نیو یا ر ک (ویب ڈیسک)دماغی شریان پھٹ جانا یا برین ہیمرج ایسا عارضہ ہے جس میں موت کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم ہو یا نہ ہو مگر فالج کی 2 اقسام ہوتی ہیں، ایک قسم میں دماغی ٹشوز کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے یا کم ہوجاتی ہے جسے Ischemic اسٹروک کہا جاتا ہے جبکہ دوسری قسم برین ہیمرج ہے جس میں دماغی شریان پھٹ جاتی ہے۔اس کی کئی اقسام ہوتی ہیں intracranial ہیمرج، جس میں سر کے اندر خون بہنے لگتا ہے جبکہ دوسری cerebral ہیمرج، جس میں دماغ کے اندر یا ارگرد خون بہنے لگتا ہے یا Subarachnoid ہیمرج جس میں دماغ اور دماغ کو کور کرنے والے ٹشوز کے درمیان خلا پیدا ہوجاتا ہے۔عام طورپر فالج کے 13 فیصد کیسز برین ہیمرج کے ہوتے ہیں اور اس کے لیے فوری طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ریکوری ممکن ہوسکے، جبکہ اس کا خطرہ بڑھانے والے عناصر کو کنٹرول میں رکھنا بھی اس سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔
Trending
- مری: قربانی کیلئے لایا گیا بیل گہری کھائی میں جاگرا، موقع پر ذبح کرنا پڑا
- قربانی کے گوشت کو زیادہ عرصے تک فریز کرنا کتنا محفوظ ہے؟ ماہرین نے اہم طبی حقائق بتا دیے
- سوشل میڈیا نوجوانوں کیلئے سگریٹ نوشی جتنا خطرناک قرار!
- مسلح افواج کے سربراہان کی قوم کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد
- آسٹریلوی کپتان مچل مارش پاکستان کیخلاف ون ڈے سیریز سے باہر
- معروف بھارتی اداکار انتقال کرگئے
- صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر رہنماؤں نے نماز عید کہاں ادا کی؟
- گوگل ماہرین کی ’زیرو-ڈے‘ ایکسپلائٹ سے متعلق تشویشناک رپورٹ پیش
