تازہ تر ین

‘مریخ پر جوہری بم گرانا چاہتا ہوں’

نیو یارک(ویب ڈیسک) امریکی کمپنی اسپیس ایکس 2024 تک انسانوں کو مریخ پر پہنچانا چاہتی ہے مگر اس سے پہلے وہ زمین کے پڑوسی سیارے پر جوہری بم گرانے کی خواہشمند ہے۔جی ہاں واقعی اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک مریخ پر جوہری بموں سے حملہ کرنا چاہتے ہیں۔اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں اس وقت اگر کوئی مریخ میں رہائش کی توقع رکھتا ہے وہ کوئی اور نہیں ایلون مسک ہی ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ سرخ سیارے پر جوہری بم گرانے کے لیے بھی انتہائی پرجوش ہیں۔ان کے خیال میں یہی وہ طریقہ کار ہے جس سے مریخ کو انسانوں کے لیے قابل رہائش بنایا جاسکتا ہے۔ایلون مسک نے 2015 میں سب سے پہلے یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ مریخ کے دونوں قطبی حصوں میں جوہری بموں کو گرا کر اس سیارے کو زیادہ قابل رہائش بنایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ مریخ اس وقت قابل رہائش نہیں مگر اسے انسانوں کے قابل بنایا جاسکتا ہے ‘سب سے پہلے آپ کو وہاں ٹرانسپیرنٹ مقبروں جیسے گھروں میں رہنا ہوگا، مگر بتدریج آپ مریخ کو زمین جیسے سیارے میں ڈھال سکیں گے، آپ اسے گرم بھی کرسکیں گے’۔ان کا کہنا تھا کہ سیارے کو گرم کرنا فوری یا آہستگی سے ہوگا مگر ایک فوری طریقہ بھی ہے ‘تھرمو جوہری ہتھیار مریخ کے قطبی حصوں میں گرانا ہوں گے’۔ان کا کہنا تھا کہ جوہری دھماکوں سے مریخ کے برفانی خطے کا بڑا حصہ بخارات بن کر اڑ جائے گا، جس سے بہت زیادہ پانی کے بخارات اور کاربن ڈائی آکسائیڈ بن جائیں گے اور یہ دونوں گرین ہاﺅس گیسز کا باعث بنتے ہیں، جس سے یہ سیارہ نمایاں حد تک گرم ہوجائے گا۔جب سے یہ خیال ایلون مسک کے ذہن میں موجود ہے اور گزشتہ ہفتے انہوں نے ایک ٹوئیٹ میں مریخ پر جوہری بم گرانے کا ذکر کیا اور اس حوالے سے ٹی شرٹ بھی فروخت کرنے کی بات کی۔ویسے سائنسی حلقوں کی جانب سے اس خیال کی مخالفت کی جارہی ہے کیونکہ اس حوالے سے گزشتہ سال امریکا کی کولوراڈو اور ناردرن ایریزونا یونیورسٹیوں کی مشترکہ تحقیق میں کہا گیا تھا کہ ایسا ممکن نہیں، کم از کم موجودہ ٹیکنالوجی کے ساتھ تو ایسا ممکن نہیں۔ایلون مسک نے 2017 میں اعلان کیا تھا کہ وہ مریخ پر آئندہ 50 سال کے دوران 10 لاکھ افراد پر مشتمل شہر بسانا چاہتے ہیں۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ وہ 2024 تک انسانوں کو مریخ پر لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔دلچسپ بات بات یہ ہے کہ اسپیس ایکس ہی وہ کمپنی ہے جو ایسے مسافر بردار راکٹ کی تیاری پر بھی کام کررہی ہے جو کہ لوگوں کو ایک سے دوسرے شہر یا ملک تک پہنچانے کا کام کرے گا۔اپریل 2018 میں اسپیس ایکس کی صدر اور سی او او گیونی شاٹویل نے دعویٰ کیا تھا کہ ایسے راکٹ کو جو لوگوں کو دنیا کے کسی بھی حصے میں 60 منٹ یا ایک گھنٹے میں پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے، ایک دہائی کے اندر حقیقت بن جائیں گے۔انہوں نے یہ بات ایک انٹرویو کے دوران بتاتے ہوئے مزید کہا کہ مریخ تک رسائی تو پہلا قدم ہے جس کے بعد مزید سولر سسٹمز کی کھوج کی جائے گی۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved