تازہ تر ین

حیدر آباد: 27 سالہ خاتون ڈاکٹر کے قتل اور ریپ کے چار ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک

انڈیا کی جنوبی ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں پولیس نے ایک 27 سالہ ڈاکٹر سے مبینہ گینگ ریپ اور بعد ازاں انھیں زندہ جلانے کے واقعے کے چار ملزمان کو پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔جانوروں کی اس ڈاکٹر کی جلی ہوئی باقیات جمعرات کے روز برآمد ہوئی تھیں اور اس واقعے کے بعد پولیس کو بڑے پیمانے پر عوامی غیض و غضب اور احتجاج کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔حیدرآباد کے پولیس کمشنر وی جے سجنر نے بی بی سی تیلگو کے ستیش بالا کو بتایا ہے کہ زیر حراست چاروں ملزمان کو جمعے کی صبح جائے وقوعہ پر لے جایا گیا جہاں انھوں نے پولیس افسران سے اسلحہ چھین کر فرار ہونے کی کوشش ی۔کمشنر کے مطابق ملزمان کی فرار کی کوشش کے دوران ہوئی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں چاروں ملزمان ہلاک ہو گئے جبکہ دو پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔پولیس کمشنر کے مطابق پولیس ملزمان کو جائے وقوعہ پر اس لیے لے گئی تھی تاکہ جرم کی کڑیاں جوڑی جا سکیں۔ان ملزمان کی ہلاکت کی خبر سامنے آنے کے بعد مقتولہ ڈاکٹر کی والدہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انصاف ہو گیا ہے۔‘

یہ خبر عام ہونے کے بعد متاثرہ خاندان کے ہمسایوں نے آتش بازی کی اور ہزاروں افراد پولیس کی اس کارروائی کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے۔

ریٹائرڈ پولیس افسر اور انڈیا میں پولیس اصلاحات کو متعارف کروانے والے پرکاش سنگھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ ملزمان کی ہلاکت کا واقعہ ماورائے عدالت قتل تھا تاہم ان کے مطابق ان ملزمان کی ہلاکتوں سے ’مکمل طور پر اجتناب‘ برتنا ممکن تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’جب زیر حراست افراد کو عدالت یا جائے وقوعہ پر لے جایا جاتا ہے تو بےحد احتیاط برتنی چاہیے۔

’ان کو باہر لے جانے سے قبل ان کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہیے، ہتھکڑی لگی ہونی چاہیے اور ملزمان کی باقاعدہ تلاشی لینی چاہیے۔ اگر پولیس محتاط نہ ہو تو کچھ بھی ہو سکتا ہے


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved