تازہ تر ین

استعفی ملا نہ حکومت ختم ہوئی،کیا مولانا دھرنے سے خالی ہاتھ لوٹے،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے دھرنا تو ختم کر دیا ہے وہ جو بڑی سڑکوں کو جو بڑے شہروں کو آپس میں ملاتی ہیں ان کو بند کریں گے جس طرح اسے آج انہوں نے چمن والی سڑک کو بند کر دیا ہے اور محمود اچکزئی صاحب جو سارے جلسوں میں ان کی تقریر کے دوران میں کھڑے ہوتے تھے ان کے لوگوں نے بھی اس سلسلے میں مولانا کے پروگرام کی مدد کی۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس تحریک کا وہ ٹیمپو برقرار رکھ سکیں گے یا نہیں۔ اس میں مختلف لوگوں کی مختلف رائے ہے بعض لوگوں کی رائے ہے کہ مولانا کے مداح ہیں دھرنے پر عمل کر کے اسلام آباد پہنچے تھے یقینا وہ ان کے احکامات پر بھی عمل کریں گے لیکن بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ جی ٹی روڈ یا اس قسم کی بڑی سڑکوں کو بند کرنے کی کوشش کی تو ایک تو حکومت انہیں کھلوانے کی کوشش کرے گی اور دوبارہ جگہ جگہ پر فساد ہو گا بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عوام خود ان سڑکوں کو بند کرنے کے عمل کو ناپسند کریں گے مثال کے طور پر جی ٹی روڈ کو اگر کسی بھی جگہ پر سڑک بند کی گئی تو ایک گھنٹے کے اندر اتنے لوگ جمع ہو جاتے ہیں کہ میرے خیال ہے کہ وہ کسی پولیس یا رینجرز کی مدد کے بغیر بھی وہ سڑک خود کھلوا لیں گے۔ اس لئے یہ کافی اس کی گیم ہے مولانا ویسے پرخطر صورتحال کو پسند کرتے ہیں وار ان کا عزم اور ارادہ پختہ ہوتا ہے یہ ٹارگٹ دھرنا کے اسلام آباد میں خیمہ زن ہونے سے بہت بڑا ہے۔ دیکھنا ہو گا کہ لوگ جگہ جگہ رینجرز سے پولیس اور سپیشل پولیس سے لڑائی کرنا پسند کریں گے۔ البتہ مولانا نے آزادی مارچ یا دھرنے سے اب تک کیا کھویا یا کیا پایا ہے بہرحال مجھے ان کی آزادی مارچ یا دھرنے سے کوئی خاص کامیابی نظر نہیں آتی۔ اگر استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے تھے تو استعفیٰ ان کو نہیں ملا۔ اگر وہ ڈی چوک کی طرف جانے کی ضد کر رہے تھے کہ ہم لاشیں بھی ان کو نہیں ملیں اور اس قسم کی سنگین صورت حال پیدا نہیں ہوئی اور کسی جگہ لاءاینڈ آرڈر فورسز سے براہ راست مڈبھیڑ بھی نہیں ہوئی۔ ایک کامیاب مولانا کی اچھی ہے کہ انہوں نے اب تک کسی فوجداری کیس کے بغیر اپنے دھرنے کو اختتام تک پہنچا دیا اور کسی قسم کا کوئی نقصان بھی نہیں ہونے دیا۔ جہاں تک ان کے دعوﺅں کا تعلق ہے ان میں سے ایک بھی پورا نہیں ہوا۔ ای سی ایل کے فیصلے کے ساتھ جتنی بڑی سکیورٹی رکھی گئی ہے تواس بارے میں ن لیگی حلقے کہہ چکے ہیں کہ ہمیں وہ قبول نہیں۔ آج صبح کے اخبار کی لیڈ سٹوری تو یہی تھی کیا اب ساتھ ارب کے سکیورٹی یا اس کے برابر سکیورٹی دینے کے لئے کیا وہ تیار ہوں گے میرا خیال ہے نہیں۔ فوری طور پر تو اس بات کا امکان دکھائی نہیں دیتا یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے کھل کر مولانا کا ساتھ نہیں دیا۔ اپنے لوگ نہیں بھیجے دھرنے میں نہیں بٹھائے مختلف شہروں سے ان کے آزادی مارچ کے ساتھ شامل نہیں کئے صرف لیڈر شپ عین وقت پر جلسہ گاہ میں گئی لیکن مکمل طور پر آزادی مارچ کا ساتھ نہیں دیا۔ اس سوال پر کہ کیا مولانا کی دھرنے سے ساکھ متاثر ہوئی ہے ضیا شاہد نے کہا کہ اس کا انحصار پلان بی کی کامیابی پر ہے اگر تو انہوں نے جو مین سڑکیں ہیں ان کا بند کر دیا پھر تو یہ سمجھا جائے گا کہ وہ کامیاب ہیں لیکن جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ یہ کام کافی مشکل ہے اور اس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے محاذ آرائی ہے اور مولانا کے لوگ جو ہیں دینی مدارس کے استاد اور طلبہ ہیں لیکن وہ بیچارے کسی بھی طور لڑائی مارکٹائی کرنے والے لوگ نہیں ہیں وہ یقینا اپنے لیڈر کی بات پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے لیکن یہ سب دیکھنا پڑتا ہے کہ لیڈر ان سے کیا چاہتا ہے۔ بی ، سی اور ڈی ان کے پاس ہے۔ پلان بی کے تو شروع میں ہی خطرہ ہے کیونکہ جب کہا آپ لاءاینڈ آرڈر کو ڈسٹرب کرنے کی کوشش کریں گے تو یقینا آپ کو منع کیا جائے گا اور جو پولیس اور وسری فورسز اس کی مخالفت کریں گی کہیں ان کے جو لوگ دیندار ہیں شریف لوگ ہیں ان کا اس طریقے سے پولیس سے ٹکر لینا اور لاءاینڈ آرڈر برقرار رکھنے والی فوسز سے لڑائی مول لینا مشکل ہے۔ ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ہماری دُعا ہے کہ نوازشریف اپنے علاج کے لئے باہر جانے میںکامیاب ہو جائیں گے۔ جنیٹک کیٹ ملک میں نہیں ہوتے تو یہ دیکھنا ہو گا کہ ان کا باہر جانا ضروری ہے تو ضرور اس کی اجازت ہونی چاہئے پاکستان کے زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے لیکن حکومت یہ سمجھتی ہے کہ سزا یافتہ قیدی کے لئے کوئی پروین نہیں ہے کہ علاج کے لئے باہر جائیں اس لئے حکومت ایسٹرامیسرز کر رہی ہے خدا کرے اس کی کوئی درمیانی شکل نکل آئے۔ میں ایک زمانے میں علاج کے لئے لندن میں ہسپتال میں داخل تھا جب میں 3 ماہ داخل رہنے کے بعد پاکستان آیا تو میں کافی عرصہ تک اپنے خون کے ٹیسٹ یہاں سے بھجواتا رہا پی آئی اے پر ہی بھیجتے تھے 8 گھنٹے کی فلائٹ ہوتی ہے ایئرپورٹ سے ہی نمونے جاتے تھے۔ اب جب حکومت کہہ رہی ہے کہ اب نوازشریف صاحب کو سکیورٹی دے کر ہی باہر جانے کی اجازت ہو سکتی ہے 7 ارب تو بڑی رقم ہے اس کے بارے ن لیگ کے اکابرین پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ہمیں اس قسم کی مشروط اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ جب ان کی طبیعت خراب ہے بھیجنا بھی ضروری ہے لہٰذا جو بھی درمیانی شکل نظر آتی ہو، کوئی ذاتی ضمانت ہو سکتی ہے۔ اور یا کوئی اور ہو کاعذات کا پورا کرنا ضروری ہے تو اس کے لئے کوئی شکل نکالی جائے اور بغیر آپ کی جماعت کی طرف سے یہ کہنے کے کہ ہم اس کے لئے تیار کریں کوشش کریں کہ کوئی نہ کوئی اس کا کوئی درمیانی راستہ نکل آئے اور میاں صاحب پرامن طریقے سے اور اچھے طریقے سے باہر جا کر اپنا علاج کروائیں۔ ہمار پوائنٹ سکور کرنے کا مقصد نہیں ہے ہمارا مقصد نوازشریف کا پراپر علاج ہو جائے گا۔ یہ ایسا ہو سکتا ہے کہ ان کے بلڈ کے نمونے یہاں سے بھیج دیئے جائیں اور لندن میں وہاں ہسپتال پہنچا دیئے جائیں۔ خدا ان کو صحت یاب کرے۔ کوئی ایسی شکل نہیں دونوں طرف سے جو پوائنٹ سکورنگ ہو رہی ہے کہیں خدانحواستہ کوئی نقصان ہو جائے۔ جیسے چودھری شجاعت نے بھی کہا ہے یہ معاملہ وزیراعظم کو نمٹانا چاہئے نقصان پہنچانے والوں کی باتوں میں نہ آئیں کوئی ایسا داغ نہ لگ جائے جسے سنبھالنا اور مٹانا مشکل ہو جائے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دونوں طرف سے اس پوائنٹ سکورنگ ہو رہی ہے۔7 ارب ہیں۔ سات کروڑ تو مریم نواز کی رہائی کے لئے بھی یہاں جمع کرا دیئے گئے۔ اگر اس کی کوئی سکیورٹی جمع کروانی بھی پڑتی ہے تو انسانی زندگی کی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ دونوں رف سے نرمی ہونی چاہئے۔ حکومت کو بھی چاہئے کہ کم از کم سکیورٹی بانڈ لے لیں۔ ان کو تو ایک کاغذ چاہئے کہ اس کا کوئی ذمہ دار ہے وہ اگر واپس نہیں آتے۔ اگر ان کو اس قسم کی شورٹی مل جاتی ہے تو ان کو جانے دینا چاہئے۔ حکومت بلاوجہ اس میں رکاوٹ نہ بنے۔ راستہ تو یہ بھی تلاش ہو سکتا ہے کہ اگر ایک مشین پڑی ہے جس کو تجربات کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے کہ میڈیکل کالج بھی تو اس کو بڑی آسانی سے آپریٹنگ پوزیشن میں لایا جا سکتا ہے۔اگر دل تو راستے بے شمار ہو سکتے ہیں۔ شیخ رشید صاحب نوازشریف کو باہر بھیجنے کا معاملہ ہے عوام کی رائے ہے کہ ان کو باہر جانے کی اجازت ہونی چاہئے تا کہ نقصان نہ ہونے پائے۔ عدالت میں جائے بغیر معاملہ نمٹایا جائے تو بہتر ہے اگر عدالت جانا ضروری ہے تو جلد سماعت کے لئے درخواست دے کر وہاں سے فیصلہ لیا جا سکتا ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved