تازہ تر ین

ہسپتال پر حملہ آوروں کو معاف نہیں کرینگے ،عمران خان

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے پی آئی سی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے کور کمیٹی کااجلاس میں بعض ارکان نے انتظامیہ کی جانب سے ایکشن میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا تاہم بعض ارکان نے کہاکہ انتظامیہ بروقت کارروائی کرتی تو نقصان کم ہوتا۔کور کمیٹی میں ملکی سیاسی صورتحال، پارلیمانی امور، احتساب کے عمل کا جائزہ کیا گیا۔کور کمیٹی نے اتفاق کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائےگا۔ ذرائع کے مطابق کور کمیٹی کا اجلاس تین گھنٹے جاری رہا،کور کمیٹی پی اے سی پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ رعایت نہ کرنے پر اتفاق کیا ۔  ذرائع کے مطابق فیصلہ کیا گیاکہ پی آئی سی حملہ کے واقعہ پر عدلیہ اور وکلاءتنظیموں سے رابطہ کیا جائیگا ۔ ذرائع نے بتایاکہ کور کمیٹی اجلاس میں وزیر اعظم کی معاشی ٹیم کو مبارکباد دی ۔کور کمیٹی میں حماد اظہر کی ملکی شرح نمو پر بریفنگ دی گئی ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ ملکی معیشت مستحکم ہوچکی ہے،حکومت مہنگائی کے خاتمہ پر بھرپور توجہ دے گی۔وزیر اعظم نے کہاکہ چیف الیکشن کمشنرز اورممبران کی تعیناتی سے متعلق کمیٹی فیصلہ کرے گی،الیکشن کمیشن کے معاملے پر حکومتی کمیٹی کو تمام تر اختیار دیدئیے ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مودی کی ہندو بالادستی ایجنڈا سے ایٹمی جنگ کا خطرہ ہے، جرمن نسل پرستی پر عالمی خاموشی دوسری جنگ عظیم کا باعث بنی تھی،مودی قیادت بھارت ہندو بالادستی کے ایجنڈا کی جانب بڑھ ر ہا ہے جبکہ بھارت میں مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کو پر تشدد ہجوم کے حوالے کر دیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کو وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ مودی کی قیادت میں بھارت ہندو بالادستی کے ایجنڈا کی طرف بڑھ ر ہاہے اور ایجنڈا کا آغاز مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی تسلط اور محاصرے سے ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آسام میں 20لاکھ مسلمانوں کو شہریت سے محروم کیا گیا ہے اور ایجنڈا کے تحت آسام میں حراستی مراکز قائم ہوئے جبکہ ایجنڈا پر عملدرآمد کےلئے شہریت متنازعہ بل منظور کیا گیا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کو پر تشدد ہجوم کے حوالے کر دیا گیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ مودی کی ہندو بالادستی ایجنڈا سے ایٹمی جنگ کا خطرہ ہے، جرمنی نسل پرستی پر عالمی خاموشی دوسری جنگ عظیم کا باعث بنی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاﺅن ، عقوبت خانوں کے بعد شہریت کا قانون دیا گیا ہے، بھارت میں مسلمان اور دیگر اقلیتوں کو زندہ جلا دیا جاتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا منڈلاتے ایٹمی خطرات کے بھیانک نتائج کا ادراک کرے نازی جرمنی کی طرح مودی کے بھارت میں بھی لوگوں کو اختلاف کے حق سے محروم کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے عالمی برادری ہندو بالادستی کو روکنے کیلئے مداخلت کرے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی حکمت عملی سے پی آئی سی واقعہ میں زیادہ نقصان سے بچ گئے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان کو فون کر کے پی آئی سی واقعے کی تفصیلات معلوم کیں۔ وزیراعظم نے فیاض چوہان کی جانب سے معاملہ سلجھانے کے لئے موقع پر پہنچنے کی تعریف کی اور خیریت دریافت کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ کو وکلا تشدد کے باعث کوئی چوٹ تو نہیں آئی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کسی کو ہسپتالوں میں بلوے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور معاشرے کے ہرشعبے کا ہم نے تحفظ کرنا ہے، کل کا واقعہ شرمناک ہے اور حکومت پنجاب کی حکمت عملی سے زیادہ نقصان سے بچ گئے، پنجاب حکومت ٹھوس اقدامات کرکے آئندہ سے ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنائے۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ بڑے شہروں کے مرکزی مقامات پر واقع قیمتی املاک کو کم آمدنی والے افراد کے لئے گھروں سکولوں، ہسپتالوں کی تعمیر اور بہتر عوامی سہولیات کے لئے استعمال کی جائے گی۔وزیرِ اعظم نے تمام وزارتوں کو ان کی ملکیتی املاک کو عوامی فلاح و بہبودکے طور پر بروئے کار لانے کے لئے متعلقہ قوانین میں ترمیم کی تیاری کی ہدایت کردی ہے وزیرِاعظم نے وزارتوں کو یہ عمل کو ایک ہفتے میں مکمل کرکے کابینہ میں پیش کرنے کے احکامات جار ی کردیے ہیں ،متعلقہ صوبائی حکومتوں کے تعاون سے نامکمل دستاویزات یا ناجائز قبضہ شدہ املاک کو ہر قسم کی رکاوٹ سے پاک کرنے کے عمل کو بھی جلد از جلد مکمل کرنے کا کہا گیا ہے۔وزیراعظم کی زیر صدارت جمعرات کو وفاقی حکومت کی ملکیت غیر استعمال شدہ بیش قیمت اراضی کو مثبت طریقے سے بروئے کار لانے کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت کے سلسلے میں جائزہ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیر اقتصادی امور حماد اظہر، وزیر بحری امور سید علی حیدر زیدی، وزیر نجکاری میاں محمد سومرو، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی اوورسیز پاکستانیز سید ذوالفقار عباس بخاری، معاون خصوصی و ترجمان ندیم افضل چن، متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹری صاحبان اور سینئر افسران شریک ہوئے۔ سیکرٹری نجکاری کی جانب سے پہلے مرحلے میں مختلف وزارتوں کی جانب سے شناخت کی جانے والی 32بیش قیمت اراضیوں کو مثبت طریقے سے بروئے کار لانے کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت پر بریفنگ دی گئی ۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ مختلف وزارتوں اور محکموں کی جانب سے اب تک شناخت ہونے والی غیر استعمال شدہ املاک وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، کراچی، لاہور جیسے شہروں میں مرکزی مقامات پر واقع ہیں جن کی قیمت کا تخمینہ اربوں روپوں میں لگایا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں شناخت کی جانے والی 32املاک میں سے ستائیس مکمل طور پر دستیاب ہیں جبکہ بقیہ پانچ املاک کے حوالے سے ملکیتی دستاویزات کی فراہمی اور بعض مقامات پر ناجائز قبضے کو واگذار کرانے کا عمل بھی جاری ہے جو کہ بہت جلد مکمل کر لیا جائے گا۔وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ رواں ماہ دبئی میں منعقدہ ایکسپو میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور سرمایہ کاروں کی جانب سے ان بیش قیمت اراضیوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے۔وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ تمام مراحل کی تکمیل کے بعد ان املاک کی نیلامی کا شیڈول مرتب کیا جائے گا تاکہ جنوری کے پہلے ہفتے میں ان املاک کے حوالے سے اندرون و بیرون ملک اشتہارات اور تشہیری مہم کا آغاز کیا جا سکے۔وزیرِ اعظم نے اب تک حاصل ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سالہا سال سے غیر استعمال شدہ بیش قیمت سرکاری اراضیوں کو عوامی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کرنا اور ان سے حاصل شدہ آمدنی کو عوامی سہولیات کے لئے بروئے کار لانا حکومت کی پالیسی کا اہم جزو ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے شہروں کے مرکزی مقامات پر واقع قیمتی املاک کو کم آمدنی والے افراد کے لئے گھروں کی تعمیر کے حکومتی منصوبے، سکولوں، ہسپتالوں کی تعمیر کے لئے استعمال کے ساتھ ساتھ ان املاک کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بھی عوام کے لئے بہتر سہولیات کی فراہمی پر خرچ کیا جائے گا۔وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ نشاندہی کی جانے والی اراضی کی تمام تفصیلات نیا پاکستان ہاو¿سنگ اتھارٹی کے ساتھ شیئر کی جائیں تاکہ مناسب املاک کو کم آمدنی والے افراد کے لئے گھروں کی تعمیر کے منصوبے کے لئے برووئے کار لایا جا سکے۔ وزیرِ اعظم نے تمام وزارتوں کو ہدایت کی کہ ان کی ملکیت میں موجود املاک کو عوامی فلاح و بہبود اور مثبت طور پر بروئے کار لانے کے لئے متعلقہ محکموں کے قوانین میں ترمیم کی جا سکے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اس عمل کو ایک ہفتے میں مکمل کرکے کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ اس عمل کی حتمی تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ متعلقہ صوبائی حکومتوں کے تعاون سے نامکمل دستاویزات یا ناجائز قبضہ شدہ املاک کو ہر قسم کی رکاوٹ سے پاک کرنے کے عمل کو بھی جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ چیئرمین نیا پاکستان ہاو¿سنگ اتھارٹی نے وزیرِ اعظم کو کم آمدنی والے افراد کے لئے گھروں کی تعمیر کے منصوبے پر اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کم آمدنی والے غریب افراد اور خصوصا شہروں میں واقع کچی بستیوں میں رہنے والے افراد کو جدید سہولتوں سے مزین سستے گھروں کی سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہروں میں واقع کچی بستیوں میں کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر سے جہاں غریب اور پسے ہوئے طبقے کی رہائش کا مسئلہ حل ہوگا وہاں اسی جگہ رہائشی عمارات کے ساتھ واقع کمرشل پلازوں کی تعمیر سے حاصل ہونے والی آمدنی کو غریب افراد کو سستے گھر وں کی فراہمی کے لئے استعمال کیا جا سکے گا۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved