تازہ تر ین

ہماری ہتھیلی میں یہ لکیریں کیوں ہوتی ہیں؟

لاہور(ویب ڈیسک)سب کچھ چھوڑ کر اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو اپنے چہرے کے سامنے جوڑ کر دیکھیں، آپ کو کیا نظر آتا ہے؟ یقینا چند لکیریں جو مختلف شکلوں میں ہتھیلیوں پر موجود ہوں گی۔کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ لکیریں کیوں موجود ہیں کیونکہ بظاہر ان کا کوئی مقصد بھی نہیں (ہاتھوں کی لکیروں میں مستقبل کی موجودگی کا یقین رکھنے والوں کے سوا)۔تو ہماری ہتھیلیوں میں اتنی زیادہ لکیریں کیوں ہوتی ہیں؟تو اس کا مختصر جواب ہے کہ ہتھیلیوں پر موجود یہ لکیریں درحقیقت انہیں موڑنے، پھیلانے، سکیڑنے اور اسی طرح کے کام کرنے میں مدد دیتی ہیں اور ان کی وجہ سے یہ یہ کام کرتے ہوئے ہاتھوں کی جلد بہت زیادہ کھچتی یا سکڑتی نہیں۔ان لکیروں کو طبی زبان میں پالمر فلیکس کریز کہا جاتا ہے یعنی یہ بنیادی طور پر شکنیں ہوتی ہیں جو ماں کے پیٹ میں ہی تشکیل پانے لگتی ہیں، جب بچہ 12 ہفتوں کا ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے جب پیدائش ہوتی ہے تو یہ لکیریں ہتھیلی پر موجود ہوتی ہیں۔ان کا بنیادی کام ہتھیلی کی جلد کو سکڑنے اور پھیلنے میں مدد دینا ہے، ان لکیروں کی بدولت ہی ہاتھ کی جلد مختلف پوزیشن کے مطابق مڑتی یا پھیلتی ہے۔اس سے ہٹ کر ی لکریں چند مخصوص امراض کی شناخت میںبھی مدد دیتی ہیں۔ہاتھ سب سے زیادہ سخت محنت کرنے والے اعضا میں سے ایک ہے یعنی دن بھر کوئی چیز تھامنا، کھیچنا، موڑنا اور بہت ایسا ہی بہت کچھ۔تما تر جسمانی سرگرمیوں کے لیے ہاتھوں کی جلد کو مختلف پوزیشن کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوتا ہے اور ان لکیروں سے یہ کام ممکن ہوجاتا ہے۔ان لکیروں کے بغیر ہتھیلیوں اور انگلیوں کی جلد لٹک جاتی ہے جو کہ دیکھنے میں کوئی اچھا نظارہ نہیں ہوتا۔جہاں تک ان لکیروں سے مستقبل کا حال دیکھنے کی بات ہے تو وہ ہمارا موضوع نہیں کیونکہ اس حوالے سے طویل بحث کی جاسکتی ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved