تازہ تر ین

کا بینہ میں آئے روز تبدیلی درست نہیں ،وزرا ءکو کارکر دگی دکھانے کے لیے 2اڑھائی سال دیں،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں، تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے کہنہ مشق صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ عمران خان جب جوش جذبات میں خطاب کرتے ہیں ان کو خودآگاہی نہیں ہوتی کہ مثال کے طور پر یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے بہت اچھا نٹینر بنا ہوا ہے اس پر 35 لاکھ روپے لگے ہیں اگر وہ ایک مہینہ اس میں رہ گئے تو کیا وہ ان کی بات مان لیں گے وہ کہتے ہیں استعفیٰ دیں۔ کیا وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ عمران خان کو بہت سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہئے اس قسم کی شرطیں نہیں لگانی چاہئیں۔ لوگ پہلے ہی اس معاملے میں بہت بدنام ہیں جیسے ہمارے شہباز شریف بالعموم یہ کہتے ہیں کہ ولاں کام نہ کیا تو میرا نام بدل دینا۔ وہ اتنی بار اپنا نام بدلوا چکے ہیں کہ پتہ نہیں اب ان کا کون سا نام ہونا چاہئے۔ مولانا نے دھرنا تو ختم کر دیا کہ لیکن آزادی مارچ تو اب بھی جاری ہے اب بھی ان کا شاہراہیں بند کرنے کا معاملہ ہے اس میں ان کے دو مخالف ہوں گے حکومت تو مخالف ہو گی کیونکہ حکومت کا کام ہے کہ سڑکوں کو چالو رکھے لیکن بعض جگہوں پر جو میرا خدشہ تھا وہی ہوا مانسہرہ میں یہ واقعہ پیش آ چکا ہے کہ جن لوگوں کا راستہ روکا گیا تھا انہوں نے جھگڑا کیا اور کہا کہ آپ کون ہوتے ہیں سڑک بند کرنے والے۔ اس میں مولانا کیلئے ایک پرابلم ہو گی جیسا کہ کل شام مجھے پتہ چلا کہ شاہدرہ کے پاس ریلوے کے پھاٹک کو روکا ہوا ہے اب جتنی گاڑیاں گوجرانوالہ سے جی ٹی روڈ پر آئیں گی ان میں لوگ کتنی دیر برداشت کر سکتے ہیں۔ بالآخر ایک وقت آئے گا کہ اس زبردستی سے سڑک بند سے آگے سے احتجاج بھی کر سکتے ہیں۔ مولانا تو چاہیں گے کہ یہ سختی پھیلے کہ اب جو اس کے خلاف جو عدالت میں درخواست دائر کی گئی ہے کہ شاہراہیں بند کرنے سے عوام کا نقصان ہو گا۔ کورٹ سے بھی اس کے خلاف فیصلہ آ سکتا ہے اس لئے کہ کوئی بھی عدالت سڑکوں کی بندش کی اجازت نہیں دے سکتی۔ عمران خان کی شہباز شریف اور بلاول بھٹو کے خلاف تقریر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ عمران خان کا نقطہ نظر ہے کہ پرانے سیاستدان سارے کرپٹ ہیں۔ اس نقطہ نظر پر اڑے ہوئے ہیں کہ میں صحیح کر رہا ہوں۔ اس کا علاج یہ ہے کہ وقت گزرنے دیں کہ اس لہجے کے خلاف ہوتے ہیں یا ان کے حق میں زیادہ ہوتے ہیں۔ وہ جو شرطیں لگاتے ہیں کہ وہ کسی اپنی شرط میں پھنس جائیں گے۔ میں تو مولانا کی جگہ پر ہوں تو میں کل سے کنٹینر میں بیٹھ جاﺅں، چودھری شجاعت کے وائرل بیان پر یہ جو کر رہے ہیں آگے کوئی وزیراعظم بھی بننے کے لئے تیار نہیں ہو گا پر بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ چودھری شجاعت کے ساتھ ساتھ جو پرویز الٰہی نے کچھ کہا اس پر ان کی تردید بھی آ گئی۔ کل انہوں نے کہا کہ ہم تو اتحادی ہیں۔ میرے خیال میں ہمارے سیاستدان بات کرتے وقت سوچ لیا کریں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں کہ کل اس کی تردید تو نہیں کرنی پڑے گی تو بہت سی آسانیاں ہو جائیں۔ سابق وزیراعظم نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکال دیا گیا ہے اور وہ کل لندن روانہ ہو جائیں ایک طرح سے تو حکومت کی جان ہی چھوٹ گئی ہے کیونکہ اب فیصلہ عدالت نے کہا ہے کورٹ کے فیصلے سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا، زیادہ لوگوں کی تعداد یہ سمجھتی تھی کہ نوازشریف کو جا کر علاج کرانا چاہئے لیکن یہ بھی ایک تھریٹ تھا کہ نوازشریف سزا یافتہ قیدی ہیں اگر یہ رسم چل نکلی تو جیلوں میں بہت سے قیدی ایسے ہیں جو اپنے خرچ پر باہر جانے کے لئے تیار ہیں بڑی مشکل پیش آ جائے گی اور عدالت کو اس میں مداخلت کرنا پڑے گی۔ جہاں تک وزیراعظم عمران خان کا کہنا کہ ہمیں رحم آ گیا۔ یہ رحم والی بات تو ایسے ہی بات ہے لیکن میرے خیال میں عدالت کا فیصلہ سب سے مناسب تھا جو کچھ کہہ کر دیا شہباز شریف صاحب نے اس کو بھی عدالت نے نہیں مانا جو شرائط حکومت نے لگائی ہیں اس کو عدالت نے نہیں مانا۔ کورٹ نے ان دونوں کو سامنے رکھ کر ایک تیسرا مسودہ بنایا ہے جس میں سانپ بھی مر جائے لاٹھی بھی نہ ٹوٹے کی طرح سے کورٹ نے ایک درمیانی راستہ تلاش کیا اور جس چیز کی ضرورت تھی وہ بھی کر دیا لہٰذا آج یہ تمام اخبارات کی لیڈ سٹوری یہ ہے کہ حکومت نے اس کو اس طرح تشریح کی ہے کہ شریف برادران نے اپنے آپ کو گروی رکھ دیا اس کا مطلب ہے کچھ بات حکومت کی بھی مانی گئی اور شرائط بھی سامنے لائی گئی اچھا ہوا کورٹ نے بہت ہی اچھا فیصلہ کیا۔ شرائط بھی طے ہو گئیں اور اس فیصلے کے راستے میں جو تحفظات بھی دور کر دیئے گئے۔ اٹارنی جنرل نے اس فیصلے کو جس طرح سے بیان کیا ہے کہ شریف برادران نے اپنے آپ کو گروی رکھ دیا ہے۔ کیا لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے اپنے آپ کو گروی رکھنے کا تاثر ملتا ہے؟ یہ بحث بہت لمبی چلی مگر ہائی کورٹ نے یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل کر دیا۔ دونوں فریقین کو شکر گزار ہونا چاہئے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ شریف برادران کا ٹریک ریکارڈ جو ہے اس بارے میں زیادہ اچھا نہیں کہ وہ پہلے بھی اکثر اوقات معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے رہے ہیں۔ اور کہا کہ جو وہ بھائی کے بارے میں کہہ رہے ہیں انہوں نے خود اپنے بیٹے کو یا اپنے داماد کو واپس لینے کی کیا کوشش کی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں یہ جو شاہراہیں بند کرنے کا مولانا فضل الرحمن نے نئے فیز میں پروگرام دیا ہے رٹ دائر ہو گئی ہے۔ کیا دنیا کی کوئی عدالت اس طرح کسی کو اجازت دے سکتی ہے کہ آپ شاہراہیں روک کر لوگوں کو گزرنے کا موقع نہ دیں۔ حکومت یقین دہانی چاہتی تھی کہ اگر وہ بغیر کسی شرط کے نام ای سی ایل سے نکال دیتی تو ان پر اس سے پوچھا جاتا کہ آپ نے کیا شورٹی لے لی۔ حکومت نے اپنے لئے یہ سہولت دیکھی کہ کوئی نہ کوئی شرط رکھ کر ان کو باہر جانے دے۔ بانڈ دینے کا مطلب پیسے دینا نہیں ہوتا۔ شہباز شریف کے بیٹے اور داماد باہر چلے گئے اور شہباز شریف نے ذرہ بربر ان کو واپس لانے کی کوشش نہیں کی۔ پاکستان شاہین ون میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ 650 کی فگر دیکھیں یہ تقریباً لاہور سے پشاور بنتا ہے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور ویسے بھی پاکستان کے بارے میں یہ ہے کہ میزائل ٹیکنالوجی میں اپنے اچھے تجربات کر چکا ہے اور پاکستان میزائل ٹییکنالوجی میں انڈیا سے بہتر ہے۔ وزارت منصوبہ بندی اور خزانہ پہلے عموماً ایک ہی بندے کے پاس ہوتی تھیں اب اسد عمر کو منصوبہ بندی کی وزارت سونپ دی گئی ہے۔ اسد عمر بارے وزیرخزانہ کے طور پر شکایات رہیں تاہم وہ عمران خان کی ٹیم کے معتمد رکن ہیں جن پر وزیراعظم اعتماد کرتے ہیں، اسد عمر کابینہ میں بہتر اضافہ ثابت ہوں گے۔ کابینہ میں دو خالی وزارتوں پر تعیناتی کی گئی اسے ردوبدل نہیں کیا جا سکتا بہتر یہ ہے کہ کابینہ کو لمبے عرصہ کیلئے چلنا چاہئے تا کہ ہر وزیر کو اپنا ٹارگٹ حاصل کرنے کیلئے مناسب وقت مل سکے۔ بہتری کیلئے کابینہ میں تبدیلی کی جا سکتی ہے مگر میرے نزدیک ہر وزیر کو کم از کم دو اڑھائی سال کا وقت تو دیا جانا چاہئے۔ کہ اس کی کارکردگی واضح طور پر سامنے آ سکے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved