تازہ تر ین

اصل فائدہ ن لیگ ،پیپلز پارٹی کو ہوا ،نواز شریف رہا ،زرداری ہونے والے ہیں،سردار خان نیازی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے پروگرام ضیا شاہد کے ساتھ میں معروف صحافی وتجزیہ نگار،روزنامہ پاکستان اسلام آبادکے ایڈیٹر،سی ای او روز ٹی وی سردار خاں نیازی کے ساتھ کالمے میں ہونے والی گفتگو قارئین کی دلچسپی کے لئے سوالاً جواباً پیش خدمت ہے۔
ضیا شاہد: اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ آزادی مارچ ہے کہا جاتا ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ دونوں سیاسی جماعتوں ن لیگ اور پیپلزپارٹی دھرنے کے ساتھ نہیں ہیں لیکن آزادی مارچ کے مطالبات کے ساتھ ہیں۔ پوچھا جاتا ہے کہ فضل الرحمن کو کس کی آشیر باد ہے جو انہوں نے اتنا بڑا اقدام کیا۔ اور اتنی سختی سے اپنے موقف پر قائم ہیں کہ وزیراعظم استعفیٰ دیں۔
سردارخان نیازی: تین چار دن فیصلہ ہو چکا ہے کہ وزیراعظم کبھی استعفیٰ نہیں دیں گے اور دھرنا بھی عید میلاد النبی پر ختم ہو جائیگا لیکن جہاں تک ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا تعلق ہے ان کو بھی اس آزادی مارچ سے کافی مستفید ہوئے ہیں۔ کیونکہ نوازشریف کو مل چکی ہے وار زرداری صاحب کو بھی رہائی مل جائے گی۔ یہ شرائط بھی اس میں شامل تھیں۔ اور بھی کچھ چیزیں ہیں ان میں بھی پیش رفت ہوئی ہے یہ جو اب ہو رہا ہے کہ فلاں نے فلاں سے ملا۔ خوشخبری سنائیں گے یہ سب کچھ گونگلوﺅں سے مٹی اتارنے والی بات ہے۔اصل معاملات تو تین چار دن پہلے طے ہو چکے ہیں۔ جہاں تک یہ سوال ہے کہ اتنے بڑے لوگ کوئٹہ سے چلے کراچی گئے، کراچی سے حیدرآباد سکھر سے ہوتے ہوئے آئے ایک گملا نہیں ٹوٹا۔ کوئی زخمی نہیں ہوا کسی ایک بندے کو چوٹ تک نہیں لگی۔ اس کے ایک لاکھ بندے کا کھانا گاڑیاں بھر کر کے جب کنٹینر پر کھڑے ہوئے تمام مکتب فکر کے لوگ اچکزئی جو کہ سات آٹھ سیٹیں ہار چکا ہے مولانا سے وہ بھی اس کنٹینر پر تھا تو یہ کامیاب شو تھا جو انہوں نے حاصل کرنا تھا وہ کر لیا۔ کون ساتھ تھا کون نہیں تھا یہ سوالیہ نشان رہے گا پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے لئے بھی مسیحا بنے۔
سوال: حکومتی سائڈ سے تعلق رکھنے والے لوگ چونکہ دھرنے کے خلاف بات کر رہے ہیں لیکن دھرنے والے کہتے ہیں کہ جب عمران خان نے نوازشریف کے خلاف دھرنا دیا تھا اس وقت اگر درست تھا تو آج اس میں کیا حرج ہے۔
جواب: عمران کا دھرنا مختلف تھا، مولانا نے دھرنے پر بھی میرے چینل کی بڑی تعریف کی میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے یہ پرامن دھرنا تھا اس کو پرامن طریقے سے ڈیل کیا ہے۔ مولانا پہلے مذہبی جماعت کا لیڈر تھا اب وہ قومی جماعت کے حوالے سے نمبر 1 پر چلا گیا ہے اور خان صاحب کا دھرنا ٹھہرا ہوا تھا۔ یہ دھرنا خوفناک صورت اختیار کر سکتا تھا میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ مولانا اپنی طاقتکا مظاہرہ کریں گے اور واپس چلے جائیں گے۔
سوال: فضل الرحمن کا سب سے بڑا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم استعفیٰ دیں کیا یہ مطالبہ آئینی ہے۔
جواب: عمران خان کا مطالبہ بھی غیر آئینی تھا ان کا تو مطالبہ بھی غیر آئینی ہے اور وہ مطالبہ اب ختم ہو چکا ہے۔
سوال: گزشتہ دور حکومت میں یہ کہا جاتا تھا عمران خان اپنے کنٹینر پر اور اپوزیشن لیڈر کے طور پر الزام لگاتے تھے کہ بہت قرضے لئے ہوئے ہیں پچھلی حکومتوں نے اور ان کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اور یہ کہ ہم آئیں گے معاشی حالات بہتر کر دیں گے ایک کروڑ نوکریاں دیں گے۔ 50 لاکھ افراد کو نئے گھر بنا کر دیں گے کرپشن ختم کریں گے جس پر بیرون ملک سے بہت سی سرمایہ کاری آئے گی ایک سال میں تو صورت حال خراب ہوئی ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ وہ جو بھی حکمران تھے ان کے دور میں اتنی مہنگائی نہیں ہوئی تھی۔ بیروزگاری نہیں تھی۔ نئے پاکستان میں یہ کیا ہوا کہ ہم پیسے پیسے کو ترس گئے۔
جواب: آپ زیادہ بہتر سمجھتے ہیں میڈیا کے جو حالات ہیں وہ آپ کے سامنے ہیں اور جس طرح مہنگائی کا سلسلہ چلا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ کچھ بہتر کام بھی کئے اب 50 لاکھ گھر ضیا صاحب سمجھتے ہیں۔ ابھی تو گھر شروع بھی نہیں ہوئے۔ 50 لاکھ 5 سال میں نہیں بیس سال میں بن سکتے ہیں۔ ایک کروڑ نوکریاں بھی کہیں نظر نہیں آئیں۔
سوال: عمران خان کے عزائم بڑے زبردست تھے کیا ان کے پاس اچھی ٹیم نہیں یا ان کی ترجیحات درست نہیں۔ اب کہا جا رہا ہے 4 سے 6 ماہ لگیں گے آپ کو کچھ تبدیلی نظر آئے گی۔
جواب: عمران خان کا ویژن اچھا ہے اس پر عمل پیرا ہونا لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا، ٹیم کی سلیکشن جس طرح کے لوگ ان کے پاس ہیں میرے حساب سے کوئی ایسا آدمی نہیں جو معاملات کو گہرائی سے جانتا ہو دوسرا نیب بھی کسی کے خلاف کوئی ایکشن لیتی ہے تو کہتے ہیں ہم نے کرایا ہے۔ کرپشن اسی طرح سے ہے۔ خان صاحب جو چاہتے ہیں وہ نہیں ہو رہا اور اداروں میں کام نہیں ہو رہا۔ مثال کے طور پر ٹیکس کا ایشو چھیڑ دیں ٹیکس نیٹ ورک بڑھانا ضروری ہے جو ہمارا بہت کمزور ہے لیکن اقدامات ایسے نہیں ہیں۔ایل ڈی اے میں، میں سی ڈی اے میں بیٹھا ہوں جہاں ایک سو پلاٹ ٹرانسفر ہوتا تھا اب ایک دو ہو رہے ہیں۔ 36 قسم کے تو ٹیکسز ہیں۔ وہ جو گورنمنٹ کو جاتے تھے جو حکومت کی آمدن تھی وہ آمدن بند ہو گئی ہے کیونکہ کوئی بلیک منی کا شکار ہے۔ باہر سے کمپنیاں تو آنا چاہتی ہیں عمران خان پر اعتماد کرتی ہیں لیکن پرابلم اتنے خوفناک بنے اور اب کچھ بہتر ہو رہے ہیں۔ چاہے بجلی کا محکمہ ہو گیا گیس کا محکمہ ہے وہ اتنا خراب کر رہے ہیں کہ اس سے لوگوں میں خوف پیدا ہو رہا ہے اور رہی سہی کسر نیب پوری کر دیتا ہے۔
سوال: دو دن پہلے بجلی کی قیمتوں میں اصافہ ہوا اور ضروریات زندگی آٹے، چینی کی قیمت میں اضافے کی خبر آتی ہے کبھی یہ خبر سنائی نہیں دیتی کہ فلاں چیز کی قیمت پہلے سے کم ہوئی۔ دو صوبوں میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ صوبوں میں کسی بھی جگہ مہنگائی کنٹرول نہیں ہو رہی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
جواب: ڈیمانڈ اور سپلائی کا توازن تب قائم رہ سکتا ہے جب معیشت کا سلسلہ چل رہا ہو تو پھر قیمتوں میں متوازن قیمتیں مقرر کی جا سکتی ہیں۔ پھر 18 ویں ترمیم نے رہی سہی کسر پوری کی ہوئی ہے۔ تعلیم، صحت مختلف قسم کی چیزیں وہ بھی صوبوں کے پاس ہیں۔ صوبوں میں کرپشن میں کمی نہیں ہوئی جو ہو سکتا ہے کرتے ہیں عمران خان کو مکمل طور پر معلومات پہنچانے یا ملنے کا بھی شاید ادراک نہیں جس طرح پرائم منسٹر کو ہونا چاہئے۔
سوال: جو محکمے صوبائی حکومتوں کے پاس ہوتے ہیں ان کی کارکردگی میں ڈاکٹروں کے مسائل ہوں، نابینا افراد تاجروں، آئل ٹینکروں کے مسائل ہوں۔ صنعتکاروں، دکانداروں کے مسائل ہوں آپ کو کسی سیکٹر میں امپرومنٹ نظر آتی ہے۔ کوئی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔
جواب: گزشتہ دور حکومت سے بہتر تو میں نہیں کہہ سکتا۔
سوال: شجاعت حسین اور پرویز الٰہی کا مشن کہاں تک پہنچا ہے۔ وہ تو بڑی اُمید افزا باتیں کر رہے تھے۔ معلوم ہوتا ہے یہ دھرنا ابھی اسی طرح سے چلے گا۔
جواب: وزیراعظم کے استعفے کی بات تو نہیں لیکن الیکشن میں کچھ ردوبدل ہے سال ہے دو ہیں، اس طرح کیا گیا ہے۔ جہاں تک مجھے اطلاع ہے۔
سوال: عمران خان کے بارے میں تو ہمیں یہ اطلاع تھی کہ دھرنے کے دور میں زیادہ تر کنٹینر میں رہتے ہیں اور کبھی کبھی کپڑے تبدیل کر کے واپس آ جاتے ہیں۔ مولانا کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر وہ اپنے اسلام آباد والے گھر میں چلے جاتے ہیں صرف شام کے وقت روزانہ رات کے وقت تشریف لاتے ہیں۔ یہ دھرنا تو نہ ہوا جب لیڈر وہ خود اپنے لوگوں کے پاس نہیں رہتا۔ خود کوئی تکلیف برداشت نہیں کرتا کیا آپ اس کو دھرنا کہہ سکتے ہیں۔
جواب: جی ہاں یہ درست ہے پرویز الٰہی اور چودھری شجاعت بارے عرض کیا ہے کہ ایک بات سیاسی رنگ دینے والی بات ہے فیصلہ تو پہلے ہی ہو چکا ہے یہ بھی کامیابی ہے کہ اکرم درانی صاحب ابھی کہہ رہے تھے کہ ایک دو دن بعد دھرنے کو ایک اور نیا رنگ دے دیا جائے گا۔ یعنی میلاد کے دن دھرنا ختم ہو جائے گا۔ دو مرتبہ وضاحتیں دی ہیں۔ اوردونوں مرتبہ کہا ہے کہ فوج کا سیاسی دھرنوں سے کوئی تعلق نہیں۔ فوج کسی سیاسی جماعت کے ساتھ نہیں ہے۔ لیکن مولانا کے علاوہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ ایسی باتیں کرتے ہیں کبھی کہتے ہیں خلائی مخلوق نے الیکشن میں دخل دیا۔
ضیا شاہد: مولانا فضل الرحمان کا موقف ہے کہ عمران خان محض مہرہ ہیں ۔ وہ اس مہرے کے پیچھے اصل قوت کی سیاست میں آمد کو غلط سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس مطالبے کو شکل دی ہے کہ آئندہ الیکشن میں فوج کو ہرگز طلب نہ کیا جائے اور نہ ہی فوج کا الیکشن سے کوئی تعلق ہونا چاہئے۔ دوسری جانب برس ہا برس کے تجربات بتاتے ہیں کہ پولیس اور رینجرز سے الیکشن کے معاملات نہیں نمٹتے اور فوج کو سول سروس کی مد میں بلانا پڑتا ہے۔ کیا فوج کو الیکشن میں نہیں بلانا چاہئے؟
سردار نیازی: مولانا کی اس بات کو حکومت نے زیر غور رکھا ہوا ہے۔دوسری جانب ایک لنگر گپ ہے ، لوگ گلی محلوں، لائبریری ، ہوٹلز وغیرہ میں کر رہے ہیں کہ 10ارب کی منی ٹریل بھی پوچھی جائے گی کیونکہ ایک لاکھ آدمی کا کھانا ، کپڑے اور رہائش ایک سوال ہے، منی ٹریل کا کیا بنے گا یہ بعد کی باتیں ہیں۔
ضیا شاہد: ڈی جی آئی ایس پی آر نے دو مرتبہ واضح وضاحتوں میں کہا ہے کہ فوج کا سیاسی دھرنوں سے کوئی تعلق نہیں ۔ فوج کسی سیاسی جماعت کیساتھ ہے نہ الیکشن میں کسی جانبداری سے کام لیتی ہے۔ لیکن مولانا فضل الرحمان ، ن لیگ اور پیپلزپارٹی یہ باتیں کرتے رہتے ہیں کہ خلائی مخلوق نے الیکشن میں دخل دیا۔ کبھی کہتے ہیں نظر نہ آنے والے لوگ کسی کی کامیابی کی وجہ بنے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ گذشتہ الیکشن میں کسی طرز پر فوج نے کسی جانبداری کا ثبوت دیااور کیا فوج کی وجہ سے تحریک انصاف کو 4سیٹیں ملیں؟اگر یہی بات درست ہوتی تو تحریک انصاف کو ن لیگ کی طرح دو تہائی اکثریت ملنا چاہئے تھی۔
سردار نیازی: فوج کے بغیر الیکشن ہو ہی نہیں سکتے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ فوج خود الیکشن کروانے نہیں آتی، برسراقتدارحکومت کی ریکوزیشن پر آتی ہے۔ فوج آئندہ بھی آئے گی۔ فوج پر فلاں کو جتوانے اور ہرانے کے الزامات پر انہوں نے کہا ہے کہ فوج کو الزام دینے ہیں تو الیکشن میں نہ بلوائیں۔ حکومت بلائے گی تو فوج کو حکم کی پابندی کرنی پڑے گی۔ پاکستان میں جو پارٹی الیکشن ہار جاتی ہے وہ الزام لگاتی ہے۔ تحریک انصاف ہاری تو کہا کہ 34پنچر،50پنچر ،60پنچر لگ گئے اور ن لیگ ہاری تو کہا خلائی مخلوق آگئی۔ الزام اسی کو دیا جاتا ہے جو طاقتور ہوتا ہے اسی لیے فوج کو الزام دیا جاتا ہے کہ شاید انہوں نے ایسا کر دیا۔ فوج ہمیشہ عوام کیساتھ ہوتی ہے۔
ضیا شاہد: پاکستان میں نیوز پیپر انڈسٹری میں بڑے پیمانے پر بحران ہے اور چینلز بھی اسکی زد میں ہیں۔ موجودہ حکومت کی فلاسفی ہے کہ اشتہارات کی کوئی ضرورت نہیں ، پچھلی حکومتوں نے اشتہارات پر بہت پیسہ خرچ کیا ۔ سرکاری اشتہارات میں کمی کیساتھ ملکی عمومی سیاسی صورتحال نے نجی سیکٹر کو بھی کمزور کیا ہے جسکے باعث اشتہارات کم ہوگئے ہیں۔ آپ ٹی وی چینل اور اخبار چلانے کا تجربہ رکھتے ہیں، بتائیے کہ کیا موجودہ حکومت اس بحران کی ذمہ دارہے۔
سردار نیازی: حکومت ہمیں تنگ کر رہی ہے ، نہ پچھلے پیسے ادا کیے جارہے ہیں اور نہ بزنس دیا جارہا ہے۔ حکومت ریونیو دے تو بجٹ کا ایک فیصد بھی نہیں بنتا۔ حکومت نے آپکے ادارے کے بھی پیسے دینے ہیں اور میرے ادارے کے کروڑوں روپے ایجنسیوں کے پاس پھنسے ہوئے ہیں۔ اسمیں ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم ایجنسیوں پر اعتماد کرتے ہیں مگر وہ طاقتور کے علاوہ کسی کو ادائیگی نہیں کرتے۔فردوس عاشق اعوان سے ملاقات میں ان سے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کا براہ راست ادائیگیوں کا وعدہ کہاں گیا۔ایم کام ، میڈیا اور میڈاس میں میرے10کروڑ پھنسے ہوئے ہیں، ایجنسیوں پر اعتماد ہماری غلطی ہے کہ حکومت کی جانب سے کی گئی ادائیگیاں ہمیں ایجنسیوں سے وصول نہیں ہوپاتیں۔ اے پی این ایس اور پی بی اے کو خط میں کہا ہے کہ جن ایجنسیوں نے ادائیگیاں کرنا ہوتی ہیں وہ اپنے نام تبدیل کر کے دوبارہ رجسٹرہوجاتی ہیں اور کام جاری رکھتی ہیں۔ ہمیں اپنی اداﺅں پر غور کرنا ہوگا۔
ضیا شاہد: چینلز اور اخبارات کے کاروباری حالات کی بہتری کے لیے حکومت کو کوئی تجویز دیں۔
سردار نیازی: ضیا شاہد آپ وزیراعظم کو خط لکھیں ، ہم آپکی سربراہی میں ان سے ملیں گے اور بات کریں گے۔ میں روز آواز اٹھاتا ہے مگر میری کوئی نہیں سنتا۔ فردوس عاشق اعوان سے ملاقات میں انکا کہنا تھا کہ وہ پریس کلب میں سوشل میڈیا جیسے شکایات سیل کا نارووال میں افتتاح کرنا چاہتی ہےں جس پر میں نے کہاکہ میڈیا انہیں پروجیکٹ کر سکتا ہے مگر اس سے پہلے میڈیا کو اسکا مقام دیا جائے تاکہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکے۔
ضیا شاہد : حکومت کی جانب سے کئی مرتبہ خوش خبری دی گئی ہے کہ برآمدات اورسرمایہ کاری سے حالات بہتری کے اشارے مل رہے ہیںمگر دوسری جانب مہنگائی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔کیا واقعی بہتری ہو رہی ہے کہ ہر حکومت کی طرح عوام کو بہلایا جارہا ہے۔
سردار نیازی: وزیراعظم عمران خان کا موٹو یہی ہے کہ ملک میں بہتری آئے ، غریبوں کو خوشحالی ملے۔ وزیراعظم آپکا بہت احترام کرتے ہیں اور آپ انہیں جانتے ہیں۔ معیثت میں بہتری کے اشارے مل رہے ہیں ، اسٹاک مارکیٹ مسلسل مثبت سمت میں جارہی ہے جسکا مطلب سرمایہ کاری ہورہی ہے۔مہنگائی کو روکنے کے لیے طلب اور رسد میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔ پاکستان کی برآمدات ابھی بڑھی نہیں مگر بڑھنے کا امکا ن ہے۔ بیرون ملک کمپنیاں وزیراعظم پر اعتماد کرتی ہیں۔ان کمپنیوں نے معاہدے کیے ہیں، بہتری کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔
ضیا شاہد: مولانا الزام لگاتے ہیں کہ عمران خان یہودی نواز ہے مگر اقوام متحدہ میں وزیراعظم کی تقریر یہودیوں کے سخت خلاف تھی، پہلی مرتبہ انہوں نے یو این او میں اسلام کی صداقت کو واشگاف انداز میں بیان کیا۔ مولانا فضل الرحمان کبھی ختم نبوت اور کبھی یہودی نواز اور کبھی مودی حکومت کی امداد کا الزام لگاتے ہیں مگر وزیراعظم بظاہر مودی حکومت کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔کیا مولانا کا کوئی بیانیہ درست بھی ہے؟ مولانا پر الزام عائد ہوتا ہے کہ آزادی مارچ نے مسئلہ کشمیر کو دبا دیا ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved