تازہ تر ین

کیا ڈاکٹرز اور وکلاءمیں کشمکش کا مسلہ حل ہو گیا ہے،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ڈاکٹرز اور وکلاءوسائٹی کے تعلیم یافتہ طبقے ہیں، لیکن ان دونوں طبقوں کے درمیان کافی بے چینی پائی جاتی ہے جس کے کافی اثرات سامنے آجاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں وکلاءاور ڈاکٹروں کے درمیان تلخی بھی ہوگئی تھی اور لڑائی جھگڑے کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ خدا کا شکر ہے کہ دونوں نے اپنی معاملہ فہمی سے اس مسئلے کو حل کر لیا اور صلح صفائی بھی ہوگئی۔ یہ بات بھی ہے کہ وکلاءبڑے اتھرے ہیں کسی بات کو برداشت نہیں کرتے اور ڈاکٹرز بھی بات بات پر سڑکوں پر آ جاتے ہیں۔
ضیاشاہد نے ڈاکٹر حبیب سے سوال کیا کہ ہمارے بچے بھی ڈاکٹر ہیں ان کو تو پڑھائی سے وقت نہیں ملتا، ڈاکٹروں کے پاس سٹوڈنٹس لیڈروں کی طرح سے بات بات پر ہنگامہ کرنے کا۔ اب تو ڈاکٹر اس بات کی علامت ہو گئے ہیں کہ جب کبھی میں دفتر آ رہا ہوں تو سڑک بند ہو تو پتہ چلتا ہے کہ کسی ہسپتال کے سامنے سروسز ہسپتال کے سامنے یا گنگا رام ہسپتال کے سامنے ڈاکٹرزکی ہڑتال ہے۔ بڑا افسوس ہوتا ہے کہ اتنے پڑھے لکھے لوگوں کے مسائل جائز طریقے سے حل ہوتے رہیں تو یہ انہیں اس کی ضرورت ہی نہ پڑے لیکن ڈاکٹرز بھی کبھی ہڑتال کر دیتے ہیں کبھی اس میں تشدد بھی آ جاتا ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں۔
احتجاج سے سڑکیں بلاک ہو جاتی ہیں سارے شہری پریشان ہوتے ہیں۔ کیا عدالت نے ڈاکٹرز پر کوئی پابندی لگائی ہے۔ شہری کہتے ہیں ڈاکٹر احتجاج کریں مگر ہمارے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔
ڈاکٹر حبیب! جو ڈاکٹرز نے ہڑتالیں کی ہیں اس سے ٹریفک کے سلسلے میں اور ہسپتالوں میں علاج معالجے کی بندش کے حوالے سے کیا وجہ ہوئی ڈاکٹر تو مریض کو تکلیف میں دیکھنا نہیں چاہتے۔ پچھلے دنوں وکلاءاور ڈاکٹرز کے درمیان لڑائی ہوگئی تھی۔ وکلاءکہتے تھے کہ ڈاکٹر آئے تو ہم ان کو ماریں گے اور ڈاکٹر کہتے تھے کہ وکیل داخل ہوئے تو ہم ان کو نہیں چھوڑیں گے اس قسم کے واقعات کیوں ہوتے ہیں اور اس کا کیا تدارک ہے۔
مقصود کھوکھر صاحب! یہ خوش کن بات ہے کہ آپ نے ایک مسئلے کو خوش اسلوبی سے حل کر لیا لیکن پرابلم کیا ہوا تھا اور کس طرح حل نکالا، وکلاءاور ڈاکٹرز کے درمیان تو لگتا تھا کوئی کش مکش ہو گئی ہے۔ مجھے اکثر پولیس والے بتاتے رہتے ہیں اکثر پولیس والے کہ اگر ہم کسی وکیل صاحب کا چالان کر لیں یا اشارہ پر روک بھی لیں تو وہ غصہ کرتے ہیں کہ تم کون ہو ہم کو روکنے والے۔ وکلاءمیں یہ جو ٹرینڈینسی شروع ہو گئی ہے خاص طور پر نوجوان وکلاءمیں کہ وہ کسی بات کو برداشت نہیں کرتے وہ کسی قانون کو نہیں مانتے تو اس کی کیا وجہ ہے اس کو ہم کیسے ختم کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر میں ایک اخبار نویس ہوں میں یہ دیکھتا ہوں کہ کسی وکیل صاحب کاچالان ہوا ہے تو وہ تو نہیں ہونے دیتے جبکہ عام آدمی خاموشی سے چالان کروا لیتا ہے۔
حبیب صاحب! ڈاکٹر اپنے مسائل تو حل نہ کر سکے تھے تو آپ نے یہ الائنس کیوں بنایا۔ آپ نے کوئی سیاسی جماعت بنائی ہے کہ آپ نے اپنے ساتھ اور مجھے بھی شامل کر دیا۔ بہت سے مستحق مختلف طبقات اس طرح سے آپ کے پاس بہت ووٹر ہو گئے لیکن ان ووٹروں کو لے کر آپ نے کیا کرنا ہے کیا آپ کے کوئی سیاسی عزائم ہیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved