تازہ تر ین

مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ، آٹے کی بوری 550 روپے مہنگی

لاہور (نمائندہ خصوصی) فلور ملز ایسوسی ایشن نے حکومت کی جانب سے 17 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے نفاذ کے بعد آٹے کی قیمت میں اضافہ کردیا۔ چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن عاصم رضا کے مطابق آٹے کی 80 کلو والی بوری پر 550 روپے اضافہ کیا گیا ہے جس ے بعد 2 من آٹے کی بوری 2800 سے بڑھ کر 3350 روپے ہوگئی۔انہوں نے بتایا کہ فائن میدے کی بوری پر 700 روپے کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد اب بوری 3900 سے بڑھ کر 4600 روپے کی ہوگئی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے 17 فیصد جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد قیمت بڑھانا ضروری ہوگیا تھا۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں حکومت کی جانب سے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے جب کہ ٹیکسز کی بھرمار کے خلاف ملک بھر کے تاجر سراپا احتجاج ہیں۔ تاجروں نے 13 جولائی کو ملک بھر میں شٹر ڈان ہڑتال کا اعلان بھی کررکھا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ایل این جی مہنگی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔سوئی نادرن کے لیے ایل این جی 0.34 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مہنگی کردی گئی ہے جس کے بعد اس کی قیمت 11.35 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگئی ہے۔نوٹیفیکیشن کے مطابق سوئی سدرن کے لیے ایل این جی 0.42 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مہنگی کی گئی ہے۔سوئی سدرن کے لئے ایل این جی کی قیمت 11.37 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔سوئی ناردرن کے لیے جون میں ایل این جی کی قیمت 11.01 ڈالر مقرر تھی۔جون میں سوئی سدرن کے لیے ایل این جی کی قیمت 10.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر تھی۔ گندم کی امدادی قیمت میں 150روپے فی من اضافے کےخلاف قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروادی گئی۔ مسلم لےگ(ن) کی رکن سعدیہ تیمور کی جانب سے جمع کرائی گئی قرار اد کے متن مےں کہاگےا کہ گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ سے ظالم حکومت نے غریب منہ سے آخری نوالہ بھی چھین لیا۔ پہلے ہی عوام مہنگائی کے سونامی میں غوطے کھا رہی ہے۔ بجلی گیس کے بلوں میں ہوش ربا اضافے کی وجہ سے عوام پریشان ہیں ،موجودہ حکومت کی ناکام اور ظالمانہ معاشی پالیسیوں کی وجہ سے بے روز گاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ،ایک کروڑ نوکریاں بھی حکومتی لالی پاپ ثابت ہوئیں۔ گندم کی حالیہ امدادی قیمت اضافے کی وجہ سےعوام مہنگای کی چکی میں پسے گی۔ پنجاب اسمبلی کے اس ایوان کی وساطت وفاقی حکومت سے مطالبہ ہے کہ گندم کی امدادی قیمت میں حالیہ اضافہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔انجمن تاجران پاکستان کے رہنما?ں نے کہا ہے کہ 13 جولائی کو ہر صورت ملک بھر میں شٹر ڈا?ن ہڑتال کی جائے گی، ظالمانہ ٹیکس کی واپسی تک حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، حکومت چھوٹی تنظیموں سے رابطے کر رہی ہے حکومت تاجر تنظیموں کو توڑنا چاہتی ہے، 13 جولائی کی تاریخ کی ہڑتال سے قبل ہم مذاکراتی عمل میں نہیں جا رہے، کوئی گروپ مذاکراتی عمل میں جائے گا تو اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، حکومت کی ہمیں توڑنے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے، ہمارے مسائل وفاق کے ساتھ ہیں لیکن حکومت نے صوبائی کمیٹی بنا دی ہے، ان خیالات کااظہار تمام تاجر تنظیموں کے عہدیداروں نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر تاجر رہنما نعیم میر، ملک امانت، وقار احمد میاں، سہیل محمود بٹ، ملک کلیم، حاجی حنیف، خواجہ شفیق، شیخ عمر حیات، میاں خلیل عبیر، شیخ عرفان اقبال، شاہد بلال، عاصم شفیع، عبدالودود علوی، رضوان بٹ، صدام خان، شہزادہ بابر، علی نصرت بٹ اور مختلف مارکیٹوں کے تاجر رہنما?ں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی تاجر رہنما نعیم میر نے کہا متفقہ طور پر اس بات کا فیصلہ کیا کہ ظالمانہ ٹیکسوں اور ایف بی آر کی جانب سے استعداد سے زائد سیلز ٹیکس کی وصولی کے غیر مناسب اور پیچیدہ طریقہ کار اور بجٹ کو مسترد کرتے ہیں لہٰذا تاجر رہنما?ں کی جانب سے پیش کئے گئے مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جاتا تو 13 جولائی کو ہر صورت شٹر ڈا?ن ہڑتال کی جائے گی، تاجر رہنما?ں کا کہنا تھا کہ غیر معمولی سیلز ٹیکس، ٹرن اوور ٹیکس، شناختی کارڈ کی شرط اور اس سے پیدا ہونے والے حالات کے باعث کاروبار کو چلانا ناممکن ہو گیا ہے، حکومت نے اگر 13 جولائی کو بھی ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے تو تاجر غیر معینہ مدت کے لئے ہڑتال کی کال دیں گے، ملک بھر کے تاجر اپنے مطالبات کے حوالے سے متفق اور ایک پیج پر ہیں، ماضی میں تاجر رہنما ہڑتال کی کال دیتے تھے لیکن موجودہ حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ دکانداروں نے ہمیں خود ہڑتال کرنے کا کہا ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved