تازہ تر ین

جنرل سلیمانی کے جنازہ میں بھگڈر ،50جاں بحق 213زخمی

تہران (نیٹ نیوز) ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے آبائی شہر کرمان میں جنازے کے جلوس میں بھگدڑ مچنے سے 50 شرکاءجاں بحق اور 213 سے زائد زخمی ہو گئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق سوگواران نے قاسم سلیمانی کی تصاویر والے پوسٹر اور ایرانی جھنڈے تھام رکھے تھے ۔اس دوران جنازے کے جلوس میں بھگدڑ مچنے اور دم گھٹنے سے 40 شرکاءجاں بحق اور 213 زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکی حملے میں جاںبحق ہونے والے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی تدفین کے موقع پر بھگدڑ مچنے سے ہلاکشدگان کی تعداد 50 سے بڑھ گئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس بھگدڑ میں 200 سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ایران کے فورینزک میڈیسن کے ڈائریکٹر جنرل عباس آمیان نے 50 سے زیادہ ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے اور مرنے والوں کی حتمی تعداد کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔یہ بھگدڑ منگل کو قاسم سلیمانی کے آبائی شہر کرمان میں ان کے جنازے میں مچی جس میں بہت بڑی تعداد میں لوگ شریک تھے۔ایرانی وزارتِ صحت کے ترجمان کیانوش جہانپور کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد تمام زخمیوں اور لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور ہلاک شدگان اور زخمیوں میں خواتین، معمر افراد اور بچے بھی شامل ہیں۔تاحال واضح نہیں کہ بھگدڑ کیوں اور کیسے مچی تاہم اس واقعے کے بعد قاسم سلیمانی کی تدفین کا عمل بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان رمضان شریف نے کہا ہے کہ اب تدفین کسی اور دن ہو گی تاکہ شہدا کو عزت و توقیر کے ساتھ دفنایا جا سکے۔کرمان پولیس کے ڈائریکٹر جنرل حامد شمس الدین نے ان افواہوں کو مسترد کیا ہے کہ جنازے کے جلوس میں دہشت گردی کی کوئی کارروائی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قاسم سلیمانی کے جنازے میں دہشت گردی کی کارروائی کی افواہ نظام کے دشمنوں کی سازش ہے۔دارالحکومت تہران میں پیر کو ان کی نمازِ جنازہ میں لاکھوں افراد کی شرکت کے بعد ایران کے سرکاری ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر کے مطابق منگل کو کرمان میں بھی سیاہ لباس پہنے ہوئے بڑی تعداد میں عوام انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق کرمان میں قاسم سلیمانی کے جنازے میں لاکھوں افراد شریک تھے۔جنازے کے جلوس میں شریک افراد نے ایرانی پرچم اور قاسم سلیمانی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور وہ مرگ بر امریکہ یا امریکہ مردہ باد اور ٹرمپ مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔قاسم سلیمانی کو ایران میں ایک قومی ہیرو کا درجہ حاصل تھا اور انھیں ملک میں آیت اللہ خامنہ ای کے بعد سب سے طاقتور شخصیت سمجھا جاتا تھا۔کرمان میں ان کے جنازے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل حسین سلامی نے کہا کہ ایران قاسم سلیمانی کی موت کا بدلہ ان مقامات کو جلا کر لے گا جو انھیں(امریکیوں کو) بہت پسند ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے دشمن سے کہتے ہیں کہ ہم بدلہ لیں گے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے مقتول سربراہ قاسم سلیمانی کی بیٹی زینب نے ایران نواز شخصیت پر زور دیا ہے کہ وہ اس کے باپ کے قتل کا انتقام لیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق تہران میں اپنے باپ کی آخری رسومات کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے زینب سلیمانی نے لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ، حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ، فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد کے سکریٹری جنرل زیاد نخالہ، شامی صدر بشار الاسد، عراقی بدر تنظیم کے سربراہ ہادی العامری اور یمن میں حوثی ملیشیا کے سرغنے عبدالملک الحوثی سے مطالبہ کیا کہ وہ قاسم سلیمانی کے قتل پر جوابی کارروائی کریں۔ فلسطین کی اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سیاسی شعبہ کے سربراہ اسماعیل ھنیہ دو روز قبل اعلیٰ اختیاراتی وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے جہاں انہوں نے اہلخانہ سے تعزیت کی ،ایران کے ایک ٹی وی چینل نے اسماعیل ھنیہ اور اسلامی جہاد کے لیڈر زیاد النخالہ کو قاسم سلیمانی کی رہائش گاہ پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے دکھایا ۔خیال رہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کو امریکی فوج نے جمعہ کی صبح کو بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کےقریب ایک ڈرون حملے میں ہلاک کردیا تھا۔ اس حملے میں کئی ایرانی اور عراقی سینیر جنگجو بھی شامل تھے جن میں الحشد ملیشیا کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس بھی شامل ہیں۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain