تازہ تر ین

والدین کو ڈر ہے طلبہ یونینز بحال ہو گئیں تو قتل وغارت کا ماحول واپس آجائیگا،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ہم طلبہ یونینوں کی بحالی کے لسلے میں بات چیت کرتے ہوئے یہ بات ذہن میں آئی جو پرانی اور سب سے مضبوط جماعت سمجھی جاتی ہے وہ اسلامی جمعیت طلبا ہے چنانچہ ہم نے لیاقت بلوچ صاحب اور فرید پراچہ صاحب کو دعوت دی ہے۔ دونوں حضرات پنجاب یونیورسٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور آج پاکستان کے چوٹی کے سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ لیاقت بلوچ اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ بھی رہے اور پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدر بھی رہے۔ فرید پراچہ بھی پنجاب یونیورسٹی کی یونین کے صدر رہے۔
لیاقت بلوچ صاحب! میرا پہلا سوال آپ سے یہ ہے کہ والدین کی طرف سے بڑی تشویش کا اظہار کیا ہے اور جھے اکثر لوگوں نے پوچھا ہے کہ پھر یونیورسٹیوں میں ہنگامہ ہونے لگیں گے اور لڑائی جھگڑے ہونے لگیں گے یہ جو ضابطہ اخلاق کہا جاتا ہے وہ کس حد تک کارآمد ہو سکتا ہے کہ واقعی اس پر عمل ہوا۔ لکھا ہوا کاغذ تو بہت اچھا ہو گا۔ اس میں ساری باتیں گڈی گڈی ہوں گی لیکن جب باقاعدہ عملدرآمد کی بات ہوئی تو کم ہی عمل کیا جاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ میں نے آپ دونوں حضرات کو اس لئے خاص طور پر دعوت دی ہے کہ اسلامی جمعیت طلباءکا ایک بڑا تاریخی ماصی ہے اور بہت سارے کام اسلامی جمعیت طلبہ نے ایسے کئے ہیں جن کو پاکستان کی سیاسی تاریخ سے الگ نہیں کیا جا سکتا اس لئے اس اعتبار سے بھی کہ آپ آج جب اسلامی جمعیت بحال ہو گی اور فرض کیجئے وہ کسی کالج یا یونیورسٹی میں برسراقتدار آتی ہے الیکشن میں کامیاب ہوتی ہے تو کیا وہی اس کا انداز ہو گا جن کی وجہ سے یونینوں پر پابندی لگی۔
فرید پراچہ صاحب! آپ بتایئے میں نے جس خدشے، شک یا خطرے کا اظہار کیا تھا یعنی لوگ ایک زمانے میں طلبہ سیاست کی وجہ یونیورسٹیوں میں قتل عام اتنا بڑھ گیا تھا باقاعدہ والدین تشویش کا اظہار کرتے تھے کہ بچے سکول، کالج یا یونیورسٹی جاتے تھے تو دُعا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو خیر خیریت سے واپس لائے۔ یہ جو ماحول بنا ہوا تھا جس کے بارے میں مخالفین جو ہیں وہ جمعیت پر الزام لگاتے ہیںاور جمعیت والے اپنے مخالفین پر الزام لگاتے ہیں لیکن ماحول بہرحال مارکٹائی کا تھا اور یونیورسٹیوں میں کلاشنکوف لے جانے میں بھی اپنی طلبہ تنظیموں کا ہاتھ ہے جس میں اسلامی جمعیت طلبہ بھی شامل ہے اور بری الذمہ نہیں ہے لڑائی جھگڑے کے جو اتنے واقعات مقدمات ہو چکے ہیں۔ ان سے بھی ظاہر ہے اب ہم پرانے قصے نہیں کھولنا چاہتے۔ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ طلبہ یونینیں ضرور بحال ہوں اپنی صحت مندانہ سرگرمیاں کریں۔ لیکن دوبارہ تعلیمی ماحول نہ خراب کیا جائے کیونکہ ایک شحص جو اپنے بچے کو یونیورسٹی بھیجتا ہے وہ اس لئے نہیں بھیجتا کہ وہ جا کر دنگا فساد کرے یا کسی جگہ تیسرے دن جا کر پتہ چلے کہ اسے پولیس نے پکڑا ہوا ہے۔
لیاقت بلوچ صاحب! فرید پراچہ صاحب نے جس طرح سے کہا اس میں اس بات کو تسلیم کیا کہ جب یونینیں نہیں تمہیں تو پچھلے 25,24 سال میں یونیورسٹیوں اور کالجوں میں بہت ہنگامے ہوئے اور بہت سارے ناخوشگوار واقعات بھی ہوئے۔ جمعیت کے بارے میں الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ سب سے پیش ہے اور انہوں نے مارکٹائی میں اور ایک دوسرے کو زدوکوب کرنے میں سب سے نمایاں حصہ لیا۔ جمعیت پر الزام کیوں عائد کیا گیا۔ یہ بات صحیح ہے کہ اس وقت یونین نہیں تھیں بہرحال آپ نے پہلے ہی جلسے میں کہا تھا کہ یہ تنظیم تو موجود رہی ہے الیکشن نہیں ہوئے۔
فرید پراچہ: ضابطہ اخلاق بنا بھی لیا جائے تو کاغذ کا ٹکڑا لڑائی سے تو نہیں روک سکتا۔ آپ اس بات کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ جن کا بچہ مر جاتا ہے یا جن کا گھر ویران ہو جاتا ہے۔
لیاقت بلوچ! ضابطہ اخلاق اچھا ہوا تو کام ٹھیک ہو جائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ اسلامی جمعیت جب یونینز بھی نہیں تھی اس کے باوجود اسلامی جمعیت طلبہ کی تنظیم موجود تھی۔ وہ اس طرح سے یونیورسٹی کے معاملات پر مسلط تھی محیط تھی اور اس کا اثر تھا کہ ڈاکٹر رفیق صاحب 6 ماہ تک اپنے دفتر نہیں جا سکے ان کا داخلہ بند کیا ہوا۔ لوگوں کی تقرریاں اور سٹوڈنٹس کے فیصلے جمعیت کرواتی تھی۔ پچھلے دنوں ہم نے طلبہ تنظیموں کے نمائندوں سے بحالی کے حوالہ سے گفتگو کی اس میں یہ آئے بھی تھے پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کے نوجوان آئے تھے۔ مال روڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے سہیل بٹ نے کہالڑکیاں مال روڈ پر ناچ رہی تھیں۔ وہ لوگ سٹوڈنٹس نہیں تھے وہ کہتے ہیں کہ بلوچ اور پختون طالب علموں کے حقوق سلب ہوتے ہیں ہم ان کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ کیا یہ درست ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved