تازہ تر ین

خالد مقبول کا استعفی بلاول کی پیشکش کی کڑی دکھائی دیتا ہے،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ بہت سے فیصلے ہوتے ہیں جس میں فیصلہ کرتے وقت مختلف پہلو نہیں دیکھے جاتے۔ موجودہ آج کا فیصلہ جو ہے اس میں ان سبھی پہلوﺅں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ایک ایک بات جو ہے ریورس ہو گئی ہے جو پہلے فیصلہ پر تھی۔ بظاہر تو جنرل پرویز مشرف کی سزا ختم ہو گئی ہے لیکن جو فیصلہ سپریم کورٹ دے گا وہ فیصلہ آخری ہو گا اور اس کو من و عن تسلیم کیا جائے گا۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ ہائی کورٹوں کے فیصلے سپریم کورٹوں میں چیلنج ہوتے ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے من و عن تسلیم کئے جاتے ہیں۔ خصوصی عدالت میں جج صاحب نے جو الفاظ استعمال کئے وہ انتہا پسندی اور متشددانہ تھے اس پر بہت بحث ہو چکی ہے۔ ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی کا وزارت سے استعفیٰ کا اعلان تحریک انصاف کے لئے دھچکا قرار دیا جا رہا ہے صیا شاہد نے اس حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ انہوں نے کابینہ سے استعفیٰ ضرور دیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا ہے ایم کیو ایم وفاقی حکومت کا حصہ رہے گی۔ ان کے وزارت سے علیحدہ ہونے کا گلہ شکوہ ضرور ہو سکتا ہے اس کا مطلب ہے نہ انہوں نے اپنی جماعت چھوڑی ہے نہ ان کی جماعت نے وفاقی حکومت کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے میں نے خبروں میں سنا ہے کہ عمران خان باری باری اپنی حلیف جماعتوں سے مذاکرات کریں گے اور کوشش کریں گے کہ جو بھی مشکلات ہیں جس حد تک ممکن ہو پورا کر سکیں اور ان کی شکایات کو دور کر کے اتحادیوں کو ساتھ رکھنے میں کامیاب ہو سکیں جہاں تک میرا اندازہ ہے۔ ایم کیو ایم نے حکومت کا ساتھ نہیں چھوڑا لگتا ہے غالباً یہ اس معاملے میں کوئی نہ کوئی پیچ اپ ہو سکتا ہے۔ جہاں تک پچھلے دنوں بلاول زرداری نے ایم کیو ایم کو جو مرکز میں حکومت گرانے کی شرط پر سندھ میں وزارتیں دینے کا وعدہ کیا تھا کیا یہ اس کی کڑی ہو سکتی ہے۔ اتحادی اپنی شرائط منوانے کے لئے صوبے تو استعمال کرتے ہیں۔ اس ساری ایکسائز کے نتیجے میں اتحادیوں کی زیادہ سے زیادہ باتیں مان لی جائیں گی۔ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی جو حکومت ہے وہاں ایک ایک ووٹ کی اہمیت ہے۔ اس لئے کسی پارٹی کا باہر جانے سے کہیں بہتر ہے کہ وہ لے دے کے درمیانی راستہ نکالے مقبول صدیقی کے استعفے کو بلاول بھٹو کی طرف سے پھینکے گئے سیاسی پتے کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ بلاول بھٹو نے پیش کش کی تھی کہ ایم کیو ایم مرکز میں پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑ دے تو ہم سندھ میں ان کو وزارتیں دینے کو تیار ہیں۔ کیا بلاول بھٹو کا جو زبردست قسم کا ترپ کا پتہ ہے کیا وہ اس سلسلے میں کامیاب ہو جائیں گے یا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ کام ہو بھی گئے تو یہ زیادہ دیر چل نہیں سکے گا۔ کیونکہ اس سے پہلے بے شمار مرتبہ ہمیشہ ہی ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان مناقشت جاری رہتی ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم شہری علاقوں میں اکثریت رکھتی ہے اور اس بنیاد پر شہری اداروں پر مسلط ہونا چاہئے۔ یہ بات مرکز اور صوبے کو قابل قبول نہیں ہے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف لندن کے ایک ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں موجود ہیں لیکن ایک تصویر وائرل ہوئی ہے جس میں وہ ایک ہوٹل میں کھانا کھا رہے ہیں ان کے ساتھ شہباز اور حسین نواز بھی موجود ہیں۔ یہ کہانی سامنے آئی ہے کہ وزیراعظم نے بھی رپورٹ منگوا لی ہے۔ وہ یہاں سے گئے تھے کہ ان کے پلیٹ لیٹس کی کمی ہو رہی ہے اور کہا جاتا تھا کہ وہ خدانخواستہ کسی سیریس تکلیف میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ دل کو مرض لاحق بنایا گیا اور بتایا گیا کہ کئی اور کچھ تکالیف ہو سکتی ہیں پھر کہا گیا کہ کینسر کی تشخیص کی گئی۔ اب لوگوں کے لئے یہ حقیقت قبول کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ وہ تو ماشاءاللہ، اللہ ان کو صحت یاب کرے۔ وہ ٹھیک ٹھاک ہیں اچھے کھاتے پیتے ہیں۔ ہوٹلوں میں بیٹھتے اور لوگوں سے بھی ملتے ہیں ابھی تک جس وعدے کے مطابق لندن گئے تھے کہ دو دن کے بعد وہ بوسٹن پہنچ جائیں گے اور وہاں جا کر وہ اپنی تکلیف کا علاج کروائیں گے۔ وہ ابھی تک بوسٹن نہیں پہنچے اور شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔ اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ان کے جو میڈیکل کنسلٹنٹ ہیں ان سے رائے لی جائے۔ کہ جناب اس وقت ان کی کیا پوزیشن ہے۔ شاہ محمود قریشی کے دورہ ایران کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ماضی میں جو کچھ ہوا اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس لحاظ میں پاکستان کی کامیابی مشکل دکھائی دیتی ہے۔ موجودہ حکومت نے واضح کر دیا کہ ہم کسی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ پاکستان کی پوزیشن میں بہرحال اس قسم کی نہیں رہی۔ ماضی میں پاکستان کبھی امریکہ کبھی چین، کبھی سعودی عرب، کبھی اسلامی کانفرنس، کبھی کسی اور اتحاد کے ساتھ یہ ہمیشہ ہی کسی نہ کسی طرح سے منسلک رہا ہے۔ اب اگر واقعی پاکستان یہ معجزہ کر دکھائے کہ تو یہ بڑی اچھی بات ہو گی۔ یہ بات یقینا پاکستان کے لئے بھی اچھا ہو گا اس کا اندازہ اس وقت کر کے اور پاکستان اپنے پاﺅں پر ثابت قدمی سے قائم رہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved