تازہ تر ین

سوشل میڈیا پر جنسی ادویات اور جسم فروشی کا دھندہ جاری

لاہور (شعیب بھٹی )پاکستان میں جنسی استحصال کا دھندہ زور پکڑنے لگا، سینکڑوں ویب سائٹس نے نوجوان نسل کو جنسی استحصال کے مواقع فراہم کر دیئے ہیں میسج سے لے کر ویڈیو کالز کے ساتھ ساتھ آن لائن لوکیشن کی دستیابی تک کی سہولتیں فراہم کرنے کا انکشاف ہوا ہے ،مذکو ر ہ ویب سائٹس نے شناخت چھپانے اور ممبر شپسکی سہولیات بھی دے رکھی ہیں ، گولڈن ممبر کو تمام حدود قیود پارکرنے کی اجازت ، جنسی ادویات کی انڈسٹر ی بھی ایسی ویب سائٹس کے پینل پر موجود ہیں ، نوجوان نسل کو گمراہی کی راہ پر لیجانے میں کوئی کسر باقی نہیںچھوڑی جا رہی۔معلوم ہوا ہے کہ مزکو ر ہ ویب پر خواتین مدمقابل آن لائن استعما ل کر نے والے شخص کے ساتھ غیر اخلا قی حر کا ت کرنے سمیت گفتگو کر تی ہے۔ ذرا ئع کا کہنا ہے کہ جسم فروشی کا کاروبار اب ’گلیوں سے نکل کر انٹرنیٹ‘ پر منتقل ہو چکا ہے، انسٹاگرام اور سنیپ چیٹ جیسی موبائل ایپس کے ذریعے جسم فروشی کے لیے نوجوان لڑکیوں کو بھرتی کرتے ہیں اور اس کے بعد ’‘ جیسی ایپ کے ذریعے طے شد ہ جگہ پر بھجنے سمیت آن لا ئن نا زیبا گفتگو کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ ذرا ئع کا کہنا ہے کہ مذکو ر ہ ویب سمیت اسے سے متعلقہ د یگر ایپ پر پہلے 10ہزا ر سے لے کر 50ہزا ر رو پے تک ممبر سپ ملتی ہے اور بعدازا ں اس ویپ سے ایک لنک بھیج دیا جا تا ہے جس میں مذکو ر ہ کا ایک یو زر مل جا تا ہے جس کے با عث مکرو دھند ہ کر نے والے پو لیس اور د یگر قانو ن نافذ کر نے والے ادارو ں کی پہنچ سے دور ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آن لائن ڈیٹنگ سائٹس نے بدرجہ اتم فحاشی پھیلانے کا سلسلہ پھیلا رکھا ہے جس کے باعث کالجز اور یونیورسٹی کے طلبا اور طالبات گمراہ ہور ہے جس کے باعث معاشرتی نا ہمواریوں اور بے راہ ریاں جنم لے رہی ہیں۔ بتا یا گیا ہے کہ سب سے زیادہ ڈیٹنگ ایپ ’ٹنڈر‘ کو جسم فروشی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ جرائم پیشہ گینگ ’ہائی اسکولوں اور ویلفیئر ہومز‘ کی نابالغ لڑکیوں سے فیس بک اور سنیپ چیٹ جیسی سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کی مدد سے رابطہ کرتے ہیں اور پھر انہیں ’آسانی سے رقم کمانے کے مواقع‘ فراہم کرنے کے وعدے کر کے انہیں جسم فروشی کی ترغیب دیتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا کہ ڈارک ویب کا سہارا لیتے ہوئے بھی ایسی ویب سائٹس کو پاکستان سے ہی چلایا جا رہا ہے جس کے یوزرز کو سپیشل اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں اور اس میں مڈل کلاس کے ساتھ ساتھ اپر کلاس کی نوجوان نسل بھی پارٹیوں کے نا م پر جسم فروشی کے دھندے میں پھنس کر رہ گئی ہے۔زرا ئع کا کہنا ہے کہ جسم فروشی کی ترغیب کی لیے اشتہارات صرف ڈیٹنگ ویب سائٹوں اور اس موضوع سے متعلقہ آن لائن ایپ پر ہی نہیں بلکہ دیگر ویب سائٹس پر بھی جاری کیے جاتے ہیں۔ آن لائن جسم فروشی کا تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کے باوجود پو لیس اور دیگر قانو ن نا فذ کر نے والو ں ادارو ں کے لئے نابالغ لڑکیوں سے جسم فروشی کرانے والے ملزموں کا سراغ لگانا مشکل کام ہے۔ ایسے افراد عام طور پر آن لائن شناخت چھپا کر رکھتے ہیں اور ان کے اشتہارات بھی مبہم ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی نشان دہی نہیں ہو پاتی اور اس طرح اپنی جنسی تسکین کا سہارا لینے کے لئے ویب سائٹس کا سہارا لیتے ہیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved