لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کارضیاشاہد نے کہا ہے کہ کراچی سے پشاور تک منگلا سے لیکرگوادر کی ایک جگہ سے کوئی آدمی اٹھ کر کہہ دے کہ پاکستان میں میرٹ پر کوئی کام ہوسکتا ہے اگر عمران اور اس کے ساتھی یہ کام کرلیں۔ اگر انہوں نے جو اہداف دیئے ہیں کہ اگر عمران خان نے 50 فیصدبھی ٹارگٹ مکمل کرلیا تو یہ ملک دوبارہ اپنے پاﺅں پرکھڑاہوسکتا ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے جو بلے کے نشان سے جیتا ہے وہی حاجی ہے وہ کوئی آسمان سے گری مخلوق ہے‘ بڑے بڑے اچھے لوگ اور بھی موجود ہیں لہٰذا میری تو عمران خان کو تجویز ہوگی کہ وہ بہت سارے سیکٹرز ہیں جماعت اسلامی جو ان کے ساتھ رہی ہے اب نہیں ہے میں اس سے بھی زیادہ مسلم لیگ (ق) کی بات کرتا ہوں آج دن بھر بحث ہوتی رہی ہے کہ پنجاب میں عمران خان کس کو وزیراعلیٰ لائے گا۔ میرے خیال میں سب سے بہتر اس کے لئے یہی ہے کہ وہ چودھری پرویزالٰہی کو آفر کرے کہ وہ آکر پنجاب میں وزیراعلیٰ بنیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ چودھری پرویزالٰہی پر اورچودھری شجاعت پر جو الزامات لگے کرپشن کے ان کی بات شروع ہوئی تھی لیکن ان کو واپس لے لیا گیا اس بنیاد پر نیب کو کوئی ثبوت نہیں ملے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ تعلیم کے حوالے پڑھا لکھا پنجاب کی سکیم تھی جو پرویزالٰہی کے زمانے میں وہ دانش سکولوں سے کہیں بہتر تھی لیٹرینوں کے سلسلے میں‘ چار دیواری کے سلسلے میں‘ کتابوں کے سلسلے میں‘ اس سے بھی بڑی بات آپ پنجاب کے کسی بچے بچے سے پوچھ لیں چودھری پرویزالٰہی کوئی میرا چاچے کا پتر نہیں ہے میرے تعلقات بہت اچھے ہیں لیکن میں آپ کو بتاﺅں کہ چودھری پرویزالٰہی کے دور میں حقیقت یہ ہے کہ ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کا نظام اتنا بہتر ہوگیا تھا اور عام ہسپتالوں میں لوگوں کو سہولتیں‘ ادویات ملتی تھیں اور ہر قسم کے ٹیسٹ فری ہوتے تھے۔ اس دور میں صحت اور تعلیم کے دو شعبوں کے اندر ہی اچھے برے کام ہوئے تھے۔ ضروری ہے کہ کسی کو پکڑ پکڑا کر وزیراعلیٰ بنانا ہے میرا مشورہ ہے کہ آپ پورے پاکستان کی طرف سے دیکھیں اگر آپ کو بلاول کے ساتھیوں میں سے ‘ اگر آپ کو نظر آرہا ہے کہ صوبہ سندھ میں حکومت بنے گی پاکستان پیپلزپارٹی کے لوگ وہاں سے اسے اچھے اور بہتر لوگ مل سکتے ہیں تو وہ کوشش کرے اس ملک کی گورننس کو بہتر بنانا‘ بلوچستان کے پی کے ہو جو بہتر گورننس کرنے والے لوگوں کو سامنے لانا ضروری ہے یہ ضروری نہیں کہ ٹھکا ٹھک ٹپے والے کو لانا ہے۔
میاں غفار نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے جو پہلی چیز دیکھنی ہوگی وہ ایمانداری اور وفاداری اس کی کیا ہے۔ سردست وزیراعلیٰ کے لئے جو دو نام آئے ہیں جن پر آپ انگلی نہیں اٹھا سکتے ان میں ایک سابق وزیر حسین جہانیاں گردیزی ہیں‘ ابھی وہ خانیوال سے کامیاب ہوئے ہیں اور اسی سلسلے میں وہاڑی سے ثاقب خورشید ہیں ان پر بھی کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے۔ضیاشاہد نے کہا پی ٹی آئی کو کچھ گروپوں کو ساتھ ملا کر حکومت بنانی پڑے گی۔ لہٰذا مسلم لیگ (ق) ‘ مسلم لیگ کے اور فارورڈ گروپس ملتے ہیں اور آزاد حیثیت میں 25 ‘ 28 کامیاب ہوئے ہیں اگر ان میں سے کوئی اچھا گروپ ملتا ہے تو وہ گروپ کو ساتھ ملانے پڑیں گے کوئی اس سلسلے میں کوئی نام ابھرتا ہے۔میاں غفار نے کہا کہ آزاد میں سے کچھ لوگ جو مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر الیکشن لڑے ہیں ان میں سے وہ بھی کچھ لوگ آسکتے ہیں ابھی حتمی فہرست سے نام نکالے جاسکتے ہیں۔ آزاد ظاہر ہے حکومت کا ہی حصہ بنیں گے۔ ملتان سے دو آزاد جیتے ہیں وہ حکومت کے ساتھ ہی جائیں گے لیکن پرویزالٰہی صاحب صوبہ پنجاب کے سب سے بڑے مخالف تھے جبکہ پرویز مشرف مان بھی چکے تھے اب کیا حالات بنتے ہیں کوئی ایسا بندہ آئے۔ضیاشاہد نے کہا کہ پرویزالٰہی نے دو اڑھائی سال پہلے ملتان میں جاکر یہ اعلان کیا تھا اور چودھری شجاعت حسین نے بھی اس کی تصدیق کی تھی کہ اب وہ نئے صوبے کے حق میں ہیں اوردوسری بات یہ کہ ہم صرف پنجاب ہی تک اپنی گفتگو محدود نہ رکھیں بلکہ میری معلومات کے مطابق میری شاہ محمود قریشی صاحب سے بات ہوئی تھی صبح‘ ان میں ایک دوست کے حوالے سے بھی ہوئی تھی دونوں گفتگوﺅں میں ان کا کہنا تھا کہ ان کو شاید باہ رروک لیا گیا ہے۔ انہوں نے جلدی ہی کوئی مرکزی حکومت تشکیل دینی ہے۔ وفاقی حکومت کے لئے آپ کے ذہن میں کون کون سے نام ابھرتے ہیں کیونکہ کچھ نئے نام سامنے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان کی تاریخ میں سابق سپیکر قومی اسمبلی فخر امام کا نام بہت بڑا نام ہے جنہوں نے اصول کی بنیاد پر سپیکر شپ چھوڑ دی تھی جن کو ہمیشہ قدر کی نظر سے دیکھا گیا حالانکہ ایک زمانے میں وہ وفاقی وزیر ہوتے تھے فخر امام اب ایم این اے کے طور پر ہی آچکے ہیں۔ اسی طرح خسرو بختیار ایم این اے بنے ہیں۔ سید احمد محمود کے بیٹے ایم این اے بنے ہیں۔ وہاڑی کے ان کے مقابلے میں ڈاکٹر ثاقب بڑے ذہین آدمی ہیں۔ اس طرح محسن لغاری ‘ جعفر لغاری وہ بھی بڑے میچور لوگ ہیں۔ نصراللہ دریشک بھی بڑے تجزیہ کار ہیں۔ اسدعمر اکانومی کے ماہر سمجھے جاتے ہیں کچھ وفاقی حکومت بارے بھی بتائیں جس میں شاہ محمود بنے بنائے وزیر خارجہ ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اس وقت اچھے وزیر خارجہ کی بڑی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان کو دوسرے ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات کی ضرورت ہے۔ جعفر لغاری بڑا نام ہے اوراچھے پارلیمنٹرین ہیں۔ مصطفی کھر کا پہلی دفعہ ناکام ہونا اور دوسرا یہ کہ فخر امام جیسا شریف آدمی ‘ اتنے برسوں سے اپنے گھر میں خاموشی سے بیٹھا شخص اچانک کس طرح کامیاب ہوگیا اور وہ بھی تحریک انصاف کے امیدوار کے مقابلے میں۔میاں غفار نے کہا کہ اس مرتبہ جنوبی پنجاب کے لوگوں نے شہبازشریف کو برے طریقے سے ہرایا۔ ان کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ تو یہاں رہیں گے وہ تو لاہور چلے جاتے ہیں مقامی بندہ چاہئے‘ شہبازشریف اس وجہ سے ہارے۔رضا حیات ہراج پر اچانک قتل ہونے والے ممبر ضلع کونسل خضر حیات نورو کے قتل میں ان کا نام لیا جاتا اور باقاعدہ نامزد ہونے کے باوجود مینج کرکے رہا ہوگئے۔ یہ دریائی علاقوں کے غریب کاشتکاروں کو دبا کر ان سے زمینیں خرید لیتے تھے۔ ضیاشاہد نے پوچھا کہ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کیسے ہار گئے اور تیسرے نمبر پر آئے۔ ان کا بیٹا بھی ہار گیا۔ دوسرا بڑا نام جس پر حیرت ہوتی ہے کہ سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور جمشید دستی جن کی والدہ انہیں اجازت نہیں دیتی تھیں اب ہارنے کی اجازت کیسے دیدی۔ میاں غفار نے کہا کہ جمشید دستی کی عوامی راج پارٹی نے تونسہ سے الیکشن کا اعلان کردیا۔ اپنے پارٹی امیدواروں کی کمپین کرتے رہے اور اپنے حلقے پر توجہ نہیں دی وہ اپنے جلسوں میں انتہائی سخت زبان استعمال کرتے تھے جسے لوگوں نے مسترد کیا۔ اپنے جلسوں پر توجہ نہ دینا اور پارٹی کے ناراض لوگوں کو نہ منانا ان کی ہار کی وجہ ہے۔ جمشید دستی کہتے ہیں کہ وہ غریب آدمی ہیں مگر لوگ جانتے ہیں کہ اچھا خاصا پیسہ ان کے پاس ہے۔ اس لئے بھی لوگوں نے ان سے کنارہ کشی اختیار کی۔ یوسف رضا گیلانی سمیت ہرشخص کو جنوبی پنجاب نے اس بارمسترد کیا جنہوں نے ان کے ساتھ صوبے کا وعدہ کرکے پورا نہیں کیا۔ اس مرتبہ جنوبی پنجاب کے علیحدہ صوبہ بننے کے مطالبہ کا ووٹ بہت بڑا تھا۔ صوبے کے نام سے ہٹ کر وہ لوگ تینوں ڈویژن کے علاقے کو الگ صوبہ بنانا چاہتے ہیں اورجس نے بھی اس میں رکاوٹ ڈالی وہ بہت بری طرح سے ہارا۔ تین دن پہلے اچانک 6 یونین کونسلز کے چیئرمینز نے ابراہیم خان کیساتھ الحاق کا اعلان کردیا اور عوام کے سو فیصد ووٹ ابراہیم خان کو ملے۔ پنجاب کے گورنر کے صاحبزادے کا ملتان سے ہارنا اور پنجاب کے مردآہن شہبازشریف اور اویس لغاری کے ہارنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اویس لغاری اور جمال لغاری اپنے قبیلے کے سردار ہیں۔ لوگ ان سے شدید ناراض ہیں کہ انہوں نے کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا لوگ آج بھی جانوروں سی زندگی گزارتے ہیں پانی‘ سڑکیں کچھ نہیں ہے۔ عوام میں شعور بڑھ گیا ہے۔ جمال لغاری کو بلوچوں نے سڑک پر روک کر اچھی خاصی بحث کی اور نوجوان لڑکے نے انگریزی میں بات کرتے ہوئے جمال لغاری کو اڑا کر رکھ دیا۔ حلقے میں وقت نہ دینے اور رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ ہارے۔ضیاشاہد نے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ پاک سرزمین پارٹی کو عوام کی جانب سے الیکشن میں پذیرائی نہ ملنے کا ایک مطلب یہ ہے کہ اگرچہ انہوں نے بہت کھل کر الطاف حسین کیخلاف تقریریں کیں اور الزامات بھی لگائے مگر لوگوں کو ان کی بات پر یقین نہیں آیا۔ فاروق ستار یا خالد مقبول صدیقی کی آپس میں لڑائی کی وجہ سے بھی یہ رو چلی تھی اور لندن سے بھی ہدایت ملتی نظر آرہی تھی کہ مہاجر قوم کے ووٹ کو تقسیم نہ کیا جائے اور اسے ایک ہی جگہ رکھا جائے۔ باوجود اس کے کہ الطاف حسین الیکشن میں شریک نہیں تھے لیکن میرا خیال ہے کہ لندن کی ایم کیو ایم نے بہت بڑے گہرے اثرات ڈالے اور ان اثرات کی وجہ سے ان کے مخالف پی ایس پی والے بھی کامیاب نہیں ہوسکے اور پہلی مرتبہ اخبارات اور نشریاتی اداروں نے تسلیم کیا کہ ایک بار پھر ایم کیو ایم کی صفوں میں ان کو رنگ رونق اور لوگ نظر آئے۔ ضیاشاہد نے ایک سوال پر کہا کہ خواجہ رفیق کے صاحبزادے سعد رفیق کے کلیم میں کافی وزن تھا کہ جو آبادیاں ان کے حلقے میں تھیں وہ غریب اور چھوٹے طبقے کی آبادیاں تھیں اور عمران خان کا زور ڈیفنس کے پوش ایریاز میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں بالآخر میں ان آبادیوں کی وجہ سے جیت جاﺅں گا۔ اگرچہ عمران خان وہاں سے جیتے ہیں مگر میانوالی کی طرح زور وشور سے نہیں جیتے خواجہ سعد رفیق نے انہیں ٹف فائٹ دی۔ پنجاب حکومت کے حوالے سے ضیاشاہد نے کہا کہ تحریک انصاف کے پاس اور کوئی ذریعہ نہیں سوائے کہ وہ مسلم لیگ (ق) چودھری پرویزالٰہی کو میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ پرویزالٰہی چھ یا آٹھ سیٹوں کا نام نہیں ہے۔ چودھری پرویزالٰہی کے ساتھ بہت سارے سابقہ مسلم لیگی ایسے ہیں کہ اگر چودھری پرویزالٰہی ان کے ساتھ شامل ہوجائیں تو مسلم لیگ ن کے بعض سرکلز بھی ان کے ساتھ شامل ہوجائیں گے۔ 28 کے قریب آزاد امیدوار پنجاب حکومت کا فیصلہ کریں گے کہ کس کے پاس جائے گی۔ اگروفاق میں شہبازشریف کی حکومت ہوتی تو وہ سب جوق در جوق شہبازشریف کے کیمپ میں شامل ہوتے آج کل کے حالات میں نہیں لگتا کہ 28 آزاد امیدوار‘ 6 مسلم لیگ (ق) اور7 پیپلزپارٹی کے 60 سے 55 لوگ جس طرف جائیں گے اسی کی حکومت بنے گی۔
