تازہ تر ین

حزب اللہ کے خفیہ سیل بے نقاب، ایرانی آئل کنٹینر روکنے کا برطانوی اقدام بچگانہ : حسن روحانی

بیروت(این این آئی)گذشتہ کچھ برسوں سے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ لبنان سے باہر نکل کرپوری دنیا میں اپنے سیل اور نیٹ ورک کومنظم اور وسیع کرنے میں سرگرم ہے تاکہ امریکا اور اسرائیل کے مفادات کوعالمی سطح پر نقصان پہنچایا جا سکے۔امریکی ٹی وی کے مطابق حال ہی میں جب سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تو حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کی طرف سے ایک دھمکی آمیزپیغام سامنے آیا۔ا نہوںنے کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی حماقت کی تو حزب اللہ امریکی مفادات پرحملے کرنے میں ذرا بھی تاخیر نہیںکرے گی۔ امریکا اور ایران کےدرمیان جاری تنا? کے موقع پر حزب اللہ کی قیادت نے محسوس کیا کہ جماعت کے عالمی سطح پر نیٹ ورک کو مزید وسیع اور منظم کیا جائے۔دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کے اپنے انتہا کو پہنچنے پرایران 2015ئ میں طے پائے جوہری معاہدے سے بہ تدریج نکلتا جا رہا ہے۔ ایسے میں مبصرین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں حزب اللہ کے سیلز اور اس کے نیٹ ورک کے حرکت میں آنے کی وجہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری محاذ آرائی کا نتیجہ ہے؟ یہ سیلز کون کون سے ہیں اورانہیں کون چلا رہا ہے اور یہ سیل دنیا کے نقشے میں کہاں کہاں کام کررہے ہیں؟حالیہ برسوں کے دوران حزب اللہ نے لبنان کی سرحدوں سے باہر خود کو بھاری ہتھیاروں،میزائلوں اور اسلحہ سے لیس کرنے کی حکمت عملی اپنائی۔ حزب اللہ کے خفیہ نیٹ ورک نے یورپ، شمالی اور لاطینی امریکا میں اپنے پنجے گاڑنا شروع کیے۔حزب اللہ کی سمندر پار کارروائیوں کے بارے میں سامنے آنے والی سرگرمیوں میں بیرون ملک فنڈنگ، منی لانڈرنگ، کاروبار اور لاجسٹک سرگرمیاں شامل ہیں۔ صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے ایرانی تیل بردار بحری جہاز کو روکے جانے کے برطانوی اقدام کو انتہائی بچکانہ حرکت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ والوں نے بحری بدامنی کا آغاز کیا ہے اور انہیں اس کے نتائج کو اچھی سمجھ لینا چاہئے۔بدھ کو کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ برطانیہ نے ایران کے تیل بردار بحری جہاز کو ٹیم بی کے کہنے پر روکا ہے۔ٹیم بی سے صدر ایران کا اشارہ صیہونی حکومت کے وزیراعظم بن یامین نتیتن یاہو، سعودی ولی عہد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے ولی عہد بن زائد اور قومی سلامتی کے متعلق امریکی صدر کے مشیر بولٹن کی جانب ہے جو مسلسل ایران کے خلاف اشتعال انگیز اقدامات میں مصروف ہیں۔صدر ایران نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ آبنائے جبل طارق پر برطانیہ کا تسلط غیر قانونی ہے اور ایرانی بحری جہاز کو روکا جانا عالمی قوانین اور ضابطوں کے منافی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ دنیا میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے سب کو مل کر کوشش کرنا چاہیے کیونکہ ایسے اقدامات کا اعادہ دنیا میں بدامنی کا سبب بنے گا جو کسی کے فائدے میں نہیں۔صدرمملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے ایران کے ایٹمی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس بلانے کی امریکی درخواست کو انتہائی مضحکہ خیز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکام ایک جانب ایٹمی معاہدے کو برا اور وحشتناک قرار دیتے ہیں کسی بھی معقول وجہ کے بغیر اس سے علیحدہ ہوجاتے ہیں اور دوسری جانب ایران ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں کمی کرتا ہے تو، تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ نے تہران کے خلاف امریکہ کی اقتصادی دہشت گردی بند کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔محمد جواد ظریف نے بدھ کے روز نامہ نگاروں سے گفتگو میں ایٹمی معاہدے اور مذاکرات کے بارے میں ایران کے کھلے موقف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی دبا میں کبھی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔انھوں نے ایران کی جانب سے عمل میں لائے جانے والے تازہ اقدامات سے متعلق بھی کہا کہ یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی کے نام پانچ مراسلوں میں اعلان کیا جا چکا ہے کہ امریکہ و یورپ کی جانب سے ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کے پیش نظر ایران نے ایٹمی معاہدے کی چھتیسویں شق کی بنیاد پر مقابل فریق کی وعدہ خلافی کا جواب دینا شروع کر دیا ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved