تازہ تر ین

ما ل روڈ پرایک دن احتجاج سے 75کروڑ کا نقصان ہوتا ہے ،سہیل محمود بٹ صدر مال روڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کی ضیا شاہد کے ساتھ خصوصی گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) صدر مال روڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن خواجہ سہیل محمود بٹ نے کہا ہے کہ مال روڈ پر آئے دن جلسے جلوس دھرنے ہوتے ہیں، کسی کا کوئی مسئلہ ہو خاندان سمیت مال روڈ پر بیٹھ جاتا ہے، آئے روز احتجاجی جلسوں کے باعث مال روڈ بند ہو جاتی ہے۔ ملحقہ سرکوں پر دباﺅ پڑتا ہے تو وہاں بھی ٹریفک جام ہو جاتا ہے جس سے پورا شہر ی جام ہو جاتا ہے۔ تاجر طبقہ کا بھاری مالی نقصان ہوتا ہے۔ دوسری جانب طلبہ طالبات کی تعلیم متاثر عام شہری کا بھی نقصان ہوتا ہے ٹریفک گھنٹوں جام رہنے سے ماحولیاتی آلودگی برھتی ہے جس کا خمیازہ سب بھگت رہے ہیں۔ مدت سے یہی صورتحال چل رہی ہے 2011 کے بعد سے اس میں تیزی آئی ہے۔ ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی تو عدالت نے واضح ہدایات جاری کیں کہ مال روڈ پر کوئی جلسہ جلوس نہیں ہو گا۔ مال روڈ کو ریڈ زون قرار دیا گیا احتجاج کرنے والوں کو ناصر باغ میں جانے کی ہدایت کی گئی۔ قانون سازی کی ہدایت کی گئی تاہم ابھی تک کچھ نہیں ہو سکا اور مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ سرکاری یا غیر سرکاری ہر طبقہ مال روڈ پر ہی احتجاج کرتا ہے۔ عدالت نے پیمرا کو ہدایت کی کہ مال روڈ پر جلسے جلوس کی کوریج نہ کی جائے تاجر طبقہ اس پر بڑا خوش ہوا تاہم ساری خوشی دو دن میں ہی ختم ہو گئی جب لڑکے لڑکیاں سیاسی جماعتوں کے ساتھ ڈھول ڈھمکے لے کر مال روڈ پر آ گئے اور چار پانچ گھنٹے ایسا اودھم مچایا جو کبھی پہلے دیکھنے میں نہیں آیا۔ تاجر برادری نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ہمارے حال پر رحم کیا جائے اور قانون سازی کی جائے لیکن 3 دن سے ہمارا پرچہ ہی درج نہیں کیا جا رہا اور ٹال مٹول سے کام کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کوئی ایکشن لینے کو تیار نہیں، مال روڈ پر جو فحاشی پھیلائی گئی ساری دنیا نے دیکھا، بدمعاشی کے ساتھ عدالت کے واضح حکم کی خلاف ورزی کی گئی۔ تاجروں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ہم مایوس ہو چکے ہیں سمجھ سے باہر ہے کہ ایسا کیا کریں کہ ہمارے مسائل حل ہوں حکومت اور انتظامیہ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالتے ہیں، اب چینل ۵ پر بات کر رہا ہوں کہ امید ہے کہ کوئی شنوائی ہو جائے۔ دو دن پہلے عدالت نے پیمرا کی ہدایت کی کہ مال روڈ پر کسی احتجاج کی کوریج نہ کی جائے۔ پیمرا نے چینلز کو ہدایت کی تاہم تمام چینلز میں کوریج کرتے ہیں۔ سہیل محمود نے کہا کہ میں خود گورنمنٹ کالج میں طلبہ یونین کا صدر اور جنرل سیکرٹری رہا ہوں، طلبہ یونینز تو کالج یونیورسٹیوں میں ہونی چاہئیں مال روڈ پر کون سی طلبہ یونین بنانے چلے آئے۔ ہمارا آخری سہارا عدالت ہی ہے اس کے احکامات کی بھی توہین ہوئی تاہم امید کرتے ہیں کہ مذکورہ واقعہ کے بعد ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ خود ہی دیکھے گی کہ انہوں نے اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کو مانا ہے یا معاملات ایسے ہی چلتے ہیں۔ بورڈ آف ریونیو ملازم 15 دن سے مال روڈ پر بیٹھے ہیں ہم نے وزیراعلیٰ، گورنر سمیت ہر جگہ درخواستیں دیں ہم مایوس ہو کر خود مظاہرین کے پاس جا کر منت سماجت کی کہ اٹھ جائیں لیکن کوئی ٹس سے مس نہیں ہوتا، ایک عام ایس ایچ او ہماری بات سننے کو تیار نہیں اعلیٰ حکام کیا سنیں گے عدالت جا رہے ہیں امید ہے کہ کوئی ایکشن ہو گا۔ عدالت نے قانون سازی کیلئے مسودہ تیار کرنے کا کہا ہے پچھلی سماعت پر جج صاحب بیمار ہونے کے باعث نہ آ سکے اب سماعت پر صورتحال واضح ہو گی۔ مال روڈ پر ایک دن کاروبار بند رہے کہ 75 کروڑ روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ سخت قانون سازی کی جانی چاہئے جس میں ہمارے نقصان کا بھی ازالہ کیا جائے۔ وزیر قانون ہمارا مسئلہ حل کر سکتے ہیں تو ان کے پاس جانے کو بھی تیار ہیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved