تازہ تر ین

پاکستانی نمک بھارت کے لیے سونے کی کان

لاہور (خصوصی رپورٹ) بھارت نے حال ہی میں پاکستان سے درآمد کی جانیوالی تمام مصنوعات پر ٹیکس لگا دیئے ہیں۔ اس ضمن میں اس نے اپنی ضروریات اور تقاضوں کا خیال رکھتے ہوئے نمک پر ٹیکس میں چھوٹ دے رکھی ہے۔ نمک بھارت میں ایک اہم ضرورت ہےاور یہ پاکستان کی نسبت بھارت میں مہنگا ہے۔ پاکستان کے عوام کے بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ بھارت کو سبق سکھانے کیلئے پاکستان بھارت کو نمک ایکسپورٹ کرنا بند کر دے کیونکہ کھیوڑہ کان سے حاصل ہونیوالا نمک بھارت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ بھارت میں کھانے پینے کی جتنی بھی ڈشیں تیار کی جاتی ہیں ان میں نمک ایک اہم جز ہے۔ بھارت میں نمک کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں کیونکہ وہاں نمک کی کوئی کان نہیں۔ اس ضمن میں نئی دہلی کا تمام کا دارومدار اپنی نمک کی ضروریات پوری کرنے کیلئے پاکستان پر ہے۔ 1947ءمیں بھارت نے پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے مطابق پاکستان جنگ ہویا امن ہر دور میں بھارت کو نمک مہیا کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا اور اس کی ایکسپورٹ نہیں روکے گا۔ اسی طرح کا ایک معاہدہ پانی کے سلسلے میں بھارت کے ساتھ ہوا تھا کہ وہ پاکستان کا پانی کبھی نہیں روکے گا لیکن نئی دہلی سرکار نے دریا پر ڈیم تعمیر کرکے پاکستان کا پانی بلا ک کر دیا جو کہ پاکستان معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ پاکستان بھارت کے ساتھ امن چاہتا ہے اس لئے اس نے نئی دہلی کو نمک مہیا کرنے کا معاہدہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اسے دلچسپ امر کہیں یا ستم ظریفی بھارت پاکستان کی کھیوڑہ مائن کا وہی نمک اس پر اپنے نام پر برانڈ لگا کر دوسرے ملکوں کو بیچتا ہے پاکستانی نمک بھارت سے اسرائیل جا پہنچتا ہے جہاں اسے اس کی پیکنگ کرکے پوری دنیا میں فروخت کیا جاتا ہے بھارت اس نمک کی فروخت سے اربوں ڈالر کما رہا ہے جبکہ پاکستان کو صرف چند کروڑ روپے حاصل ہوتے ہیں۔ بھارت نے پاکستان کے نمک کو دوسرے ملکوں کو فروخت کرنے کیلئے اس کا برانڈ نام ”ہمالین سالٹ“ (ہمالائی نمک) رکھا ہوا ہے۔ پاکستان کی کھیوڑہ کی کان ”پنک ہمالین سالٹ“ کی پیدوارار کیلئے مشہور ہیں۔ تاریخ کو کنگھالا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ سکندر اعظم کی فوجوں نے 320 قبل مسیح میں یہ کان دریافت کی لیکن اس کی تجارت کا سلسلہ مغل دور میں شروع ہوا۔ مین ٹنل کو ڈاکٹر ایچ رایت نے برطانوی دور میں 1872ءمیں ڈویلپ کیا۔ آزادی کے بعد پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن نے مائن کا انتظام سنبھال لیا۔ مائن میں نمک کے ذخائر82 ملین ٹن سے 600 ملین ٹن کے لگ بھگ ہیں۔ سالانہ 3 لاکھ 50 ہزار ٹن نمک یہاں سے آتا ہے۔پاکستان دنیا میں نمک کا17 واں بڑا ایکسپورٹر ہے۔ یہاں یہ امر پیش نظر رہنا چاہیے کہ امریکہ کی ایک لیب رپورٹ میں ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ بھارت دنیا بھر میں انسانی صحت سے کھیل رہا ہے۔ بھارتی نمک جو بھارت میں بھی فروخت ہوتا ہے اس میں تشویش ناک حد تک پوٹاشیم فیرو سینیا ڈائی کے زہریلے اجزاءشامل ہیں۔ ایک ماہر شیو شنکر گپتا کے مطابق کے بھارت کے ریفائن سالٹ میں یہ اجزاءتشویشناک حد تک بڑھتے جارہے ہیں۔ گپتا نے ایک مہم شروع کر رکھی ہے جس کا مقصد بھارتی نمک کو مضر صحت اجزاءسے پاک کرنا ہے۔ آج کل ہم سوشل میڈیا پر پاکستانی نمک انڈیا کو ایکسپورٹ کئے جانے کے حوالے سے متعدد پوسٹ دیکھ رہے ہیں جو کہ بہت زیادہ وائرل بھی ہیں۔ اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہاں اپنے قارئین کے لئے اس نمک کی انڈیا کو ایکسپورٹ کے حوالے سے چند حقائق پیش کر رہے ہیں۔ پاکستان اور انڈیا کے مابین 1947ءمیں دو بڑے معاہدے ہوئے جس میں ایک تو پانی کا تھا دوسرا نمک کا پہلا یہ تھا کہ جنگ ہو یا امن انڈیا پاکستان کا پانی نہیں روکے گا نا دریاﺅں پہ اضافی ڈیم بنائے گا دوسرا معاہدہ بھی کچھ ایسا ہی تھا کہ پاکستان جنگ یا امن دونوں صورتوں میں انڈیا کو نمک کی سپلائی بند نہیں کر سکے گا۔ پہلے معاہدے کا کیا انجام ہوا وہ آپ سب کے سامنے ہے کہ انڈیا نے نہ صرف ہمارا پانی روکا بلکہ ڈیم بھی بنائے اور معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کی۔ انڈیا پاکستان آنے والے تمام دریاﺅں پہ سینکڑوں ڈیمز بنا چکا ہے اور جو پانی ان ڈیمز میں سے بچ جائے تو وہ پانی آپ پہ احسان کیا جاتا آپ کی طرف بھیج دیا جاتا ہے۔ دوسرا معاہدہ تھا نمک کا کہ پاکستان نمک سپلائی دیتا رہے گا یاد رہے اس معاہدہ پہ ریٹ کے حوالے سے کوئی شق موجود نہیں کہ پاکستان کتنا ریٹ لگاتا یا کس قیمت پہ انڈیا کو یہ نمک بھیجے گا؟ ہمارا نمک ابھی بھی کوڑیوں کے بھاﺅ انڈیا جاتا ہے اور اس نمک کی اتنی قیمت بھی وصول نہیں کی جاتی جتنا کہ نمک اندرون ملک ترسیل پر ہی لاگت آ جاتی ہے۔ اب انڈیا یہ نمک ہم سے ڈھیلوں کی شکل میں لیتا ہے اور کرتا کیا ہے صرف اس کو کرش کر کے پیستا ہے اور پیک کر دیتا ہے اور انتہائی مہنگے داموں پوری دنیا کو سپلائی کر رہا ہے ہمارا ملک یہاں قرضوں فاقوں میں اٹا پڑا ہے اور ہم کیسے بے فکری سے معاہدہ معاہدہ کرتے ہوئے خاموش بیٹھے ہیں کیا ہم خود اس نمک کو کرش کر کے پیک نہیں کر سکتے؟ دنیا بھر میں کہیں بھی پنک سالٹ موجود نہیں اور کھیوڑہ جیسا ذائقہ دنیا بھر میں موجود نہیں تو کیا ہم اس انڈسٹری کو نہیں اٹھا سکتے؟ اب بات آ گئی معاہدہ کی تو ہمیں یہ کرنا چاہئے کہ ہم انڈیا کو سپلائی دیتے رہیں لیکن ہم صرف ان کی ضرورت کے لئے نا کہ اتنا کہ وہ اسے پوری دنیا میں بیچے! دنیا بھر کو اپنا نمک ہم خود براہ راست فروخت کریں اور حاصل ہونے والی آمدنی سے اپنے قرصے اتاریں اب دوسرا سٹیپ یہ ہے کہ ہم بھی انڈیا کی طرح ڈھٹائی پہ اتر آئیں اور انڈیا کو سپلائی کم سے کم کر دیں جیسے ان کے پاس ہمارا پانی روکنے کے ایک سو بہانے ہیں اسی طرح ہم بھی ایک سو ایک بہانہ جانتے ہیں کہ کیوں سپلائی کم دی جا رہی ہے۔اس حوالے سے ڈی جی معدنیات پنجاب شوکت کھچی نے روزنامہ خبریں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلابی نمک ہر کان سے نہیں نکلتا اس کی دستیابی کی اوسط بہت کم ہے بطور محکمہ ہمارا کام پنجاب منرل کارپوریشن کو یہ مائنز دینا ہے جو اگے اس کی مارکیٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نمک کی کان کنی کےلئے انفرادی شخص اہل نہیں ہے یہ صرف پی ایم سی کو ہی اختیا ر ہے جو آگے ایکسپورٹر کو گلابی نمک فراہم کرتا ہے جبکہ اس کی درآمد بذات خود ایک بہت مشکل کام ہے جو کہ وفاق کے زیر انتظام متعلقہ محکماجات کرتے ہیں ۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved