تازہ تر ین

ملک کے اکثر علاقوں میں آج سے بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونےکی پیشگوئی

ناگا لینڈ‘حیدر آباد‘ میسور‘ نئی دہلی(نیٹ نیوز) بھارت کی وہ ریاست جس نے اپنی الگ فوج بنا کر بھارتی فوج کیخلاف جنگ لڑنے کا اعلان کر دیا، بھارتی ریاست ناگا لینڈ نے گزشتہ برس علیحدگی اختیار کرنے اور 14 اگست کو اکستان کیساتھ یوم آزادی منانے کا اعلان کیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق بھارت کی شورش زدہ ریاست ناگا لینڈ نے اب باقاعدہ طور پر اپنی الگ فوج تیار کر لی ہے۔ناگالینڈ کے شہریوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر اپنی فوج کی تصاویر پھیلائی جا رہی ہیں اور بھارت کو پیغام دیا جا رہا ہے کہ اب ناگا لینڈ آزادی حاصل کرنے کیلئے اور بھارت سے مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔ واضح رہے کہ کشمیر پر قبضہ کرنے والا اور پاکستان کو توڑنے کے خواب دیکھنے والا بھارت خود ٹکڑے ٹکڑے ہونے لگا ہے۔بھارت کی شورش زدہ ریاست ناگا لینڈ نے گزشتہ برس خود کو بھارت سے الگ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ناگا لینڈ ریاست کی حکومت کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیاتھا کہ ناگا لینڈ اب ایک آزاد ملک ہے، جس پر بھارت نے زبردستی قبضہ کر رکھا تھا۔ناگا لینڈ 14 اگست 2019 کو بھرپور انداز میں اپنا یوم آزادی منائے گا۔ ناگا لینڈ کی حکومت اور عوام کو موقف ہے کہ ناگالینڈ کبھی بھی بھارت کے ساتھ الحاق نہیں چاہتا تھا۔ بھارت نے 1947 میں زبردستی ناگا لینڈ پر قبضہ کر لیا تھا۔ شہریت ترمیمی قانون(سی اے اے)، قومی شہریت رجسٹر (این آر سی)اور قومی آبادی رجسٹر(این پی آر) کے خلاف جمعہ کے روز شہر حیدرآباد میں بڑے پیمانہ پر ترنگا ریلی نکالی گئی۔ اس ریلی میں کئی لاکھ افراد نے شرکت کرتے ہوئے ان سیاہ قوانین کی مخالفت کی۔حیدرآباد کی بڑی عیدگاہ 1:15 بجے دوپہر نماز جمعہ ادا کی گئی اور اس کے بعد عیدگاہ میر عالم سے شاستری پورم میدان تک بڑے پیمانہ پر ریلی نکالی گئی۔ اس دوران مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ ریلی کی خاص بات یہ رہی کہ غیرمسلم افراد نے اس سے نہ صرف اظہار یگانگت کیا بلکہ اس میں شریک بھی ہوئے۔ ریلی میں موٹرسائیکلوں، بائکوں اور دیگر گاڑیوں پر سوار افراد شہریت ترمیمی قانون اور مودی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کے خلاف نعرہ بازی کر رہے تھے۔ شرکا نے اپنے ہاتھوں میں ترنگے تھامے ہوئے تھے۔ریلی کی قیادت حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین نے کی۔ اس ریلی کا اہتمام یونائیٹڈ مسلم ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا۔ لوگوں نے اپنی سہولت کے مطابق مقامی مساجد میں نماز جمعہ ادا کی جس کے بعد اس ریلی میں شریک ہوئے۔ ریلی میں مختلف جماعتوں، تنظیموں انجمنوں کے نمائندوں و اہم شخصیات، جہد کاروں، علما کرام و مشائخین شریک تھے۔جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبہ سے اظہار یکجہتی کیلیے میسور یونیورسٹی میں احتجاج کے دوران کشمیر کو آزاد کرو کے پوسٹر اٹھانے والے طلبہ پر بغاوت کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں نقاب پوش ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہونے والے طلبہ کے خلاف پولیس کی جانب سے مقدمہ درج کیا گیا اور اب ان طلبہ سے اظہار یکجہتی کے لیے بھارتی ریاست کرناٹک میں میسور یونیورسٹی کے طلبہ کی جانب سے احتجاج کیا گیا تو پولیس نے ان کے خلاف بھی مقدمہ درج کرلیا۔کانگریس کے جنرل سکریٹری پریانکا گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی کے کالے قوانین ”سی اے اے، این آر سی “ کو ختم کر دے گی، آئین سے متصادم قوانین کو ہر گز ہر گز نافذالعمل نہیں رکھا جائے گا، ایسے قوانین ملک میں بد امنی پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں، کانگریس سی اے اے کے مخالف مظاہرین کو قانونی مدد فراہم کرنے کے لئے ایک سیل قائم کرے گی تا کہ ان لوگوںکو قانون کے شکنجے سے چھڑایا جا سکے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق کانگریس کے جنرل سکریٹری پریانکا گاندھی نے جمعے کے روز مودی جی کے حلقے وارانسی پہنچی اور گفتگو کی جس میں انہوں نے اعلان کیا کہ کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی کے کالے قوانین ”سی اے اے، این آر سی “ کو ختم کر دے گی۔ آئین سے متصادم قوانین کو ہر گز ہر گز نافذالعمل نہیں رکھا جائے گا۔بھارتی سیاسی رہنماو¿ں اور سماجی کارکنوں نے نئی دہلی میں مقیم غیر ملکی سفارتکاروں کو مقبوضہ کشمیر کا ایک مخصوص اور منتخب دورہ کرانے کے بھارتی حکومت کے اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایاہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کانگریس کے رہنما منیش تیواری نے غیرملکی سفیروں کے دورے کو حقیقت کو مسخ کرنے کی ایک فرسودہ مشق قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے سے حکومت بنیادی طور پر یہ ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ کشمیر میں ہر چیز نارمل ہے جو حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 منسوخ کرنے کے بعد حکومت نے یہ فرض کر لیا تھاکہ کہ کشمیری اس اقدام کو قبول کر لیں گے ۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved