افزائی کے خط لکھیں گے۔شہباز شریف نے کہا کہ الیکشن میں دھاندلی کی گئی جس پر قومی اسمبلی میں بھرپور احتجاج کریں گے اور مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔صدر مسلم لیگ (ن)نے کہا کہ الیکشن نتائج چیلنج کرنے کا حق رکھتے ہیں، کئی جگہوں سے دھاندلی کے جو ثبوت ملے انہیں الیکشن کمیشن کو فراہم کریں گے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں پنجاب میں حکومت بنانے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب میں حکومت بنانے کےلئے تمام تر کوششیں کی جائیں گی۔ اجلاس میںپنجاب اسمبلی کی نشستوں پر منتخب ہونے والے آزاد ارکان کی فہرست پر بھی غور کیا گیا اور ان سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پنجاب میں منتخب ہونے والے زیادہ تر ارکان سے رابطہ کرنے کا اختیار مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو دیا گیا۔ آزاد ارکان سے شہباز شریف ازخود رابطہ کریں گے اور انہیں مسلم لیگ نون میں شمولیت کی دعوت دیں گے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر مسلم لیگ (ن) پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی تووزیر اعلیٰ کےلئے شہبازشریف ہی حتمی امیدوار ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیابی کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کےلئے خواجہ محمد آصف اور ایاز صادق کے نام پر غور کیا گیا۔ مسلم لےگ (ن) کا لاہور دےگر شہروں مےں ہونےوالی مبےنہ دھاندلی کےخلاف بھر پور آواز بلند کرنے کا فےصلہ‘ اپوزےشن کی تمام سےاسی جماعتوں کو ساتھ لےکر چلنے کےلئے آل پارٹےز کانفرنس آج (جمعہ) کو طلب کرلی‘ احتجاج‘ عدالت اور الےکشن کمےشن سے رجوع کرنے سمےت تمام معاملات کے حوالے سے مشاورت کی جائےگی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے انتخابی نتائج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن چوری کر لئے گئے، آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ پارٹی کرے گی، سول بالادستی کیلئے کھڑے رہیں گے۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے اڈیالہ جیل میں پارٹی کے تاحیات قائد نواز شریف سے ملاقات کی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے اڈیالہ جیل میں پارٹی کے تاحیات قائد نواز شریف سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے دوران شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی کی طبیعت دریافت کی۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماو¿ں نے انتخابی نتائج سے متعلق غور کیا اور آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ دوسری جانب نواز شریف سے سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم اور طارق فاطمی کی ملاقات نہ ہوسکی، طارق فاطمی کا کہنا تھا کہ جیل حکام کے مطابق نواز شریف کی طبیعت ناساز ہے، اس لئے نواز شریف سے صرف اہل خانہ مل سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گورنر کے پی کے اقبال ظفر جھگڑا نے بھی سابق وزیر اعظم نوازشریف سے ملاقات کی۔ دریں اثناءنواز شریف نے انتخابی نتائج پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن چوری کرلئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ پارٹی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخواہ میں بدترین کارکردگی کے باوجود پی ٹی آئی کو جتوایا گیا، خیبرپختونخواہ کے نتائج کی بنیاد پر ملک بھر کے نتائج پر اثر ڈالا گیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان پر جبر کی حکومت مسلط نہیں ہونے دیں گے، الیکشن تو ہوا، لیکن یہ عوامی مینڈیٹ نہیں ہے۔ ایم ایم اے کے رہنما فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ، الیکشن تو ہوا، لیکن یہ عوامی مینڈیٹ نہیں ہے، عوامی مینڈیٹ پر بد ترین ڈاکا ڈالا گیا ہے، پاکستان پر جبر کی حکومت مسلط نہیں ہونے دیں گے، ایم ایم اے الیکشن نتائج سرے سے تسلیم نہیں کرتی، مسترد کرتی ہے، لگتا ہے پریزائیڈنگ افسر، آر اوز اور ڈی آر اوز مکمل بے اختیار تھے، لگتا ہے پی اوز، آر اوز، ڈی آر او یر غمال تھے، مغرب کے بعد سے نتائج روک دیے گئے ابھی تک نتائج بنا کر پیش کیے جا رہے ہیں، کل اے پی سی میں اپنا موقف پیش کریں گے، تمام سیاسی جماعتوں کا مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی کوشش کریں گے، اے پی سی کی میزبانی، آصف زرداری اور میں کر رہا ہوں، ایم کیو ایم، پی ایس پی بھی یہاں اے پی سی میں جمع ہو رہی ہیں، میٹھی میٹھی باتیں نہ کی جائیں، ایسی بہت تقاریر سنی ہیں، میں25،25 ہزار کی لیڈ سے جیتتا رہا ہوں، الیکشن کالعدم کرانے کیلئے سب کو اتفاق رائے پر لائیں گے، ہم صرف ایک حلقہ کھولنے کی نہیں الیکشن کالعدم کرانے کی بات کر رہے ہیں، عمران خان کی پیشکش کو پیشکش نہیں سمجھ رہا ہے۔
